اے رب پاک اے کائنات بنانے والے

اے رب پاک اے کائنات بنانے والے
کیوں تفرقے میں پڑے ھیں یہ زمانے والے

قتل انساں سے رنگے ہاتھ چھپاتے کیوں ھیں
خون انسان کو سڑکوں پہ بہانے والے

جس میں ھر لحظہ نیا زھر اگلتی ھے زمیں
خاک ھو جائیں گے اس شہر میں جانے والے

سومنات اپنے ھی ہاتھوں سے تو تعمیر نہ کر
تیرے آباء تو تھے ھر بت کو گرانے والے

آبلہ پا ھوں مگر رک نہ سکوں گا زبیر
خود ھی تھک جائیں گے یہ مجھ کو تھکانے والے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *