⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
تعصب کی دیواریں گرا دو
حال ہی میں یہ خبر دنیا بھر میں گردش کرتی رہی کہ پاکستانی نژاد مسلم خاتون شبانہ محمود برطانیہ کی وزیرِ داخلہ بن گئی ہیں۔ اس خبر پر پاکستان میں بڑے فخر اور خوشی کا اظہار کیا گیا۔ ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا اور محفلوں میں یہ جملہ بار بار دہرایا گیا: “دیکھیے! ہمارے ہم مذہب لوگ برطانیہ جیسے ملک میں کہاں کہاں پہنچ گئے ہیں۔” یہ خوشی بجا ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی آئینہ دیکھنے کی کوشش کی ہے؟ کیا ہم نے سوچا کہ برطانیہ میں ایک مسلمان عورت وزیر داخلہ بن سکتی ہے اور ایک مسلمان مئیر لندن بن سکتا ہے مگر پاکستان میں کسی غیر مسلم کے لیے ایسی مثال ممکن بھی ہے؟ پاکستان میں صورتحال بالکل الٹ ہے۔ یہاں مذہبی اقلیتوں کو نہ صرف معاشرتی رویوں میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ آئینی طور پر بھی ان پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ ہمارے آئین کے مطابق غیر مسلم پاکستانی شہری صدر، وزیراعظم، وزارتوں اور اہم ملکی عہدوں پر نہیں پہنچ سکتے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے اسمبلیوں میں صرف مخصوص نشستیں مختص ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی غیر مسلم سیاسی جماعت بنائے، محنت کرے، عوامی ووٹ لے اور اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر کامیاب ہو بھی جائے، تو پھر بھی وہ اعلیٰ مناصب اور زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ جمہوریت ہے؟ یہ حقیقت ہمارے لیے ایک کھلا تضاد ہے۔ ایک طرف تو ہم یورپ اور امریکہ کی مثالیں دے کر خوش ہوتے ہیں کہ وہاں مسلمان کس طرح ترقی کرتے ہیں، دوسری طرف اپنے ہی ملک میں اقلیتوں کو محض چند مخصوص نشستوں تک محدود کر کے یہ پیغام دیتے ہیں کہ “تم شہری تو ہو، مگر برابر کے شہری نہیں ہو۔” یہ رویہ نہ صرف انسانی وقار کے خلاف ہے بلکہ ریاستی انصاف اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ہمیں دکھایا ہے کہ اصل طاقت مساوات میں ہے۔ امریکہ میں کبھی سیاہ فام افراد کو ٹرین کے ڈبوں میں الگ بٹھایا جاتا تھا، مگر آج وہ صدر اور نائب صدر بن چکے ہیں۔ بھارت، جسے ہم اکثر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، وہاں ایک مسلمان صدر رہا، ایک سکھ وزیراعظم رہا، اور عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اہم وزارتوں پر فائز رہے۔ یورپ میں مذہب کے نام پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی۔ پھر ہم کیوں پیچھے ہیں؟ ہم کیوں اپنی ہی قوم کے ایک حصے کو صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر محروم رکھتے ہیں؟
یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ اقلیتیں اعلیٰ عہدوں تک پہنچ کر کیا کریں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر وہ پاکستانی ہیں، محبِ وطن ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، فوج اور اداروں میں خدمات انجام دیتے ہیں، تو پھر ان کے لیے قانون اور آئین کی راہیں کیوں تنگ کر دی گئی ہیں؟ کیوں انہیں صرف “مخصوص نشستوں” پر بٹھا کر نمائندگی کا تاثر دیا جاتا ہے؟ نمائندگی وہی معتبر ہے جو عوامی ووٹ سے آئے، نہ کہ کسی مخصوص کوٹے پر۔ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو ہمیں ان امتیازی قوانین کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہر شہری، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت، پنجابی ہو یا سندھی، پشتون ہو یا بلوچی، سب کو برابر کے مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔ ترقی اور انصاف کا یہی اصول ہے۔ شبانہ محمود برطانیہ کی وزیر داخلہ بن گئیں، صادق خان لندن کے مئیر ہیں یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ جہاں برابری ہوتی ہے وہاں صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ پاکستان کو بھی اب یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کب تک اپنے ہی شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری بنائے رکھیں گے؟ کب تک ہم صرف دوسروں کے ملک میں اپنے ہم مذہبوں کی کامیابی پر خوش ہوں گے اور اپنے ملک میں تعصب کو آئین کا حصہ بنائے رکھیں گے؟ اگر ہمیں واقعی ایک ترقی یافتہ، انصاف پسند اور باوقار معاشرہ بننا ہے تو ہمیں یہ تعصب کی دیواریں گرا کر سب کے لیے برابری کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ کیونکہ کوئی بھی قوم انصاف اور مساوات کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور کوئی بھی آئین جو اپنے شہریوں کے درمیان تفریق کرے، انصاف کا آئین نہیں ہو سکتا۔
