بیٹی ہونا آسان نہیں

بیٹی ہونا آسان نہیں

بیٹی ہونا ایک نعمت ہے
مگر یہ نعمت اکثر ذمہ داریوں توقعات، رسم و رواج اور روایتی بندھنوں میں کچھ یوں لپٹ جاتی ہے
کہ بیٹی اپنی ذات، اپنی خواہشیں، اور اپنا وجود — سب کہیں پیچھے چھوڑ آتی ہے۔

میں بیٹی ہوں
بابا کی آنکھوں کا نور
ماں کے دل کی ٹھنڈک
بھائیوں کی دوست
خاندان کی لاڈلی
اور سب کے لبوں پر مسکراہٹ کی وجہ

میرے قہقہے اس گھر کی رونق ہیں،
میری باتیں صحن کے در و دیوار میں گونجتی ہیں
میری موجودگی سے ماں کی تھکن مٹتی ہے
اور بابا کی پیشانی کی لکیریں لمحہ بھر کو سکون پاتی ہیں

مگر میں جانتی ہوں…
ایک دن آئے گا —
جب بابا خاموشی سے میرے ماتھے پر بوسہ دے کر کہیں گے

“جا بیٹا، اپنے گھر جا۔”

اُس دن سب کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے
ڈھول بج رہے ہوں گے
پھول برس رہے ہوں گے
مگر میرے اندر کوئی آہستہ آہستہ ٹوٹ رہا ہوگا

رخصتی کی وہ گھڑی
میری زندگی کا سب سے حسین دکھ ہوگا

میں مسکرا رہی ہوں گی…
مگر اندر سے رو رہی ہوں گی

کمرے میں آخری بار نظر دوڑاؤں گی
دیوار پر لٹکی تصویریں
تکیے پر رکھا وہ پرانا کھلونا
کتابوں کے درمیان دبی وہ ڈائری
آئینے میں جھلکتی وہ پرانی مسکراہٹ
سب کچھ مجھ سے سوال کرے گا

“جا تو رہی ہو، مگر کیا لوٹ پاؤ گی کبھی؟”

پھر میں اُس گھر کی دہلیز پار کروں گی
جہاں رشتے نئے ہوں گے، چہرے اجنبی
جہاں مجھے بہو بن کر اپنانا ہوگا،
بیوی بن کر نبھانا ہوگا
اور ماں بن کر جینا ہوگا

مگر اُس سارے سفر میں
بیٹی ہونا کہیں پیچھے رہ جائے گا

مجھے وقت نہیں ملے گا
پھر سے بابا کے گلے لگ کر رونا
ماں کی گود میں سر رکھ کر سو جانا
بھائیوں سے لڑنا، ہنسنا
اپنے کمرے میں بند ہو کر صرف خود کو جینا

کاش کوئی سمجھے…
کہ بیٹی ہونا کتنا نازک رشتہ ہے
یہ سب کا ہو کر بھی، خود کا نہیں رہتا

تو بس ایک فریاد ہے

“بیٹی ہوں، مجھے جی لینے دو
رخصتی سے پہلے مجھے خود میں سانس لینے دو
چند لمحے دے دو، جب میں صرف اپنی شناخت میں رہ سکوں
کیونکہ بعد میں، میں سب کی ہو جاؤں گی
مگر شاید کبھی خود کی نہ رہ سکوں…”

کاش معاشرہ سمجھے
کہ بیٹی صرف ذمہ داری نہیں —
وہ جذبات ہے، احساس ہے
ایک ایسا چراغ ہے جو جلتا ہے، روشنی دیتا ہے،
مگر خود اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے۔

بیٹی ہونا آسان نہیں
یہ ایک مسلسل قربانی ہے
ایک خاموش سفر ہے
جہاں آوازیں بھی دب کر رہ جاتی ہیں
اور خواب آنکھوں سے نہیں، دل سے رخصت ہوتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *