⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
سیلاب سے بچاؤ کا واحد حل: ڈیم، ڈیم اور صرف ڈیم
پاکستان کی تاریخ میں جب بھی مون سون کی بارشیں شدت اختیار کرتی ہیں، ملک کے مختلف حصے سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ہر سال درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، سینکڑوں گھر بہہ جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ہر سال کی طرح جب پانی کی سطح بڑھتی ہے اور دریا اپنی حدود توڑتے ہیں، تب ایک شور سا بلند ہوتا ہے کہ ہمیں اس تباہی سے بچنے کے لیے مستقل اور مؤثر حل تلاش کرنا ہوگا۔ لیکن پھر جب پانی کا زور ٹوٹتا ہے اور موسم خوشگوار ہوتا ہے تو سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ حکومتی وعدے، منصوبے اور دعوے سب پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہہ جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب تک ہم سنجیدگی سے ڈیم بنانے پر توجہ نہیں دیں گے، تباہی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
حالیہ دنوں میں پاکستان ایک بار پھر شدید ترین سیلابی صورتحال سے دوچار ہے۔ 2025 کے مون سون نے پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ کے علاوہ شمالی علاقوں خصوصاً بونیر میں بھی تباہی مچائی۔ بونیر میں دریاؤں کے کنارے کئی دیہات زیر آب آ گئے، لاکھوں روپے کی زرعی فصلیں تباہ ہو گئیں، سڑکیں اور پل بہہ گئے اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ وہاں کے مقامی لوگ نہ صرف قدرتی آفت سے بلکہ بنیادی سہولیات کی کمی اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر سے بھی متاثر ہوئے۔ مزید برآں، بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور اس کی شاخوں میں بڑی مقدار میں پانی چھوڑنے نے سیلابی صورتحال کو اور بھی شدید کر دیا، جس نے پاکستان کے نیچے واقع علاقوں میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ سرحدی علاقوں کے باسی پہلے جنگ کے خطرات کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور اب پانی کے عذاب نے ان کی زندگیوں کو مزید مشکل بنا دیا۔ بدترین صورتحال یہ ہے کہ پانی کے رُکنے کے بعد ان علاقوں میں بیماریوں نے وبائی شکل اختیار کر لینی ہے، اور حکومت کے لیے ریلیف پہنچانا ایک کٹھن چیلنج بن جائے گا۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا دارومدار براہ راست پانی پر ہے۔ اس ملک کی زرخیز زمینوں کو سیراب کرنے والا واحد ذریعہ بارشیں اور گلیشیئرز کا پگھلتا پانی ہے، جو دریاؤں کے ذریعے میدانوں تک پہنچتا ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس پانی کو محفوظ کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے، لیکن ہم اس کا صرف 13 فیصد ہی ذخیرہ کر پاتے ہیں۔ باقی سارا قیمتی پانی یا تو سمندر میں چلا جاتا ہے یا سیلاب کی صورت میں بربادی پھیلا دیتا ہے۔ کیا یہ ناقابل معافی کوتاہی نہیں کہ ایک پانی سے محروم ملک، جو ہر سال پانی کی قلت کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے، وہ اپنے قیمتی وسائل کو ضائع ہوتے ہوئے خاموشی سے دیکھتا رہے؟
سیلاب ایک قدرتی عمل ہے، لیکن اس کے اثرات کو کم کرنا یا اس سے بچاؤ ممکن ہے اگر مناسب حکمت عملی اختیار کی جائے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا، اسی لیے انہوں نے بڑے بڑے ڈیمز تعمیر کیے، جن کا مقصد صرف بجلی پیدا کرنا یا پانی ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ سیلاب سے بچاؤ بھی تھا۔ چین کا تھری گورجز ڈیم ہو، امریکہ کا ہوور ڈیم یا بھارت کا بھاکڑا ننگل، یہ سب ڈیمز نہ صرف ان ممالک کی توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ ان کے شہریوں کو سیلاب جیسی آفات سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان نے کالاباغ ڈیم جیسے اہم ترین منصوبے کو سیاسی تنازعات کی نذر کر دیا۔ اگر یہ ڈیم آج سے کئی دہائیاں قبل بن چکا ہوتا تو شاید پاکستان کو توانائی بحران، زرعی پانی کی قلت اور ہر سال کے سیلابی نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لیکن ہمارے ہاں ڈیم جیسے قومی منصوبے بھی لسانی و صوبائی سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی منصوبے کو اس کی تکنیکی، ماحولیاتی اور اقتصادی بنیادوں پر جانچا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی نعرے بازی کے ذریعے۔
ڈیم نہ صرف پانی ذخیرہ کرتے ہیں بلکہ بارشوں اور گلیشیئر کے پگھلاؤ کے دوران اضافی پانی کو بھی روک لیتے ہیں۔ اس طرح نیچے کے علاقوں میں سیلاب آنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود پہاڑوں سے نکلنے والے دریا جب میدانی علاقوں کی طرف آتے ہیں تو ان کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے۔ اگر اس بہاؤ کو کہیں روکا نہ جائے، تو یہ آبادیوں، کھیتوں اور شہروں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ ڈیم اس قدرتی بہاؤ کو منظم کرتے ہیں، اضافی پانی کو ذخیرہ کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق اخراج ممکن بناتے ہیں۔ یوں ایک طرف پانی محفوظ ہوتا ہے، دوسری طرف سیلاب سے بچاؤ بھی ممکن ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس مزید ڈیم بنانے کی گنجائش موجود ہے؟ تو اس کا جواب واضح “ہاں” ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں بڑے ڈیمز تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ منصوبے جیسے دیامر بھاشا، مہمند، داسو اور دیگر زیر غور ہیں یا تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں، لیکن ان کی رفتار سست ہے، فنڈنگ کے مسائل ہیں یا سیاسی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اگر ہم واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں ان منصوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنا ہو گا۔ حکومت، عدلیہ، فوج اور عوام کو ایک پیج پر آ کر ڈیمز کے مسئلے کو قومی ایمرجنسی قرار دینا ہو گا۔
پانی کی قلت ایک اور سنگین مسئلہ ہے جو مستقبل میں پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ اگر پاکستان نے مؤثر واٹر مینجمنٹ نہ کی تو یہ پانی کی شدید قلت والے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ سیلاب کے دنوں میں بے تحاشا پانی بہہ جاتا ہے اور خشک سالی کے دنوں میں بوند بوند کو ترستے ہیں۔ یہ کیسی ناانصافی ہے کہ ہم اپنے ہی قدرتی وسائل کو ضائع کر کے اپنی نسلوں کے لیے بحران پیدا کر رہے ہیں؟ اگر آج ہم نے ڈیمز نہ بنائے تو کل ہمارے بچے ہمیں معاف نہیں کریں گے۔
سیلاب سے صرف انفراسٹرکچر کی تباہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے سماجی اور معاشی اثرات بھی بہت سنگین ہوتے ہیں۔ دیہاتی علاقوں میں غریب کسان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، فصلیں اور مویشی کھو بیٹھتے ہیں۔ شہروں میں کچے مکانات زمین بوس ہو جاتے ہیں، سڑکیں، پل، اسکول اور اسپتال تباہ ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ دوبارہ تعمیر کرنے میں برسوں لگتے ہیں اور حکومت کو اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اگر ان ہی پیسوں کو ڈیمز کی تعمیر پر لگایا جائے تو طویل مدتی فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ڈیم صرف سیلاب سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ سستی بجلی کی پیداوار، زراعت کے فروغ، صنعتی ترقی، ماحولیاتی توازن اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ہم مہنگی درآمدی بجلی پر انحصار کر رہے ہیں۔ ڈیمز کے ذریعے پیدا ہونے والی ہائیڈرو پاور نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ کم لاگت پر دستیاب ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف دیامر بھاشا ڈیم سے 4500 میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے، جو لاکھوں گھروں کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ ڈیم کی تعمیر آسان نہیں، اس کے لیے زمین حاصل کرنا، مقامی آبادی کو متبادل فراہم کرنا، ماحولیات کے اثرات کا جائزہ لینا اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، لیکن اگر ہم سنجیدہ ہوں تو یہ سب ممکن ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم ہر سال سیلاب سے تباہی برداشت کرتے رہیں گے یا ایک بار درد سہہ کر مستقل علاج تلاش کریں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا، سول سوسائٹی، سیاسی قیادت، ماہرین اور عوام مل کر ایک آواز میں مطالبہ کریں کہ ڈیمز کی تعمیر میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ عدالتیں اگر کسی اور معاملے پر سوموٹو لے سکتی ہیں تو وہ ڈیمز کی تعمیر میں تاخیر پر بھی قدم اٹھائیں۔ قومی سلامتی، معیشت اور عوامی فلاح کے ان منصوبوں کو کسی صورت سیاسی انا یا مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہیے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنا چاہتے ہیں، اگر ہم پانی کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اگر ہم سستی بجلی چاہتے ہیں، اگر ہم زرعی ترقی چاہتے ہیں، اگر ہم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ پاکستان دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ہی راہ اختیار کرنا ہوگی:
ڈیم، ڈیم اور صرف ڈیم۔
یہ صرف ایک نعرہ نہیں، یہ پاکستان کی بقا کا فارمولا ہے۔
