اداکار کی موت

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

“اداکارہ کی موت ” اور”بے حس معاشرہ”مرنے والوں کا پیچھا شیطان چھوڑ جاتا ہے مگر ہم نہیں چھوڑنے والے ۔ ہمیں اپنے لائکس اور شئیرز بڑھانے کے لیے ایک ٹرینڈ بننے والے موضوع کی تلاش ہوتی ہے ۔ بدقسمتی سے وہ موضوع ہماری جھولی میں آ گرتا ہے اور ہم مہینوں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ہمیں موقع چاہیے ہوتا ہے کسی کی عزت اچھالنے کا ،کسی کے ضروری اور غیر ضروری حقائق سے پردہ اٹھانے کا۔ اور پھر ہمیں رتی برابر شرم نہیں آتی ان چیزوں کو شیئر کرتے ہوئے جنہیں ہمیں چھپانا ہوتا ہے ۔ ہم باشعور کہلانے والے بے شعوری دکھانے میں کچھ گنجائش نہیں چھوڑتے ۔ ہمیں اپنے گھر میں اپنے سارے خاندان کا شجرہ یاد کروایا جاتا ہے کہ یہ بھی آپ کے کچھ لگتے ہیں ۔مگر جب ہم اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھر جاتے ہیں تو ہمیں سننے کو ملتا ہے کہ: آپ کے بڑے بھائی نے ہمارے ساتھ یہ کیا تھا ،اپ کے باپ نے ہمارے ساتھ یہ کیا تھا ۔ یہ زہر آلود باتیں ہم کئی ایک بار برداشت کر لیتے ہیں اور پھر ایک دن ہم انہیں چھوڑ کر خاموشی سے تنہا رہنے ،جینے ،مرنے اور کسی بھی طرح کا تعلق نہ رکھنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔ہمارے ارد گرد وہ لوگ بھی رہتے ہیں جو عورت تو کیا مرد کو بھی اس کی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتے اور اگر وہ کر لے تو سے قطع تعلق کر لیتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مرد کا ایک ہی گھر ہوتا ہے اور عورت دو گھروں کی عزت ہوتی ہے . ہماری غیرت اپنی بہن بیٹی کو جیتے جی ہماری مرضی کے خلاف مگر ایک باعزت طریقے سے نکاح کرنے والے شخص کے خلاف اس قدر جاگ اٹھتی ہے کہ غیرت کے نام پہ قتـل بھی کر گزرتے ہیں ۔مگر جب اس کا انتقال ہوتا ہے تو اسے لاوارث اور کئی قسمی درندوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ کوئی بھی ہماری عزت کے ساتھ کچھ بھی کرتا پھرے ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ عورت تو دو گھروں کی عزت ہوتی ہے ۔ ہم اگر غیرت کی جگہ لفظ ہمت کا استعمال کردیں کہ ہمیں اپنی اس بیٹی کی لاش لینے کی ہمت نہیں ہو رہی ،کوئی بھی قریبی رشتہ دار اس کی آخری رسومات ادا کر سکتا ہے۔ پھر بھی لاش کی مزید بے حرمتی سے بچایا جا سکتا ہے لیکن اگر آپ نے اپنی اولادوں کو رشتہ داروں کے خلاف نہ کیا ہو تو ۔ ہمارا واسطہ کسی بھی ادارے سے پڑ جائے تو ہماری ایک مرد ہونے کے ناطے پہلی ترجیح عورت ہوتی ہے کیونکہ مرد کی بات مرد کم سنتا ہے ایسے ہی عورت کی بات عورتیں ۔ ہم آج تک یہ رائے قائم نہیں کر سکے کہ عورت کو کسی بھی شعبے میں مرد کے ساتھ کام کرنا بھی چاہیے کہ نہیں ۔ اگر ہم یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ عورت کو مرد کے ساتھ کسی بھی شعبہ میں کام کرنا چاہیے اور اپنی بہن بیٹی کو ویسی تعلیم بھی دلوا چکے ہوں تو اسے اس کے شعبہ کے انتخاب پر قطع تعلق ہرگز نہیں کرنا چاہیے ۔ کم از کم اگر وہ ہم سے الگ رہتی ہے ، اس کی گھر سے نعش ملے جس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے نہ ہی خودکـشی کے ثبوت ملیں نہ ہی جنسی زیادتی کے تو اس پر غلط تعلقات اور برائی کا الزام نہیں تھوپنا چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *