
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کراچی ڈویژن کے صدر نعیم اشرف نے 12 ربیع الاول کی مناسبت سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات آج بھی انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید دنیا سائنسی اور مادی ترقی کی انتہا کو تو چھو چکی ہے مگر روحانی، اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے شدید بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام، جو عدل، رحم، مساوات اور انسان دوستی پر مبنی ہے، موجودہ دور کے تمام مسائل کا واحد اور جامع حل پیش کرتا ہے، انہوں نے. مزید کہا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظلم کے اندھیروں میں عدل کا چراغ جلایا، دشمنوں کو معاف کیا، غلاموں کو عزت دی، اور ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جس کی بنیاد تقویٰ، امانت، دیانت اور اخلاص پر تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم سیرتِ طیبہ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو معاشرے میں پھیلتی ہوئی بےحسی، بدعنوانی، عدم برداشت اور اخلاقی زوال کا خاتمہ ممکن ہے۔ نعیم اشرف نے اہلِ قلم، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ سیرتِ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی اختیار کریں، تاکہ نئی نسل کو فکری گمراہی اور اخلاقی پستی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم اور بحیثیت انسان یہ شعور حاصل کرنا ہوگا کہ سیرتِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محض تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک اور ہمہ جہت ضابطۂ حیات ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے قابلِ عمل اور نجات دہندہ ہے۔
