غزل

غزل

ہمدرد نہیں جہاں میں کوئی مریم
تنہائی کا زہر پی رہی ہے دم بہ دم

پھولوں سے خوشبو چھن گئی صیاد کے ڈر سے
اب گلشن میں ہے خاموشی کی پرچھائیاں کم کم

یادوں کی سیاہی نے چراغوں کو بجھا ڈالا
کیا فائدہ دل رکھنے کا جب ہو دل میں ہی غم

ہر خواب ہے زخمی، ہر امید ہے برباد
منزل نہیں ملتی، نہ ہے رہبر کا کوئی نام و نم

اے درد کے صحرا! ذرا تھم جا کچھ لمحوں کو
شاید کہ اُتر آئے سکوں کا کوئی موسم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *