اصل قاتل کون؟

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

اصل قاتل کون؟


کوٹ رادھا کشن میں ہونے والا حالیہ سانحہ پورے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ محض تیس روپے کے تنازع نے دو سگے بھائیوں، واجد اور راشد، کی زندگیاں چھین لیں۔ یہ جھگڑا ایک پھل فروش کے ساتھ ہوا، بات بڑھی اور تشدد کی شکل اختیار کر گئی۔ چند لمحوں میں واجد اور راشد کو اتنی بے دردی سے مارا گیا کہ ایک موقع پر ہی دم توڑ گیا اور دوسرا ہسپتال کے اسٹریچر پر زندگی ہار گیا۔ ریاست کا جواب بھی ہمیشہ کی طرح وہی تھا۔ مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کرنے والے دونوں پھل فروش بھی ہلاک ہوگئے۔ یہ دونوں اویس اور شہزاد بھی سگے بھائی تھے۔ یوں محض تیس روپے کے جھگڑے نے ایک نہیں بلکہ دو گھروں کو اجاڑ ڈالا۔ آج دو مائیں اپنے بیٹوں کی لاشوں پر بین کر رہی ہیں۔ دو گھر غربت، بے بسی اور محرومی کی مٹی میں دفن ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ ان چار نوجوانوں کے اصل قاتل کون ہیں؟ کیا وہ پھل فروش اور اس کے رشتہ دار تھے جنہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے؟ یا وہ پولیس والے جنہوں نے اویس اور شہزاد کو مبینہ مقابلے میں ختم کر دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اسی معاشرتی اور معاشی نظام کے مارے ہوئے تھے جو عوام کو دانستہ اس سطح پر زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے جہاں انسان اپنی حیوانی جبلتوں کے سہارے ایک دوسرے پر پل پڑتے ہیں۔ اس واقعے کا دردناک پہلو یہ ہے کہ اس لڑائی میں شامل سبھی فریق ایک جیسے تھے۔ واجد اور راشد بھی غریب، اویس اور شہزاد بھی غریب، پھل فروش بھی محرومیوں کا شکار اور ویڈیو بنانے والے تماشائی بھی محروم۔ کسی نے یہ نہ کہا کہ ’’میں تیس روپے دے دیتا ہوں، چھوڑ دو جھگڑا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں معاشرتی ناانصافیوں نے انسانوں کے دلوں سے محبت نکال کر نفرت اور بے حسی بھر دی ہے۔ سب ایک جیسے زخم خوردہ تھے، سب ایک جیسے لاچار۔ مرنے والے اور مارنے والے ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں، غربت اور استحصال کی زنجیر کی۔ اصل قاتل وہ نظام ہے جو وسائل کو چند ہاتھوں تک محدود رکھتا ہے۔ جب نوے فیصد دولت اور زمین پر دس فیصد طبقہ قابض ہو، اور باقی نوے فیصد کو صرف دس فیصد پر گزارہ کرنا پڑے، تو ایسے سانحات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ یہ تیس روپے کا جھگڑا اصل میں معاشی محرومی کا شاخسانہ تھا، وہ محرومی جو روز ہمارے اردگرد خودکشیوں، چوریوں، ڈکیتیوں، جھگڑوں اور ناحق قتل کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ اس سانحے کے بعد واجد اور راشد کی ماں کچے گھر میں بین کر رہی ہے اور اویس اور شہزاد کی ماں بھی اپنے بیٹوں کی لاشوں پر روتی ہے۔ دونوں گھروں میں ایک جیسا دکھ ہے، ایک جیسی غربت ہے اور ایک جیسی محرومی ہے۔ ان بچوں کی تقدیر بھی ایک جیسی ہے: یتیمی، بے بسی اور بھوک۔ ان گھروں کا المیہ اس بات کا اعلان ہے کہ اصل دشمن کوئی فرد نہیں بلکہ وہ نظام ہے جو انسان کو انسان کے خون کا پیاسا بنا دیتا ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ چند مجرموں کو مبینہ پولیس مقابلے میں مار کر انصاف کے نام پر ڈرامہ کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ اس نظام کو بدلا جائے۔ معاشرے کی اصلاح نہ وقتی غصے سے ممکن ہے، نہ مبینہ پولیس مقابلوں سے، نہ فرد کو سزا دینے سے۔ معاشرے کی حقیقی اصلاح صرف اور صرف اس وقت ممکن ہے جب وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، جب ارتکازِ دولت ختم ہو، جب دولت اور زمین پر قبضہ کرنے والے چند خاندانوں کے بجائے یہ وسائل سب کے لیے عام ہوں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر اس سماج کو تشدد، نفرت اور بے حسی سے نکالا جا سکتا ہے۔

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

One thought on “اصل قاتل کون؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *