عجب سا اک گمان تھا
وہ مجھ پہ مہربان تھا
وفا کے راستوں میں خود
میں اپنا پاسبان تھا
جسے سمجھ رھا تھا عشق
وہ بس میرا دھیان تھا
گو لاکھ دی وضاحتیں
مگر وہ بدگمان تھا
کہاں وہ شخص کھو گیا
جو دھڑکنوں کی جان تھا
جہاں میں تھک کے گر پڑا
منزل کا وہ نشان تھا
مجھ سے ہی نہ ھو سکا
وہ کام تو آسان تھا
-
زبیر احمد نے لکھنے کا آغاز ہفت روزہ بچوں کا اسلام کراچی سے کیا پھر تمام دیگر رسائل ماہنامہ ذوق و شوق تعلیم و تربیت نونہال بچوں کی دنیا بچوں کا باغ اور جگنو میں لکھنے کا سلسلہ جاری رہا تعلیم کے دوران ہی صحافت سے منسلک ہوگئے پوسٹ مارٹم گروپ آف نیوز پیپر میں کرائم رپورٹر کے طور پہ کام کیا اس کے علاوہ روزنامہ بھلیکھا ( پنجابی اخبار ) میں صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں رائل نیوز چینل لاہور میں ایڈمن آفیسر کے طور پہ 2 سال کام کیا اس کے علاوہ ماہنامہ اذان فجر ۔ ماہنامہ ذوق و شوق کے نمائندہ لاہور کے طور پہ کام کیا اینٹی ڈرگ میگزین میں سب ایڈیٹر کے طور پہ کام کیا آج کل انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز ۔این ایف سٹوڈیو کے ساتھ منسلک ہوں لاہور سمیت دیگر شہروں میں مشاعرہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے اور تاحال یہ سفر جاری ہے پہلا مجموعہ کلام تیاری کے مراحل میں ہے
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
