بابا

بابا


جب میں قلم اٹھاتی ہوں،
لفظوں کے درمیان
آپ کی انگلیوں کی گرمی
اب بھی سانس لیتی ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے
وقت نے ٹھہر کر
میری ہتھیلیوں پر
آپ کی محبت لکھ دی ہو۔

آپ کہا کرتے تھے —
“بیٹی، لفظ اگر دل سے نکلیں
تو دعا بن جاتے ہیں۔”
اور میں نے تب جانا،
کہ لکھنا بھی ایک سجدہ ہے،
جہاں نیت وضو بنتی ہے۔

مجھے یاد ہیں وہ راستے،
جہاں بائیک رُک جایا کرتی تھی،
اور آپ مسکرا کر کہتے —
“چلو، آج زمین پر چل کر
آسمان کے قریب چلتے ہیں۔”

پھر آپ مجھے
اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے،
اور دھوپ میں
آپ کی ہنسی روشنی بن جاتی تھی۔

بابا،
آپ نے مجھے نماز کی خوشبو دی،
قرآن کی نرمی دی،
حیا کی چادر اوڑھنا سکھایا،
اور رشتوں کی عزت سمجھائی۔

آپ نے کہا —
“علم ہی عورت کا زیور ہے،
اور کردار اُس کا حسن۔”
میں نے آپ کے ہر لفظ کو
اپنی روح میں لکھ لیا۔

اب جب سجدے میں جاتی ہوں،
تو لگتا ہے جیسے
آپ کے ہاتھ اب بھی
میرے سر پر دعا بن کر ٹھہرے ہیں۔

جب قرآن کھولتی ہوں،
تو ہر آیت کے کنارے
آپ کی مسکراہٹ لکھی ملتی ہے۔

میں آج بھی
آپ کے کندھے پر بیٹھی ہوں،
وقت کے اُس پار،
یادوں کی نرم روشنی میں لپٹی ہوئی۔

آپ گئے نہیں، بابا…
بس روشنی بن کر
میرے دل میں رہنے لگے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *