آج کا بھکاری: سوال کی صورت میں معاشرتی سوالیہ نشان

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

آج کا بھکاری: سوال کی صورت میں معاشرتی سوالیہ نشان

کہتے ہیں سوال کرنا خودداری کی موت ہے، مگر آج گلیوں، چوراہوں، بازاروں اور حتیٰ کہ عبادت گاہوں کے باہر بھی سوال کرتے چہرے ہمیں روز نظر آتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں کشکول ہے، کسی نے بچے کو گود میں اٹھا رکھا ہے، اور کوئی معذوری کو ذریعہ روزگار بنائے کھڑا ہے۔ مگر کیا واقعی ہر سوال کرنے والا محتاج ہوتا ہے؟ یا ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں بھیک مانگنا پیشہ اور رحم لینا کاروبار بن چکا ہے؟
آج کا بھکاری صرف ایک فرد نہیں، یہ ایک سماجی المیہ ہے جو بہت سے اسباب سے جنم لیتا ہے۔ کہیں غربت ہے، کہیں بیماری، کہیں تعلیم کی کمی، تو کہیں آسان پیسے کی چاہ۔ اور کہیں، ہاں کہیں تو یہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت چلنے والا کاروبار ہے، جہاں بچوں کو کرائے پر لیا جاتا ہے، مصنوعی زخم بنائے جاتے ہیں، اور جعلی معذوری کے سہارے دل پسیجنے کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
“وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ”
(الضحیٰ: 10)
یعنی: ’’سوال کرنے والے کو جھڑکو مت۔‘‘
یہ آیت انسانیت کا سبق دیتی ہے، مگر ساتھ ہی قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ
“وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا”
(النبأ: 11)
یعنی: ’’ہم نے دن کو روزی کمانے کا ذریعہ بنایا۔‘‘
اسلام کی تعلیمات میں محنت، خودداری، اور باعزت روزی کمانا ترجیح ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے”
(صحیح بخاری)

سوال یہ ہے کہ ہم کس ہاتھ کو ترجیح دے رہے ہیں؟
آج بھکاری کی شناخت بدل چکی ہے۔ یہ شناخت غربت کی نہیں، بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔ اگر کوئی واقعی ضرورت مند ہے تو اس کی مدد ہمارے فرض میں شامل ہے، مگر اگر کوئی صرف نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو پھر یہ ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض رحم کی بنیاد پر خیرات نہ دیں، بلکہ فکر کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ معاشرتی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ:
تعلیم اور ہنر کو عام کیا جائے
حکومت اور ادارے مستحقین کی بہتر شناخت اور کفالت کا نظام وضع کریں
پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔
اور سب سے بڑھ کر، ہم خود یہ فیصلہ کرنا سیکھیں کہ دینا کہاں ضروری ہے اور روکنا کہاں فرض ہے۔ کل کو ہمارے بچے بھی انہی فٹ پاتھوں پر ان سوالی نظروں سے گزر رہے ہوں گے۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی اس تماشے کو معمول سمجھیں؟
نہیں! تو ہمیں آج سے ہی اپنی سوچ، رویہ، اور عمل کو بدلنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *