⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
قومی تعمیر و ترقی میں سماجی تنظیموں اور رضاکاروں کا کردار
دنیا کی ترقی یافتہ اقوام پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ قومی تعمیر و ترقی کا سفر صرف حکومت اور ریاستی اداروں کے دم سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس میں عوامی شمولیت اور خدمتِ خلق کا جذبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ سماجیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جہاں حکومت پالیسی سازی اور وسائل مہیا کرتی ہے، وہیں سماجی تنظیمیں اور رضاکار اس عمل کو زمینی سطح پر کامیاب بناتے ہیں۔
سماجی تنظیمیں معاشرے کے ان گوشوں پر نظر رکھتی ہیں جہاں ریاستی ادارے فوری طور پر اپنی موجودگی یا سہولتیں فراہم نہیں کر پاتے۔ تعلیم کے شعبے میں یہ تنظیمیں ایسے اسکول قائم کرتی ہیں جو پسماندہ دیہی علاقوں میں علم کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ صحت کے میدان میں فری میڈیکل کیمپس، موبائل ڈسپنسریاں اور مریضوں کے علاج کے لیے مالی تعاون جیسے اقدامات سماجی خدمت کی بہترین مثال ہیں۔ اسی طرح یتیم بچوں کی کفالت، بیواؤں کی مدد، صاف پانی کی فراہمی، ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مہمات اور خواتین کے حقوق کی بحالی جیسے اقدامات ان تنظیموں کو معاشرے کا لازمی جزو بنا دیتے ہیں۔
رضاکار ان سماجی تنظیموں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو کسی ذاتی مفاد یا انعام کے بغیر، محض خدمتِ خلق کے جذبے سے آگے بڑھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی قدرتی آفت نازل ہوئی — چاہے وہ 2005 کا زلزلہ ہو، 2010 کا سیلاب یا حالیہ برسوں کی تباہ کاریاں — رضاکاروں نے سب سے پہلے متاثرہ عوام تک پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان کی خدمات یہ پیغام دیتی ہیں کہ ایک زندہ قوم وہی ہے جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے۔
قومی ترقی صرف بڑے منصوبوں یا صنعتی ترقی سے ممکن نہیں۔ ترقی یافتہ معاشرے کی اصل بنیاد ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور باشعور عوام ہے۔ سماجی تنظیمیں اور رضاکار اسی سمت کام کرتے ہیں۔ وہ معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دے کر انہیں قومی دھارے میں شامل کرتے ہیں۔ غربت کے خاتمے اور سماجی انصاف کی فراہمی کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے سماجی تنظیمیں پُر کرتی ہیں۔
پاکستان میں کئی سماجی ادارے عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن، جس نے خدمتِ خلق کو عبادت بنا کر یتیموں، مریضوں اور بے سہارا افراد کے لیے نئی امید پیدا کی۔ اخوت فاؤنڈیشن نے بلاسود قرضوں کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو خود کفیل کیا۔ یہ ادارے اور ان جیسے دیگر ادارے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جب نیک نیتی کے ساتھ خدمت کی جائے تو ایک فرد یا ادارہ بھی لاکھوں دلوں میں اُمید کی کرن جگا سکتا ہے۔آج وطن عزیز پاکستان کو کئ ایک مسائل اورچیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے اسی طرح عوام کو بھی یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ خدمتِ خلق کوئی دوسروں پر احسان نہیں بلکہ یہ دراصل اپنے وطن اور اپنی آنے والی نسلوں پر سرمایہ کاری ہے۔
قومی تعمیر و ترقی کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے حکومت، ادارے، سماجی تنظیمیں اور عوام سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔ سماجی تنظیمیں اور رضاکار وہ روشنی ہیں جو اندھیروں میں امید جگاتے ہیں۔ ان کے بغیر ترقی کا سفر ادھورا ہے اور ان کے ساتھ یہ سفر نہ صرف ممکن بلکہ آسان بھی۔ اگر ان کی صلاحیتوں اور جذبوں کی قدر کی جائے تو پاکستان دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں شامل ہو سکتا ہے۔
خدمت کا جو سلیقہ ہو ہاتھوں میں تمہارے
روشنی پھیلتی ہے اندھیروں کے کنارے
یہ وطن ہم سب کا ہے، ہم سب اس کے معمار ہیں
اپنے حصے کی خدمت سے ہی اس کے پہرے دار ہیں
