⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
سیلاب زدہ علاقے اور رفاہی تنظیموں کا کردار
پاکستان اس وقت شدید بارشوں اور دریاؤں میں آنے والے طغیانی کے باعث تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ کئی علاقے زیرِ آب آچکے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، کھڑی فصلیں برباد اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔ ایسے حالات میں جہاں حکومتی ادارے اپنی صلاحیت کے مطابق ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں، وہاں رفاہی اور فلاحی تنظیموں کا کردار بھی نہایت نمایاں اور قابلِ تحسین ہے۔سیلاب کے باعث متاثرہ خاندان نہ صرف رہائش سے محروم ہوئے ہیں بلکہ خوراک، ادویات اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات بھی ان کے لیے ناپید ہو گئیں۔ ایسے وقت میں مختلف رفاہی تنظیمیں اور فلاحی ادارے متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور اپنی مدد آپ کے تحت ریلیف کیمپ قائم کیے۔ ان تنظیموں نے متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے، خیمے اور ادویات فراہم کر کے ان کی فوری مشکلات کو کم کیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قدرتی آفت کے دوران صرف سرکاری وسائل کافی نہیں ہوتے۔ رضاکارانہ جذبہ، خدمتِ انسانیت کا جنون اور ایک دوسرے کے لیے ہمدردی ہی وہ عناصر ہیں جو قوموں کو مشکل گھڑی میں سنبھالنے کا حوصلہ دیتے ہیں اور خصوصا” ہمارے پیارے مذہب اسلام کی اس حوالے سنہری تعلیمات ہمارے لیے خوشنودی ء خداوندی کا سبب ہیں. رفاہی تنظیموں کے رضاکار، اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کشتیاں اور گاڑیاں لے کر سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچے ہیں اور بے سہارا افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید یہ کہ، ان تنظیموں نے نہ صرف امدادی سامان پہنچایا بلکہ متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے جہاں بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ کئی تنظیموں نے مقامی کمیونٹی کے تعاون سے اسکولوں اور مساجد کو عارضی ریلیف کیمپ میں بدل دیا تاکہ متاثرین کو پناہ مل سکے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی بھی قومی بحران میں حکومت اور عوام دونوں کو مل کر چلنا ہوتا ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھاتی ہے لیکن رفاہی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی اس بوجھ کو بانٹ کر ریلیف آپریشنز کو زیادہ موثر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے ہر بڑے سانحے یا قدرتی آفت میں ان کا کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کا عمل ابھی طویل ہے۔ صرف فوری ریلیف نہیں بلکہ ان کی دوبارہ آبادکاری، کھیتوں کی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، نجی شعبہ اور رفاہی تنظیموں کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت طویل المدتی منصوبہ بندی کرنی ہوگی تاکہ متاثرہ افراد ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔
