عجب سا اک گمان تھاوہ مجھ پہ مہربان تھا

عجب سا اک گمان تھا
وہ مجھ پہ مہربان تھا

وفا کے راستوں میں خود
میں اپنا پاسبان تھا

جسے سمجھ رھا تھا عشق
وہ بس میرا دھیان تھا

گو لاکھ دی وضاحتیں
مگر وہ بدگمان تھا

کہاں وہ شخص کھو گیا
جو دھڑکنوں کی جان تھا

جہاں میں تھک کے گر پڑا
منزل کا وہ نشان تھا

مجھ سے ہی نہ ھو سکا
وہ کام تو آسان تھا 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *