⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
12 ربیع الاوّل : زندگی کا چراغ
“12 ربیع الاول کا دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایمان، محبت اور روشنی کی وہ صبح ہے جس نے انسانیت کے اندھیروں کو دور کر دیا۔”
ہر سال جب 12 ربیع الاول کا دن آتا ہے تو پوری دنیا کے مسلمان خوشی اور عقیدت سے جھوم اٹھتے ہیں۔ یہ دن وہ ہے جب رحمتِ دو عالم ﷺ کی آمد نے کائنات کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا۔ یہ دن محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان کی تازگی اور روح کی روشنی ہے۔
سرورِ کائنات ﷺ کی ولادت سے پہلے دنیا ظلم، جہالت اور گمراہی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ طاقتور کمزور کو کچل دیتا تھا، عورت بے عزت تھی، غلامی عام تھی۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو بھیجا جنہوں نے انسانیت کو عزت، عدل، مساوات اور بھائی چارے کا سبق دیا۔
آج ہم سب 12 ربیع الاول مناتے ہیں، چراغاں کرتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے دل و دماغ کو بھی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی سے منور کیا ہے؟ کیا ہماری زندگیوں میں وہ دیانت، سچائی اور رحم دلی ہے جس کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی؟
حقیقت یہ ہے کہ میلاد صرف جلوسوں اور نعرے لگانے کا نام نہیں۔ حقیقی میلاد یہ ہے کہ ہم اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔ جھوٹ چھوڑیں، انصاف کریں، رحم دل بنیں اور معاشرے میں محبت پھیلائیں۔ یہی عشقِ رسول ﷺ کا اصل تقاضا ہے۔12 ربیع الاول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ اگر
ہم نے اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے معاشرے کو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھال لیا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکے گی۔
لہٰذا آئیے! اس بار میلاد النبی ﷺ کا عہد یہ کریں کہ چراغاں صرف گلیوں میں نہیں بلکہ اپنے دلوں میں بھی روشن کریں۔ اور اپنے اعمال کو ایسا بنا لیں کہ دیکھنے والا کہہ اٹھے: یہ واقعی حضور ﷺ کا اُمتی ہے۔
وہ آیا روشنی لے کر، وہ آیا رحمتیں لے کر
مدینے کی فضا خوشبو سے بھر دی مصطفیٰؐ نے

زبردست ماشاءاللہ