قصّے مُسافرت کے
( پارٹ 02)
ورجینیا ، نیویارک ، ٹینیسی ،یوگا اور Smoky Mountains
مجھے لگا جیسے تشریف لائیں گی تب تک شلپاشیٹھی سے تو کم نہ ہونگیں ۔
آخر اتنی یوگا کُون کر سکتا ہے جو آپ کر رہی ہیں -جب چیک کرو گھنٹہ ہوجاتا ہے پھر ڈیڑھ گھنٹہ بھی ہوجاتا ہے-خاص نظروں سے دیکھ کر کہنے لگا: اَمّاں ننانوے فیصد جھوٹ۔۔۔۔
شرمندہ تو ہوگئی تھی جیسے رنگے ہاتھوں کوئی پکڑا جائے ، جائے واردات پر ۰۰۰دراصل ذیشان اور میری ایپل واچ کنیکٹڈ ہیں -جب میں واک کروں ، چاہے پاکستان میں بھی ،یوگا کروں اسے پتہ چل جاتا ہے واک پر تو نہیں ہوسکتا البتہ یوگا پر میں اس ایپل واچ کو ڈاج کر سکتی ہوں ۔ جیسا کہ کرتی بھی رہتی ہوں ۔
ہوا کچھ یوں کہ میں اپنے کمرے اپنے پلنگ پر براجمان آرام سے اپنی طرف سے یوگا ایپ کو آن کر کے بیٹھی تھی کہ ہلکے سے دروازہ کھٹکا کر کمرے میں ذیشان میرا بیٹا داخل ہوا میں نے باتیں کرتے ہوئے کمال چالاکی سے یوگا کی آپشن بند کردی ذیشان: امّاں میں یہی چیک کرنا چاہتا تھا کہ آپ یوگا کررہی ہیں یا یوگا کے نام پر۔۔۔
پر تھوڑی سی ڈھٹائی سے بولی : میری طرف ،یہ دیکھو پورا یوگا کا آسن لیا ہوا ہے -اور تمہیں کہتا کون ہے کہ میری ایکٹیویٹز پر اتنی کڑی آنکھ رکھو ۔
دراصل اس ٹیکنالوجی نے کچھ بھی پرائیویٹ نہ رہنے دیا ،نہ اگلوں نے کسر چھوڑی نہ چالاک اس ٹیکنالوجی کی ماہر نئی نسل نے۰۰۰جھٹ سے پتہ چلا لیا کہ یوگا کا آپشن آن کرکے ماں بھول جاتی ہے اوریوں بیٹھے بیٹھے ایکسرسائز کا رنگ پورا ہو جاتا ہے ۔
آرام سے بستر پر محوِ استراحت ہوتے ہوئے بھی- اکثر تو ہلکی پھلکی ورزش کر بھی لیتی ہوں پر کبھی بھول بھی جاتی ہوں ۔
پر نیو یارک آکر پتہ چلا میری بہن تو مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے-
میرا بھانجا بتانے لگا : خالہ ! اَمّاں اپنی واچ میرے حوالے کر کے کہتی ہیں ہاتھ پر باندھو اور واک کرکے moving ringمکمل کردو ۔
کہا: ارسلان ! تم تو مجھے ششدر کئے دیتے ہو – بھلا ایسے کون کرتا ہے ؟ ارسلان: سامنے لیٹی بہن سے پوچھو ، پتہ چلا لڑکا سچ کہ رہا ہے فرزانہ جب واک زیادہ نہ کرسکے تو ایسا کرتی ہے ۔
مہرالنساء: امّاں آپ دونوں بہنیں ورزش رنگ پورا کرنے کے لئے کیوں اتنا کریزی ہیں؟
کہا : تم لوگوں کیا پتہ خودکو پُر اعتماد رکھنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ بس ایک کمینی خوشی کہ جیسے ٹام کروز سے مقابلہ چل رہا ہے مشن امپاسیبل میں اُس کی پہاڑسے ایسی خطرناک چھلانگیں دیکھ کر ، مَت ماری جاتی ہے-میں تو بس دیکھتی رہ گئی ۰
وہ مہرالنساء اور ارسلان حیران سے مسکرا دیئے کہ یہ کیا لاجک ہے !
کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کی سوچ کی پرواز زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوجاتی ہے-یہ سچائی پر مبنی سوچ آپ کو ورطۂِ حیرت میں گُم کر دیتی ہے۔
مَنداں کی فیملی جومیرے گاؤں میں عرصۂِ دراز سے محلہ کڑی علیزئی کے خان خوانین کے گھروں سے جُڑی ہے یہ صفائی وسُتھرائی اور گلیوں کوچوں میں خاکروب کے فرائض سرانجام دیتے آئے ہیں –
دراصل منداں کے بعد اُس کی بہو شمشاد محلہ کڑی علیزئی کے گھروں میں اور بیٹے کڑی علیزئی کی گلیوں میں صفائی سُتھرائی کا کام کرتے تھے ۔ یہ کرسچین فیملی ہے پر رَبّ تعالࣿی کی کرم فرمائی دیکھیں شمشاد کی بہو نسرین نے بتایا جب امّاں پر نزع کا وقت تھا اور اُکھڑی اُکھڑی سانسوں میں شمشاد نے صاف آواز میں کَلمۂِ طیبہ پڑھا اور اپنی جان خالقِ حقیقی کے حوالے کردی-کوئی پُن تو شمشاد نے کمایا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یوں اَناً فاناً یہ واقعہ کیوں یاد آگیا-
یہاں نیویارک آئے دو ہفتے توہوگئے ہیں ۔
آج ہم مڈ ویسٹ سے ہوتے ہوئے The Met
میوزیم پہنچے یہاں کا ایک طرف مشرق کا کلچر کو منظر پر لایا گیا تھا ۔ وہی دریائے نیل ، فلسطیںن، غزہ اور افریقہ کی قدیم تہذیب اور رہنا سہنا اور پھر دوسری طرف یورپ اور Native American کی تہذیب و تمدن پر میں سب دیکھ کر یہی موازنہ کرتی رہی کہ ہر دورکا انسان خواہ ہزاروں سال پہلے تھا یا آج کے دور کا جدید انسان سب نے کھانا بھی تھا ، کمانا بھی تھا اور جینا بھی تھا چاہے چارپائی نُما چیز ہو یا شاہی کاؤچ ، روشنی بھی چاہیئے تھی چاہے ننھا سا دیا ہو یا بڑے فانوس ، کھانا رکابی یا پیالے میں کھا یا جائے یا شاہی محل کی نفیس و رنگین کراکری میں ،مجسموں سے جھانکتی پُرانی تہذیبوں کی کہانیاں مجھے کبھی بھی عجیب نہیں لگتی ہیں لگتا ہے ہاں ایسا ہی ہوتا ہوگا ۔
ابھی ابھی جب میوزیم سے نکل لر سنٹرل پارک کی طرف آ رہے تھے پورا بڑا ہال دھات کے بڑے بڑے مجسموں جو فوجی لباس میں ملبوس تھے – اسلحہ سے اور پیتل کے فوجیوں سے بھرا یہ ہال دیکھ کر بے ساختہ میں نے کہا : مہرالنساء ! یہ اس میوزیم کا جی ایچ کیو ہے ۔ اب سنٹرل پارک کے اس مٹی کے چبوترے پر رکھے لکڑی لے بنچ پر بیٹھی یہ لکیریں یہ سطریں اپنی تازہ پوسٹ کاحصّہ بنا رہی ہوں بہت دل کو تروتازہ کرنے والی ہوا چل رہی ہے – مزہ آرہا ہے-
ہوا سے جھولتی درخت اور ان کی دل رُبا ہری ہری ٹہنیاں لگتا ہے میرے اعزاز میں سماں باندھ رہی ہیں ، یہ سرگوشیاں کرتی ہوا جیسے میرے اپنوں کےسندیسے میرے کانوں میں اُنڈیل رہی ہیں ۔ مجھے اپنے سارے پوتے پوتیاں شدت سے یاد آرہے ہیں میری روح چاہ رہی ہے کہ ایکبار پھر اپنے پیاروں کی ساتھ ، مریم اور ماہم دونوں کو مِس کر رہی ہوں مریمُ کی ریشمی مسکراہٹ اور ماہم کی گھنٹیوں جیسی بلکہ چائینز bell کی طرح بجتی ہنسی مجھے اپنی اَور بُلا رہی ہیں -وہ دونوں اپنے والدین کے ساتھ سکاٹ لینڈ کی پُرفضا دنیا میں پہنچے ہیں-
مجھے عبدالمالک کا بھرپور جوانی سے لبریزسنجیدہ لہجہ ، آحمد چلبلا البیلا، رافو مستانہ۰۰۰۰ ملیحہ تو محبت کی گُتھلی ہے ، فاطمہ مریم ایک جیسی سنجیدہ و مہذب محبت اورہانیہ تو گھر بھر کی جان ہے -میٹھی مٹھک چاکلیٹ۰۰۰
یہاں نیو یارک آ کر لبرٹی پارک جب بھی جاؤں ایک تو وہاں سے Statue of Liberty کا منہ متھا زیادہ واضح اور صاف دکھائی دیتا ہے-
دوسرا اس پارک سے وابستہ گانا جو شاہ رُخ اور پریٹی زینٹا پر فلمایا گیا تھا کانوں گونجنے لگا ۰۰۰۰ میں نے جسے ابھی ابھی دیکھا ہے کون ہے وہ انجانی ۔ پریٹی وومن اُسے جتنا دیکھوں اتنا سوچوں ، کیا اُسے میں کہ دوں پریٹی وومن خیر جب آپ Manhattan جائیں وہ آپ کو حیران ضرور کرتا ہے – میں تو ہوتی ہوں ہر بار ، ہر ایونیو ہر سٹریٹ گویا الگ الگ کوئی الف لیلوی دُنیا ہے ۔ ہائی رائیز بلڈنگز ایک دو ، چار پانچ یا چھ سات نہیں پورا گُچھا بھلا یہ کوئی جادونگری ہے ۔
ارسلان میرابھانجا اتنا اچھا گائیڈ ہے جو قسمت والوں کو میسر آتا ہے. اس بار بھانجے سے کہا : میں ہر بار ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کو کیوں دوسری ہائی رائز میں گڈ مڈ کر دیتی ہوں ؟ ارسلان , خالہ آج تو پہلے میں آپ ایمپائر سۓسٹیٹ بلڈنگ دکھاتا ہوں اب بھولنا نہیں یہ Manhattan کے مڈ ویسٹ میں ہے اور فریڈم ٹاور ، ون ورلڈ ٹریڈ سنٹر یہ لوئر ٹاؤن مین ہٹن میں ہے- اُڑتے پرندے جیسی دودھیا سفید بلڈنگ Oculus بھی وہیں ہے ۔ دونوں Twin Tawer کی اصلی جگہ پر مصنوعی پانی کا تالاب ہے جس کے کناروں سےہمہ وقت پانی چلتا رہتا ہے گویا زندگی کہ رہی کہ مجھے تو جینا سکھایا گیا ہے ۔ میں پیچھے مُڑ کر دیکھنے سے قاصر ہوں ۔
کبھی انگلی کے اشارے سے کبھی الفاظ کے سہارے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ رہی- پہلے تیمور بھائی بتاتے تھے یہ چائنا سنٹر ، یہ مشہور ریلوے اسٹیشن ، اب ففتھ ایوینیو سے گُزر رہے ہیں فیشن برینڈز ہیں ۔ وہ رہی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ وہ فریڈم ٹاور ، وہ وہ دنیا کی بڑی لائبریری وہ روز ہوٹل Macy کا دُنیا کا بڑا سٹور
نیویارک سٹی ایک بھرپور جگمگاتی دُنیا ہے- ہمارے ارسلان کا روشن نیویارک ، ذیشان بمع فیملی یورپ کے ٹرپ سے لوٹ آیا تو میں اور مہرالنساء بھی اس Lovers State Virginia واپس آگئے ۔
اگلے کُچھ ہفتوں بعد Tennessee کے خوبصورت شہر نیش ول جانا تھا اور اپنے بھتیجے زرک خان اور پیاری رِمشہ کے خوب صورت گھر اُن کی جنت کو دیکھنا تھا اور اُن دونوں کو ساتھ لے کر واپس Smoky Mountain چلے آئے یہ گیٹلِنبرگ میں ہے -ایک لاج پہلے سے بُک کرا لی گئی تھی-جس میں اتنی گنجائش تھی کہ بارہ لوگ آرام سے رہ لئں یہ ایک آر این بی جس میں سوئمنگ پول ، بلیئرڈ کھیلنے کا انتظام، اسٹوڈیو سینما،بڑا سا کچن اور لاؤنج جس میں ڈائننگ ٹیبل کے علاوہ دو بڑی بڑی پارٹی ٹیبلز تھیں اور سب سے بہترین یہ کہ الگ تھلگ آپ گپیں لگاؤ ، ہلہ گُلہ کرو ،باہر وہی نتھیا گلی جیسا نظارہ،لمبے لمبے پائنز کے درختوں میں چھپی کھائیاں طرح طرح کے پودوں سے بیلوں سے بھری تھیں –
ستمبر کے آخر میں خزاں رنگوں سے پہلے سبزہ اور گہرا تھا سبزہ ایسا جیسے ساواکچ مطلب کال جھواں سیاہی مائل ہرا غلاف سا اوڑھ رکھا تھا پہاڑوں نے اور اونچے نیچے راستوں نے ، جب چیئر لفٹ کی طرف جانے کے لئے لاج سے نکلے توایک گوری خاتون نے اشارہ سے روکا کہ اس تُرکی ویلی سے باہر نکلنے کو کونسا راستہ جاتا ہے ؟ مہربانی کرکے مدد کر دیں کہ میرے پاس gpsنہیں ہے- خیر مجھے لگا ایسے دو مُنّے مُنّے ڈمپلز والی بشاش و حسینہ گوری کو بھیجنے کا مقصد فطرت کو ہرطرح کی خوبصورتی سے مزین smoky mountains کی قدرو قیمت بڑھانا تھا ۔ تیمور بھائی اور زینب نے اچھے سے باہر نکلنے کا راستہ حسینہ کو بتا دیا اور بھائی صاحب نے اونچی آواز میں کہا : راستہ نہ ملے تو لوٹ آیئے گا!
تین دن اس میوزک لورز سٹی میں خوب مزہ کیا باآخر لوٹ آئے سفر لمبے تھے سب سے کم زرک و رمشہ کا تھا، پھر ہمارا ساڑھے چھ گھنٹے کا اور نیویارکرز کا تو ساڑھے بارہ گھنٹے کا سفر اب پسلیاں دُکھنے کی شکایت کررہے ہیں افروز ہماری فیملی فرینڈ نے تو اگلے دن باسٹن کا سفر بھی کیا میں نے کہا تھا۔ بھئی رات ورجینیا گُزار کر اگلے دن چلے جائیں پر اُن کے الحمزہ ریسٹورنٹ میں ضروری کام تھے-
بہرحال اکٹھے تفریح کرنے کا مزہ ہی نرالا ہےکوئی مجھ سے پوچھے جب نورِ نظر مہرالنساء بھی ہمراہ ہو۔
