سفر گل زمیں کے
قسط نمبر 03
گلبدن! بھاگو! ٹام صاحب کو دیکھو ابھی ابھی دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ہے
جی بڑی بی بی کہ کر اُس نے دوڑ لگا دی، ٹام دیوار پر چڑھ گیاتھا وہاں سے بڑی مشکل سے رام کرکے نیچے اُتارا تو گاڑی کے نیچے گھس گیا پھر کسی طرح سے اُسے نکال کر گھر لے آئے تو سانس سیدھی ہوئی-
گھر آکر ٹام اور چینی تو ایک دوسرے کو نازوادا دکھاتے رہے ہمارا وہی حال رُل تاں گئےآں چَس بڑی آئی ہے
سلورلائنز گروپ اس سدسیۂ کو بمع ُگلبدن و رضو( جو احمد و رافع کی نینی ہے) کے ٹام ایسی کسرتیں کرواتا رہتا ہے
اوپر نیچے دونوں پورشنز کےایک ایک کمرے واش رومز اور کھڑکیوں کے پردوں کے پیچھے ڈھونڈ ڈھونڈ کر باؤلے ہوجاتے ہیں تب کہیں کسی اور کونے کھُدرے سے محترم ٹام نکل آتا ہے- چینی بہت کیوٹ ہے وہ گھر سے باہر قدم نہیں نکالتی ، شاید جانتی اس زندگی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے
سلور لائنز گروپ کی ابتظامیہ بھی تو بہت سوچ سمجھ کر کوئی ریزارٹ منتخب کرتی ہے تاکہ سب قابلِ احترام ممبرز انجوائے بھی کریں روٹین سے نکلیں اور تازہ دم ہوجائیں – ہماری انتظامیہ کا منتخب کردہ ہر ٹرپ بفضلِ تعالٰی بے حد محظوظ کرنے والا اور Economical ہوتا ہے-ہربار جدت محسوس ہوتی ہے پر ہمارے گروپ کی معزز ممبران اتنی سلجھی ہوئی اور چُلبلی ہیں کہ پوری مجلس جو گاڑی میں سجی ہوتی ہے- گلاب کے تروتازہ پھول کی طرح کھل اُٹھتی ہے
کُچھ معزز ممبران چاہتے ہوئے بھی بوجہ شرکت نہ کرسکے جس کا دُکھ ہے
سمیرا زاہد اورعامرہ شہاب توجانِ محفل ٹھہریں ہماری بہت پیاری ڈی جے رابعہ نعیم کی سلیکشن تو اے وَن تھی !
.سب جھوم اُٹھے
ویسے محفل کی سجاوٹ میں شاہدہ صاحبہ، سونیا، ساجدہ انوار اور نازیہ ، حنا فاطمہ نے براہ راست حصّہ ڈالا ، ساتھی خواتین کے محظوظ ہوتے چمکتے دمکتے چہروں اور مسکراہٹوں سے ظاہر تھا سب مزے لُوٹ رہے ہیں-ہمارا یہ ٹرپ خوش مزاج کے ساتھ خوش خوراک بھی بھرپور تھا
ناشتہ گھر والوں لمبی سی ڈائنگ ٹیبل سجا دی اور ساتھ رکھی کُرسیوں پر سب براجمان ہوگئے- میز کی نیچے ایک چتکبری بلی نے تو جیسے سونیاکو چُن لیا مسلسل اُن کے پاؤں میں ان سکرٹ کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی
سونیا تھوڑی تنگ سی تو ہوئیں ر اُسے برداشت کرتی رہیں – اور بلی بیگم وہیں قدموں سے لپٹی رہی!
ناشتہ کیا زبردست تھا میلوڈی میں خاصں ناشتہ بل دار خستہ پُراٹھے، پوریاں ، اچاری چنے آلو، حلوہ اتنی بڑی شاندار تھالی تھی گرما گرم کڑک چائے سب نے ناشتہ سے خوب انصاف کیا یوں جیسے سب کو فُل انرجی مل گئی- اب پھر شہریار( Signature Adventure Trip Organisers )جو نہ صرف بہترین گاڑیاں ارینج کردیتے ہیں بلکہ کھانے پینے کاسارا اہتمام بہترین منتظم کی طرح کرتے ہیں-کیوں نہ ہو نگران بھی تو ایس پی ہیں نا
اب ہماری منزل اٹک کا قلعہ کے ساتھ پُل تھا دریائے سندھ کے کنارے یہ قلعہ شہنشاہ اکبر نے دفاعی نقطہ نظر سے بنوایا اور اٹک کا پُل جو ویو پوائنٹ (view point)بھی ہے انگریزوں کی نشانی ہے
وہاں رُکے فوٹو سیشن چلا ، وہاں سے ایک گروپ چھوٹے سے ٹیلے کے اُس پار میوزیم دیکھنے چل دیئے
وہاں آئس کریم والا لڑکا بے حد خوش تھ اپنی آئس کریم ٹرالی کو لے کو نسبتاًاونچی جگہ پر ٹھہر گیا
سب خواتین نے آئس کریم خرید کر اُس کا آج کا دن حسین بنادیا خوب اور غیر متوقع بِکری جو ہوئی گھر کتنا خوش خوش جائے گا ماں ماتھا چومے گی اور کُچھ اچھا سا کھانا بنا کر سب بچوں کو کھلائے گی
میں یہی سوچ رہی تھی کہ اب سب سلور لائنز والیاں سیٹوں پر براجمان ہوگئیں گاڑی چل پڑی ساجدہ جو میری سیٹ فیلو تھیں اپنے بُربار خوب صورت دھیمے انداز میں بتانے لگیں ، جب اُس سرخ پُل سے دونوں جانب بڑے سمندر کی سی خاموشی لئے دریا کو بہتے دیکھ رہی تھی اور شہر یا ر کو کہا کہ جب دیر سے آگے تھل اور پھر کمراٹ ویلی تک گئے تو وہ خوب صورت شربتی رنگ والا دریا جب ایک ندی کی طرح اچھلتا شور مچاتا جھاگیں اُڑاتا چلتا رہا تو پانی کی آواز وشور گھل مل سے گئے اور یہ دریائے اباسین(سندھ)تو بے حد خاموش ہے تو شہریار بولا
یہ بہت گہرا ہے اسے شور کرکے اپنا آپ منانے کی ضرورت ہی نہیں ، وہ اتھلا دریا تھا نا تبھی شور کر رہاتھا-چٹکلے بھی خوب چلے رابعہ یا سمیرا میں سےکوئی ایک تو تھا Domestic Helpers کی کمی اور اُن کے نخروں کی باتیں ہورہی تھیں کہنے لگیں کہ میرے ایک جاننے والی کے میاں کے ریلیشن میں ایک میڈ ہے جب یہ سب کہا جا رہا تھا تو دوسری دوست بولی چلو پھر بھی کتنی خوش قسمت ہے اُس کی پاس میڈ تو ہے
فقط ایک قہقہہ پڑا،اور سب سے خوبصورت و جاندار قہقہہ عامرہ شہاب کا ہوتا ہے جو مجھے بہت پسند ہے- میں سوچتی ہوں کتنی صاف گو ہیں دل کھول کر ہنستی ہیں – تو بہت معصوم لگتی ہیں
حنافاطمہ کوتو عامرہ نے اُس پر فارمنگ اسٹیج (گاڑی کے دروازہ کے پائدان کو بنا رکھا تھا)کی طرف بھیجا –
سمیرا کی انٹلیکچول صلاحیتوں کی تو ہم سب معترف ہیں پر اُس دن جو رونق لگائی مجھے تو اٹھارہ سال کی خوش مزاج حسینہ لگیں سچ میں کوئی شوخ وشنگ روح ان کے اندر محسوس ہوئی
میں خوش تھی کہ میری دوست دلنشیں تبسم اور تمنا عرشِ بریں بھی ہمراہ تھے-
ہنڈ میں یہ ریزارٹ تو بہت پُرسکون ، دلکش و بہتے پانیوں کے کنارے خوبصورت پھولوں اور ارٹسٹک سوچ کی عیاں جنت از روئے زمیں تھی۰۰۰۰
سلور لائینز
فرانسیسی کہاوت ہے کسی قوم کو دیکھنا ہو تو اُس کی عورتوں کے اقدار کو دیکھیں
سلور لائنز ممبرز کو دیکھ کر بَرت کر مجھے یوں یقین
آنے لگا ہے کہ میرا وطن ، میری قوم اس بحران سے نکلے گی اور ضرور نکلے گی اوج ِ ثریا تک جائے گی
سب بڑے خوش تھے ماحول کی خوبصورتی نے اپنے حصار میں لے لیا
صوابی میں یہ حسین و جمیل ہُنڈ کا ریزارٹ خواتین کے ٹولہ کا دل وجان سے منتظر تھاجیسے آنے والی سلور لائنز کی مہمانوں کے لئے فضا سے کہ رہا ہو
یہ سرگوشی صاف سُنائی دے رہی تھی
اے بادِ صبا ذرا آہستہ چل مہمان جو آنے والے ہیں
کلیاں نا بچھانا راہوں میں ہم آنکھیں بچھانے والے ہیں
اور اُن پختون خواہ کے واسی میزبانوں کا رویہ واقعی ایسا سیدھا سادہ اور آدابِ مہمان نوازی سے بھر پور
تھا لہ مہمانوازی پر رشک آنے لگا
مہمان نوازی میں ایک لگن وجذباتیت سی لگی مجھ ان غیرت مند پٹھان خواتین کی میزبانی کرنے میں ایسے مگن سے تھے جیسے کوئی عزیز مہمان آئے ہوں-
بے حد خوب صورتی سےبرلبِ دریا بانس کی لکڑی سے بنا ہال جس کی در دیوار اس خوب صورتی سے جُڑے تھے
جیسے کسی مصور کا خیال حقیقت کا روپ دھار لے
بانس کی لکڑیوں کو آرٹسٹک انداز میں سنوار گیا ہے درو دیوار ، چھتیں اور دروازے اچھے ذوق اور مہارت کے غماز ی کر رہے تھے
سفری نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد سلور لائنز کی مہہیلائیں کھنچی چلی آئیں جہاں لنچ ٹیبل سلاد سے سجی رکھی تھی – کٹلری و پلیٹیں رکھ دی گئیں تھیں-
اچانک پیلے بھڑوں کا چھتا اُڑ کر لنچ ہال میں پھیل گیا اور نیچی اُڑان اُڑتے پیلے بھڑ مہیلاؤں کو پریشان کرنے لگے سب باہر نکل آئیں
میں حیران ہوئی جب منجھے ہوئے میزبانوں نے اَناً فاناً دائیں باجو پر بنے بانس ایک اور ہال میں لنچ کا پورا بندبست دوبارہ ترتیب دے دیا
میلوڈی کے ناشتہ گھر کا زبردست ناشتہ ، اٹک کے ہُل اور میوزیم کی چہل قدمی میں ہضم ہوچکا تھا- گرما گرم پلاؤ ، رائتہ، قورمہ نان اور پتیری روٹیاں (مانےیعنی پتلے پتلے پُھلکے) پیپسی، سپرائٹ، اور میٹھے میں کسٹرڈ اور پھر پشاوری قہوہ پیش کیا گیا
لنچ سے بھرپور انصاف کے بعد اب دریا کا نظارا کرنے کے لئے سب کُرسیوں پر براجمان تھے ہماری چودھرائن مسسز ارشد صاحبہ کا ٹین ایجر کیوٹ پوتا دریا کی سیر کرنے کےلئے موٹر بوٹ میں بیٹھنے کو بے تاب ہوگیا سچ پوچھیں تو میرے سمیت سب دریا کی سیر کرنا چاہ رہے تھے
میں نے جب موٹر بوٹ تک پہنچنے کے راستے کے بڑے بڑے پتھر دیکھے اور تو میری تو حمدی بَکا گئی یعنی ہمت جواب دے گئی
اسی منہ سے واپس آکر اپنی دوست تبسم کے ساتھ بیٹھ گئی – جب سامنے دیکھا کہ سب ماورا ، نازیہ، سویرا،سونیا ، عفیفہ،طلعت، شاہدہ صاحبہ سب موٹر بوٹ کی طرف روانہ اب تبسم سے اُن کی بہن تمنا نے کہا : ہم بھی چلتے ہیں
دل میں سوچا اب یہ غیرت کا سوال ہے پیچھے نہ ہٹنا میں بھی ساتھ چل پڑ ی – وہاں جا کر پاؤں نے صاف انکار کردیا کہ بی بی!اپنی بالی عمریا پر ترس کھا
ایسا نہ ہو رپٹ جاؤ ، سامنے شہریار جا رہے تھے بُلایا
کہا: بیٹا ! میرا ہاتھ تھام لو آپ تو میرے بیٹوں سمان ہو – بوٹ تک پہنچا دیں
شہریار بڑا بیبا بچہ ہے کہُنے لگا: آپا! آپ لگتی تو میری اماں کی عمر کی ہیں پروہ تو آرام سے ان پتھروں پر چل لیتی ہیں
کہا: بچہ وہ پہاڑی ہیں میں میدانی ( دل میں کہا میرے اباواجداد کو سنٹرل ایشیاء سے آئے جانے کتنا سَمّے بیت گیا ۰۰۰۰ کتنی صدیاں
موٹر بوٹ میں دریا کی سیر کامزہ آگیا جی اُٹھے
پھر اب شام سی ہوچلی تھے خوب صورت مصنوعی آبشار کے ساتھ گروپ فوٹو سیشن ہوا – پھر جب واپس آنے لگے تو بتایا گیا کہ دریائےسندھ کی آعلٰی نسل کی مچھلی میسر ہے
خواتین تو خریداری کے موقع ڈھونڈتی ہیں لوجی موقع سے بھرپور فائدہ لیاگیا
ایک لان میں کُرسیوں کے ساتھ چارپائیاں بھی بچھی تھیں گاؤتکیہ بھی لگا تھا – وہیں ہماری اہم سدسیۂ محترمہ مسسز ارشد محوِ استراحت ہوگئیں –
ہم سب کو لگا کہ یکایک ایک عدد پیرنی میسر آگئی – اُن کا انداز بھی بڑی چودھرائن سے کم نہ تھا بس چلم و تمباکو کی کمی تھی
ساجدہ اُن کی پنڈلیاں دبانے لگیں – ہم سب ویسے بھی پیرنیوں اور پیروں کی تلاش میں رہتے ہیں بیٹھے بٹھائے پیرنی نے بھی خوب دُعائیں دیں وقت کم تھا مجھے لگا ابھی نذرانوں کا سلسلہ بھی شروع ہوسکتا تھا
لیکن شاہدہ صاحبہ نے بارُعب آواز میں واپسی کا اعلان کر دیا یو ں یہ تازگی اور آکسیجن کی بڑی مقدار پھیپھڑوں میں سمیٹے یہ ہنستا مُسکرٹا قافلہ جانب منزل چلا !
مگر خواتین خریداری سے نہ چوکیں ڈنبرا اور ٹراؤث مچھلی خریدی گئی –
لوجی گاتے گنگناتے ہنستے مسکراتے منزلِ مقصود اسلام آباد کے اس گو شۂ ِ عافیت نیول اینکریج
تک پہنچ گئے
وہی درخت چوک اور سلور لائنز کی مہیلائیں ایک بار پھر نئی منزل نئے ٹرپ کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے اپنے اپنے آستانے کی جانب ہولیں۔
