⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
پاکستان دوسروں کے لیے عبرت کا نشان
قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب وہ اپنی کامیابیوں پر فخر کر سکیں اور ایسے ادوار بھی گزرتے ہیں جب ان کی ناکامیاں دنیا کے لیے مثال بن جاتی ہیں۔ آج اگر ہم دیانتداری سے آئینہ دیکھیں تو پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے دوسروں کے لیے عبرت کا نشان کہا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟
پاکستان کے پاس دنیا کا بہترین جغرافیہ، زرخیز زمینیں، قدرتی وسائل اور محنتی عوام موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل نہ ہو سکے۔ وجہ یہ نہیں کہ ہمیں اللہ نے کم نوازا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان وسائل کو منظم انداز میں استعمال نہیں کیا۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اچھی قیادت قوموں کو بحران سے نکال کر کامیابی کی شاہراہ پر ڈال دیتی ہے۔ مگر پاکستان میں قیادت ذاتی مفادات کے گرد گھومتی رہی۔ کرپشن، اقرباء پروری، اور کرسی کی جنگ نے عوام کو مایوس کیا۔ ہم نے بار بار انہی لوگوں کو آزمایا جنہوں نے کبھی سنجیدگی سے ملک کے مستقبل کا سوچا ہی نہیں۔
قانون سب کے لیے برابر ہو تو قومیں مضبوط ہوتی ہیں۔ مگر پاکستان میں طاقتور ہمیشہ قانون سے بالاتر رہا اور کمزور کو انصاف کے لیے دہائیاں دینا پڑیں۔ ادارے افراد کے تابع ہو گئے اور اصول پسِ پشت ڈال دیے گئے۔ یہ وہ نقطہ ہے جس نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان کے اندرونی ڈھانچے میں کتنی کمزوریاں ہیں۔
آج دنیا ہمیں دیکھ کر سیکھ رہی ہے کہ اگر قومی اتحاد نہ ہو، اگر کرپشن عام ہو، اگر تعلیم کو نظرانداز کر دیا جائے اور اگر انصاف کا نظام صرف کاغذوں میں رہ جائے تو پھر کوئی بھی ملک مضبوط نہیں رہ سکتا۔ ہماری حالت دوسروں کے لیے انتباہ ہے کہ وہ ان غلطیوں کو نہ دہرائیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پاکستان دوسروں کے لیے عبرت کا نشان ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قومیں اگر چاہیں تو اپنی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور سنجیدہ اصلاحات کی طرف بڑھنا ہوگا۔ تعلیم، انصاف، دیانتدار قیادت اور اجتماعی شعور وہ بنیادیں ہیں جن پر ہم ایک بار پھر اپنے ملک کو کھڑا کر سکتے ہیں۔
پاکستان آج ایک تنبیہ کی مثال ہے، مگر اگر ہم نے اپنی کوتاہیوں کو سمجھ لیا تو یہی پاکستان کل دنیا کے لیے کامیابی کا ماڈل بھی بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم عبرت سے سبق لیں، نہ کہ عبرت بننے پر اکتفا کریں۔
