سابق عظیم ریاست بہاولپور کی گم گشتہ تاریخ سے ایک ورق

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

سابق عظیم ریاست بہاولپور کی گم گشتہ تاریخ سے ایک ورق

اہلیان بہاولپور نے “انصار مدینہ کی سنت کی پیروی کی ۔
سابق ریاست بہاولپور صحیح معنوں میں اسلامی اور فلاحی مملکت خداداد تھی جس کی پوری تاریخ خصوصا نواب اف بہاولپور چہارم اور پنجم کے دور میں انسانی ہمدردی اور فلاحی کاموں سے بھری پڑی ہےپاکستان کے قیام کے بعد جہاں ایک طرف نواب اف بہاولپور نے اپنی ازاد اور خود مختار ریاست کو پاکستان کا حصہ بنایا تو وہاں دوسری طرف انڈیا سے ائے ہوئے لٹے پھٹے مہاجرین کی آبادکاری و بحالی اورنواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کی فیاضی و فراخ دلی کا اعلی نمونہ ہے
سن 1953ء کے گورنمنٹ بہاولپور کے سرکاری گزٹ سے چند اقتباسات جو آپ کی معلومات کے لئے پیش ِ خدمت ہیںہمارے بہت پیارے دوست اور محقق ڈاکٹرذوالفقارعلی گاہے بگاہے تاریخ کے ان گمشدہ پنوں سے پردہ اٹھاتے رہتے ہیں گزشتہ روز واٹس ایپ پر لندن سے میں ان سے تفصیلی بات چیت ہوئی تو انہوں نے سرکاری گزٹ بہاولپور کے حوالے سے بہت ساری چیزیں عوام کی معلومات کے لیے سامنے رکھی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری سابق ریاست بہاولپور کہ اس طریقے سے اصل اسلامی اور فلاحی ریاستی تھی ۔ ریاست بہاولپور کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ مخدومزادہ سید حسن محمود کے 22 جنوری 1953ء کے بیان کے مطابق سابق ریاست بہاولپور میں 3 لاکھ 80 ہزار مہاجرین کی مستقل آبادکاری کی۔ ان 3 لاکھ 75 ہزار مہاجرین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں بحال کیا گی ان مہاجرین کو ہندووں کی چھوڑی زرعی و سکنی جائیدادیں الاٹ کی گئیں۔ مندرجہ بالا زرعی اور سکنی زمینوں کے علاوہ ایک لاکھ ایکڑ اراضی (مالیتی 4 کڑور روپے ۔ اب اس کی قیمت کھربوں میں ہے) عباسیہ کنال اور دیگر نہری توسیعات کے تحت نہایت ہی رعایتی شرائط پر الاٹ کی گئی۔ لاکھوں روپے کی رقوم قرضہ گذارہ الاونس بھی تقسیم کی گئی ہارون آباد اور بہاولنگر میں 865 مکانات جن کی لاگت 8 لاکھ روپے تھی مکمل کر کے مہاجرین کو مکان الاٹ کئے گئ ایسی کئی بستیاں چشتیاں، حاصل پور، رحیم یار خان، احمدپورشرقیہ، اور خان پور میں بھی تعمیر کی گئیں۔ مہاجرین بچوں کو وظیفہ جات دیئے جاتے اور تعلیمی فیس معاف تھی ۔ کتابیں اور کپڑے مفت فراہم کئے جاتے تھے۔ اور دیگر مراعات علاوہ تھیں ۔تعلیم یافتہ اور ہنرمند مہاجرین کو سرکاری ملازمتوں میں ترجیع دی جاتی تھی مہاجرین کی بحالی کے لئے ایک الگ وزارت قائم کی گئی جو ان کے مفاد کی پوری نگرانی کرسکے اور بااحسن طریقے سے مستقل آبادکاری کو انجام دے سکے ۔مہاجرین کی مزید فلاح و بہبود کے لئے ایک تیسرے ضلع کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو مہاجرین کی موئثر ابادکاری کے لئے ان کو ڈپٹی کمشنر بحالیات کا اضافی چارج بھی دیا گیا – سابق ریاست بہاولپور کے “لاہور” پر احسانات سابق ریاست بہاولپور کے لاہور اوربرصغیرکے اسلامی و تعلیمی اداروں کی مالی امداد، جس کے بارے میں اہل لاہور، اہلیانِ خطہ بہاولپور اور ہماری نئی نسل بے خبر۔ لاہورکے مختلف محکموں میں بیٹھے افسران اور ملازمین کی اکثریت ہمیں پس ماندہ، اور کم خواندہ تصور کرتی ہے۔ جبکہ ان کی شرح خواندگی اور تعلیمی ترقی میں اس خطے کا اہم کردار ہے۔سابق ریاست بہاولپور کے لاہور پرچند احسانات کے حوالے سے دیکھا جائے تو ان علمی اداروں کو دی گئی مالی امداد کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے یاد رہے یہ گرانٹ 1882ء سے 1955ء تک (جب سابق ریاست بہاولپور ون یونٹ میں شامل ہوئی) قریباً 74 سال تک سابق ریاست بہاولپور کی طرف سے ملی ہو تو 1955ء تک پنجاب یونیورسٹی لاہور کو سابق ریاست بہاولپور کے خزانے سے 7 لاکھ 99 ہزار 200 روپے ملے ہوں گے، جسکی آج سن 2025ء میں (جہاں 1955 ء تا 2025ء کے دوران 400 سے 600 فیصد روپے کی وائلیو گری) قریباً 32 کروڑ سے 48 کروڑ بنیں گے)
سن 1870 اور 1873 میں ریاست نے سینیٹ ہال کی تعمیر کے لیے بالترتیب 10,000 اور 25,000 روپے چندہ دیا۔
سن 1870ء میں 10 ہزار کی سن 1955ء میں 90 ہزار روپے جبکہ سن 2025ء میں اس کی حثیت 3 کروڑ 60 لاکھ سے 5 کروڑ 40 لاکھ موجودہ پاکستانی روپے جبکہ سن 1873ء کے 25000 روپے سن 1955ء میں 2 لاکھ 25 ہزار اور سن 2025ء 9 کروڑ سے 13 کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں سن 1886 میں اس نے ایچیسن چیف کالج، لاہور کے فنڈز میں 25,000 روپے کا حصہ ڈالا۔سن 1886ء میں 25 ہزار سن 1955ء میں 2 لاکھ 25 ہزار جبکہ سن 2025ء میں 9 کڑور سے 5۔13 کروڑ بنتے ہیں۔ (سن 1882 میں، نواب بہاولپور نے انجمن اسلامیہ امرتسر کو سالانہ 200 روپے، مظہر العلوم، سہارنپور کو 240 روپے، اور انجمنِ اسلامیہ لاہور کو 2000 روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا۔)سن94 – 1893ء میں نواب نے انجمن حمایت اسلام، لاہور میں ہر ایک کے لیے ماہانہ 5 روپے کے حساب سے 10 وظائف (جنہیں “لانس ڈاؤن-بہاولپور وظائف” کہا جاتا تھا) قائم کیے۔ (سن 1955ء میں 5 روپے کی حیثیت 45 روپے تھی جبکہ یہ سن 2025ء میں 18 ہزار سے 27 ہزار روپے بنتے ہیں) یاد رہے یہ سکالرشپ سن 1893ء سے 1955ء مسلسل سابق ریاست بہاولپور سے جاری رہا۔ انجمن نعمانیہ، لاہور کے عربی مدرسے کو بھی ریاست کی طرف سے سالانہ 600 روپے کی گرانٹ ملتی تھی۔اہم نوٹ: روپے کی ویلیو کا اندازہ شرح افراط زر کے حساب کے مطابق کیا گیا۔ اگر یہ سونے کی قیمت سے لحاظ سے کیا جائے تو موازنہ حیران کن کئی گنا زیادہ ہوگا۔ سونا کی قیمت ان دوستوں کی نذر جو ان حیران کن اعداد و شمار سے حیران ہونا چاہتے ہیں۔ جب میں نے سونے کی قیمت کے لحاظ سے موازنہ کیا تو میری انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ سونے کی قیمت سن 1870ء میں 18 روپے 93 پیسے فی تولہ، سن 1873ء میں ایک پیسہ کے اضافے سے 18 روپے 94 پیسے، جو سن 1892ء تک مستحکم رہا، جبکہ سن 1893ء میں دو پیسے اضافہ سے 18 روپے 96 پیسے ہو گئی،
سابق ریاست بہاولپور کے علم دوست اور عوام دوست والیانِ سابق ریاست بہاولپور کی اپنے علاقے میں تعلیم کے فروغ، تعلیمی اداروں کی سرپرستی اور عوام کو بلا امتیاز رنگ و نسل، زنان و لسان، مذہب و مسلک، تعلیم کی یکسان مواقعوں کی فراہمی کی جاتی ریی
، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو مالی امداد، بہاولپور بلاک کی تعمیر، پنجاب یونیورسٹی کو ذاتی زمین کا عظیہ، “بہاولپورہاوس” جی او آر 2 ہے۔ یہ نواب آف بہاولپور کی جاگیر تھی جس میں بڑی بڑی محل نما حویلی اور باغات تھے، جہاں آجکل گورنمنٹ ملازمین کے بنگلے، رہائش گاہیں اور کواٹرز ہیں، غلام قوم کے ادارے اور آقاؤں سے بلاوجہ منسوب نام میو ہسپتال لاہور اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میو ہسپتال کے بارے میں ضلع قصور کے ایک میو نے بڑے فخر سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ ہسپتال میو برادری نے چندہ اکٹھا کرکے بنایا تھا اسی لیے اس کا نام میو ہسپتال ہے اور یہاں ہر میو کا علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔ اس نام سے اسی طرح کے اور قصے بھی منسوب کیے جاتے ہیں ۔
آیئے آج آپ کو اس ہسپتال اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے قیام کی اصل کہانی سناتے ہیں ۔اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے راجوں مہاراجوں اور عوام کے چندے سے بننے والے ہسپتال اور میڈیکل کالج پر انگریزوں کے نام کے لیبل کیسے لگ گئے؟ کنگ ایڈورڈ ہفتم ملکہ برطانیہ وکٹوریہ کا بیٹا 1901ء سے اپنی وفات یعنی 1910ء تک حکمران رہا۔
انارکلی بازار کے باہر مسجد نیلا گنبد کے سامنے شہریان لاھور نے 1860ء میں لاہور میاں میر میڈیکل سکول قائم کیا جو 1868ء میں نہ جانے کیوں لاہور میڈیکل سکول بن گیا (پتہ نہیں حضرت میاں میر علیہ الرحمہ سے کسی کو کیا دشمنی تھی، ان کا نام کیوں ہٹا دیا گیا) 1871ء میں انارکلی ڈسپنسری کا اس میڈیکل سکول الحاق ہوا اور ڈسپنسری میں توسیع کر کے اس کا نام وائسرائے ہند رچرڈ بورکے ایرل آف میو نے اپنے نام پر لارڈ میو ہسپتال کر دیا تھا۔ ہسپتال کی تعمیر پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے، 4 آنے اور 2 پیسے خرچ آیا جس میں ایک کھوٹا سکا بھی برطانوی حکومت کا نہیں تھا۔
8 فروری 1872ء کو لارڈ میو کو جزائر انڈیمان کے دورے کے دوران ایک پختون حریت پسند شیر علی آفریدی نے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا، آفریدی کو 32 دن بعد 11 مارچ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
آپ دیکھ لیں کہ نواب آف بہاولپور کے ڈیڑھ لاکھ، مہاراجہ کپورتھلہ، مہاراجہ نابھہ، نواب آف فریدکوٹ، مہاراجہ جنڈ، مہاراجہ پٹیالہ کی خطیر چندے کے علاوہ لاھور، گوجرانوالہ، امرتسر، لائلپور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور دھلی کی عوام نے مل کر چالیس لاکھ کی لاگت سے نئی عمارات تعمیر کیں۔ اس چالیس لاکھ روپے کی رقم میں سے اٹھارہ لاکھ عوامی چندے سے اکٹھا ہوا۔اور سب سے بڑھ کر عباسی حکمرانوں نے اپنی مملکت ازاد ریاست بہاولپور کو انڈیا کی بجائے پاکستان میں شامل کر کے اپنی اسلام پسندی کا واضح ثبوت پیش کیا مگر اج ہماری حکومتیں ان عباسی خاندان کے ساتھ کیا کر رہی ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔

  •    شیخ عزیز الرحمن احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور سے تعلق گزشتہ 35 سال سے مختلف اخبارات میں ارٹیکلز اور فیچر رائٹنگ خصوصی طور پر علاقائی ثقافت اور ہسٹری کے اوپر کافی سیر حاصل مضامین شائع کرائے گئے ہیں پہلی کتاب مشاہیر ریاست بہاولپور 2018 میں شائع ہو چکی ہے جس میں سابق ریاست بہاولپور کے 134 شخصیات کے بارے میں مضامین ہیں دوسری کتاب بغداد ثانی سرگزشت بہاولپور پرنٹنگ کے مراحل میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *