قید
نم آلود کوٹھڑی میں زنجیروں کی سرسراہٹ گویا وقت کی اذان تھی۔ وہ بے گناہ قیدی برسوں سے سورج کی کرن کا منتظر تھا۔ مگر دل کہتا: قید میں نہیں، قید تو وہ ہیں جنہوں نے مجھے یہاں ڈالا۔ وہ خواہشوں کے اسیر، حرص کے غلام، گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ میرا جرم صرف سچ تھا، اور سچ کبھی قید نہیں ہوتا۔ میں آزاد ہوں کہ ضمیر روشن ہے۔ رات گئے پہرہ دار نے قیدی کو جھانکا—وہ پرسکون مسکرا رہا تھا، آنکھیں کھلی تھیں، سانسیں بند۔ ایسا لگتا تھا جیسے موت نے نہیں، آزادی نے زنجیریں توڑی ہوں۔
-
سعید فاطمہ ایک شاعرہ، کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ایم فل زوالوجی اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ آپ کی تخلیقات روزنامہ پاکستان، ماہنامہ انسانیت اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔
افسانہ نویسی کے مقابلوں میں آپ نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شاعری، کالم اور افسانہ—تینوں میدانوں میں آپ کی تحریریں محبت، سماج اور زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
