⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
وائرل گیم(سچ اور جھوٹ کا نیا معیار)
سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص کے ہاتھ میں ایک طاقت ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے نہ صرف دنیا کو قریب کر دیا ہے بلکہ عام انسان کو غیر معمولی شہرت کا موقع بھی دے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک ویڈیو، ایک جملہ یا ایک عجیب و غریب حرکت لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور کوئی بھی عام فرد راتوں رات ’’وائرل‘‘ ہو کر ستاروں کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وائرل ہونا اب ایک حادثہ نہیں بلکہ باقاعدہ کھیل بن چکا ہے، جسے ہم ’’وائرل گیم‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
اس کھیل کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہاں نہ تعلیم کی ضرورت ہے، نہ شعور کی۔ نہ تحقیق کی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے اور نہ ہی تجربے کی۔ ایک ویڈیو بنانے والا شخص جسے معاشرتی شعور یا علم کا دور دور تک واسطہ نہیں ہوتا، اچانک ’’ہیرو‘‘ کہلاتا ہے اور لاکھوں لوگ اس کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتا ہے، چاہے سچ ہو یا جھوٹ، درست ہو یا بالکل بے بنیاد، لوگ اسے ماننے پر مجبور نظر آتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اس وائرل گیم نے اصل اہلِ علم، محنت کرنے والے افراد اور وہ لوگ جو برسوں سے علم و دانش کی خدمت کر رہے ہیں، سب کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ان کی باتیں سننے والے کم ہوتے جا رہے ہیں اور شہرت حاصل کرنے والے نئے ’’انٹرنیٹ اسٹارز‘‘ آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ گویا معاشرے میں معیارِ کامیابی بدل گیا ہے۔ اب کامیابی کا مطلب ہے زیادہ سے زیادہ ویوز، لائکس اور شیئرز، نہ کہ علم، کردار یا خدمت۔
یہ صورتحال نوجوان نسل کے لیے اور بھی خطرناک ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بغیر تعلیم اور محنت کے کوئی شخص صرف ایک ویڈیو سے مشہور ہو جاتا ہے تو ان کے ذہنوں میں یہ خیال جنم لیتا ہے کہ اصل کامیابی کا راستہ تعلیم نہیں بلکہ ’’وائرل ہونا‘‘ ہے۔ یہی سوچ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔ کیونکہ معاشرے کی ترقی تب ہوتی ہے جب نوجوان علم کو مقصد بنائیں، خدمت کو نصب العین قرار دیں اور اخلاق کو پہچان بنائیں، لیکن بدقسمتی سے وائرل گیم اس کے بالکل برعکس پیغام دے رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا وائرل ہونا ہی کامیابی ہے؟ کیا شہرت حاصل کرنا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے؟ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اصل کامیابی وہی ہے جس میں سچائی، خدمت اور اخلاق شامل ہوں۔ وائرل ہونا عارضی ہے، آج کوئی اور ہے تو کل کوئی نیا ’’ہیرو‘‘ سامنے آ جائے گا۔ لیکن وہ لوگ جو اپنی محنت، علم اور کردار سے پہچانے جاتے ہیں، وہی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
آخر میں ہمیں بحیثیت معاشرہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم وائرل گیم کا شکار بنتے ہیں یا اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ کامیابی اور شہرت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سچائی اور علم کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑتی، جبکہ وائرل گیم کی چمک لمحاتی ہے۔ذرا سوچیے کیونکہ بات تو سوچنے کی ہے
