غزل

وفا کے نام پر دھوکہ تو کھا نہیں سکتی
میں اب کسی کے بھی جھانسے میں آ نہیں سکتی

خلوص نام کی کوئی بھی شے نہیں جن میں
میں ایسے میلے دلوں میں سما نہیں سکتی

مرا دوپٹہ سرا اولین تعارف ہے
اسے گنواؤں تو سر کو بچا نہیں سکتی

چناب ، کچا گھڑا اور تھل حوالے مرے
سو میں یہ اپنی محبت چھپا نہیں سکتی

میں ایک خواب ہوں اور خواب بھی زلیخا کا
مجھے خبر ہے میں یوسف کو بھا نہیں سکتی

شمائلہ میں اذیت کے ان دنوں میں بھی
گئے دنوں کی ہنسی کو چھپا نہیں سکتی

  • شمائلہ کاشف ادبی اور صحافتی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ان کے والد سعید بدر نعت گو شاعر تھے اور انہیں قومی سیرت صدارتی ایوارڈ بھی مل چکا ہے گزشتہ پچیس سال سے درس اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں مختلف سکول اور کالیجز میں پڑھاتی ہیں، ایک نجی ادارے میں ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ بھی ہیں

    Recent Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *