چراغ
وہ لڑکی ایک ایسے گھر میں پلی جہاں والدین کے فرقے جدا تھے۔ دونوں اپنی راہ کو ہی حق سمجھتے اور وہ بیچ میں الجھتی رہی۔ سوالوں کے طوفان اٹھتے گئے اور راتیں مزید گہری سیاہی میں ڈوب گئیں۔ ایک شام اس نے قرآن کھولا۔ ہر لفظ چراغ کی طرح روشن ہوا اور اندھیروں میں اجالا پھیل گیا۔ آیت نے صدا دی: “فرقوں میں مت بٹو، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو”۔ اس کے دل سے پردے ہٹ گئے۔ اسے یقین ہوا کہ اصل پہچان فرقوں کی نہیں، ایمان کی ہے۔ قرآن ہی اس کا دائمی چراغ بنا۔
-
سعید فاطمہ ایک شاعرہ، کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ایم فل زوالوجی اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ آپ کی تخلیقات روزنامہ پاکستان، ماہنامہ انسانیت اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔
افسانہ نویسی کے مقابلوں میں آپ نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شاعری، کالم اور افسانہ—تینوں میدانوں میں آپ کی تحریریں محبت، سماج اور زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
