⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
سیلاب: پانی کا قہر یا ہماری غفلت
بارش ربّ کی رحمت ہے، مگر جب یہ بےحس اور نالائق قوموں پر برسے، تو زحمت بن جاتی ہے۔ یہ پہلا سیلاب نہیں ہے، اور غالب گمان یہی ہے کہ آخری بھی نہیں ہوگا۔ ہر سال قدرت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر پانی کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہ سب کچھ بہا لے جائے گا۔ مگر ہم ہیں کہ سبق سیکھنے کے بجائے تماشہ دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ پورے ملک کی زرخیز زمینیں ایک بار پھر پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ چاول کی فصل، جو چند ہفتوں بعد تیار ہونے والی تھی، مٹی میں مل چکی ہے۔ کپاس، جو برآمدی معیشت کی ریڑھ تھی، کیچڑ میں دفن ہو گئی۔ اور گندم، جو ہمارے گھروں کی روٹی تھی، اب فقط ایک اندیشہ بن چکی ہے۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے حکمران اب بھی اسی دائرے میں گھوم رہے ہیں، جس کا نام ہے: “امدادی پیکیج”۔ ایک وقتی مرہم، جس کے نیچے زخم سڑتے رہتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ہر سال وہی سوال کرتے ہیں، جو ہمیں پچھلے سال کے سیلاب کے بعد کرنا چاہیے تھا: کیا ہم نے کچھ سیکھا؟ کیا کسی نے منصوبہ بندی کی؟ کیا کوئی ڈیم بنایا گیا؟ کیا ندی نالوں کی صفائی ہوئی؟ کیا زمینوں کی حدبندی اور آبادکاری کا کوئی نیا خاکہ تیار ہوا؟ اور جواب ہر بار ایک سا ہوتا ہے: نہیں۔ اب جبکہ پاکستانی قوم کی نظریں موجودہ حکومت اور بالخصوص چیف آف آرمی چیف کی جانب مرکوز ہیں، تو یہ موقع ہے کہ وہ ان غلطیوں کی اصلاح کریں جو دہائیوں سے دہرائی جا رہی ہیں۔ یہ وقت بیانات یا جذباتی اعلانات کا نہیں بلکہ ایک سنجیدہ، قومی نوعیت کے فیصلے کا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر جمع کرے۔ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور پانی کو محفوظ کرنے، ڈیموں کی تعمیر، اور کسان کو ریلیف دینے کے لیے ایک جامع اور دیرپا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ سیلاب صرف ایک ماحولیاتی حادثہ نہیں، بلکہ یہ ایک قومی بحران ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں انتظامی عقل، سیاسی بالغ نظری، اور قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ کسان، جو ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے، آج بےبس و بےسہارا ہے۔ اس کے کھیت ڈوب چکے ہیں، زمین کی زرخیزی تباہ ہو چکی ہے، اور جیب خالی ہے۔ وہ کیا اگائے گا؟ ہم کیا کھائیں گے؟ یہ صرف اُس کا نہیں، ہم سب کا مسئلہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پانی نہ صرف آسمان سے برس رہا ہے، بلکہ سرحد پار سے دشمن کے ہاتھ میں ایک خاموش مگر مہلک ہتھیار بھی بن چکا ہے۔ بھارت جب چاہے ہمارے دریا روک لیتا ہے، اور جب چاہے اُنہیں کھول کر ہماری بستیوں کو بہا دیتا ہے۔ یہ خاموش جنگ اگر آج نہ روکی گئی، تو کل ہماری زمینیں صرف پانی میں نہیں، غلامی میں بھی ڈوب جائیں گی۔ موجودہ حکومتی سربراہان کو چاہیے کہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر پوری سنجیدگی سے اُٹھائیں۔ پانی کی تقسیم کا مسئلہ اقوامِ متحدہ، عالمی عدالتِ انصاف، اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر لے جایا جائے تاکہ بھارت کی آبی جارحیت کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔ یہ وقت خواب دیکھنے کا نہیں، عمل کا ہے۔ اگر ہم ہر سال یہی رونا روتے رہے کہ بارش آئی، سیلاب آیا، کھیت بہے، گھر اجڑے، تو یقین رکھیے کہ اگلے برس بھی یہی کالم لکھا جائے گا، اور ہم وہی زخم چاٹتے رہیں گے۔سوال صرف اتنا ہے: کیا ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اب ہمیں بدلنا ہے؟ یا ہم صرف انتظار کریں گے… اگلے سیلاب کا، اگلی تباہی کا، اور اگلی میٹنگ کا؟ یاد رکھیے! قومیں پانی سے نہیں، غفلت سے ڈوبتی ہیں۔ اگر آج ہم نے بند باندھنے کا ارادہ نہ کیا تو کل یہی پانی ہماری خودداری بھی بہا لے جائے گا۔
