کرپٹو کرنسی نفع یا نقصان

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

کرپٹو کرنسی نفع یا نقصان

حصہ دوم


کرپٹو کرنسی کو سمجھنے کے لیے یہ دوسرا آرٹیکل ہے جیسا کہ پہلے آرٹیکل میں ہم نے اچھی طرح سے یہ سمجھ لیا تھا کہ کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے اور پوری دنیا میں اس کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے لیکن پاکستان کے لوگ ابھی تک اس کو تجارت کے طور پر استعمال نہیں کر پا رہے ،پوری دنیا میں زیادہ تر یه کرنسی کو ٹرانسفر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کے پیسہ بہت ہی آسانی سے کسی بھی دوسرے ملک بھیجا جا رہا ہے جس سے نہ صرف جنگی ہتھیار بلکہ اور بہت سےاس طرح کے کام کیے جارہے ہیں جو کہ اصل زندگی میں حکومت سے چھپائے رکھنا بہت مشکل ہو جاتے ہیں ۔
کرپٹو کرنسی کی اہم کرنسی یو ایس ڈی ٹی USDTہے جو کہ ڈالر کی ڈیجیٹل شکل ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ برطانیہ میں ہیں تو آپ اپنے پونڈ کرنسی یادنیا کی کوئی بھی کرنسی دے کے یو ایس ڈی خرید سکتے ہیں ،پھرکسی اور ملک میں یو ایس ڈی ٹی کو منتقل یا ٹرانسفر کیا جا سکتا ہےیا پھر اگر کسی بھی دوسرے ملک میں جا رہے ہیں تو وہاں یو ایس ڈی ٹی USDT کو بیچ سکتے ہیں اور اس ملک کی کرنسی بغیر کسی پریشانی کے آپ کی اکاؤنٹ میں، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا ہونا ضروری ہے ۔یہ چیز عام انسان سے زیادہ بڑے بڑے سمگلرز کے لیے بہت زیادہ کام آرہی ہے جو کہ کالے دھن کو حکومت کی نظروں میں لائے بغیر سفید کر رہے ہیں ۔امریکہ اور برطانیہ اور اس طرح کے کئی ملکوں میں حکومت کی طرف سے کرپٹو کرنسی کے کے استعمال پر بھی ٹیکس لاگو ہو چکا ہے تاکہ اس کرنسی کو بھی سسٹم کے تحت لایا جا سکے اور حکومت کو مکمل طور پر اس کو کنٹرول کر سکے لیکن پاکستان ابھی ابھی اس کو باقاعدہ طور پر نہیں اپنا سکا اور اس کے لیے معاشی طور پر نئے اصول و ضوابط قائم نہیں کر سکا جبکہ پاکستان میں یو ایس ڈی ٹیUSDT بہت ہی آسانی سے میسر ہیں ، لوگ لاکھوں کی تعداد میں یو ایس ڈی ٹی USDTخرید لیتے ہیں آسانی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بیچ بھی دیتے ہیں۔حکومت کے لیے اس کو کنٹرول کرنا مشکل ہے لیکن کرپٹو چلانے والی قانونی ایپسapps شناختی کارڈ اور فنگر پرنٹس لیے بغیر کسی کا اکاؤنٹ نہیں بناتی۔اس کے لیے عمر میں 18سال سے زیادہ ہونا ،شناختی کارڈ ہونایا پاسپورٹ کا حامل ہونا ضروری ہے اور اکاؤنٹ چلانے کے لیے کم از کم 100 ڈالر کا یو ایس ڈی ٹی خریدنا لازمی ہے ۔انہی ایپس appsنے مارکیٹ میں اپنے رجسٹرڈ بیچنے والے بھی نامزد کیے ہوتے ہیں جن سے یو ایس ڈی ٹی USDTمارکیٹ کے مقرر کردہ ریٹ پر مل جاتے ہیں لیکن انجان لوگ ڈالر کا زیادہ ریٹ لینے کی وجہ سے غیر ضابطہ طور پر یو ایس ڈی ٹی USDTخریدنے کی لالچ میں اپنے پیسےخطرے میں ڈال بیٹھتے ہیں، احتیاط کریں پہلے ایپس apps سیکھیں پھر استعمال کریں، اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کا خیال رکھنا آپ کے ہاتھ میں ہے۔

  • مریم ڈار سکرپٹ رائٹر ، ناول نگار، کالم و تجزیہ کار، رائٹر ، و شاعرہ ہیں

    کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہیں

    مریم ڈار کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ ایک تخلیقی کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *