⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
غصے پر کیسے قابو پائیں
ہمارے ارد گرد جو حالات اور واقعات جنم لے رہے ہیں ان کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ اس موضوع سے جڑا ہوا ہے معاشرے کا سرد رویہ اور دل دہلا دینے والے واقعات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اور جس کو خدا نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور عقل کی بنیاد پر تمام مخلوقات سے بالاتر بنایاجب وہ غصے میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے تو قتل جیسے گھناؤنے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے وہ غصہ ہی تھا کہ جس نے سوچے سمجھے بغیر ثنا یوسف جیسی معصوم اور بے گناہ لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا یہ بھی غصے کی ہی ایک شکل ہے کہ حمیرہ اصغر کی لاش مہینوں اندھیرے اور تنہا فلیٹ میں چیخ چیخ کر اس کے والدین کی لاعلمی اور لا تعلقی کا بین کرتی رہی۔۔۔۔۔ کیا یہ غصے کی ہی ایک شکل نہیں ہے کہ باپ اور بھائی بہن کی لاش تک کو دیکھنے کے روادار نہیں آخر ایسا کیا ہو سکتا ہے کہ ماں باپ کا دل اولاد کی طرف سے اس قدر پتھر ہو گیا ؟حالات جو کوئی بھی ہوں آج تک اولاد غلطیاں کرتی آئی ہے اور والدین معاف کرتے رہتے ہیں۔ اس قوم میں فنون لطیفہ کا فقدان ہوتا ہے فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے انسانی احترام ادبیت کو جانتے ہیں لہذا ان میں کرائم ریٹ نسبتًا کم پایا جاتا ہے۔۔ ابو الحسن خاقانی جن سے ناقابل علاج مریض بھی تندرستی پاتے تھے رواداری اور صبر کی منازل سے گزر کر ہی اس درجے پر پہنچے تھے۔۔ پشاور جیل کے 302 مجرمین کی دیوار پر کسی نے لکھا تھا کہ:-
“پانچ منٹ کے غیرت مند چودہ سال کی بے غیرتی کے لیے خوش آمدید” ۔۔
کوئی شخص بجملہ ہوش و حواس کیسے غصے کی رو میں اس قدر بہہ جاتا ہے ؟انسان جتنی بھی لطافت ، نرمی ملاحت ، متانت اور لطافت کے ساتھ رہے گا زندگی کانٹوں کی نہیں بلکہ واقعی پھولوں کی سیج بن جائے گی یہ سب انسان کے اپنے بس میں ہوتا ہے انہوں نے پرائم ٹائم ٹی وی ڈراموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ڈراموں کا زیادہ تر موضوع طلاق ہے یہ ہماری نوجوان نسل کو طلاق کھلا رہے ہیں اور طلاق ہی پلا رہے ہیں اس طرح کے پیغامات نہ تو ہماری روایت کا حصہ ہیں اور نہ ہی ہمارے مذہب کا حالانکہ ہم تو مرتے دم تک نبھانے والی قوم ہیں۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے جس میں انسان کے ہوش و حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور جذبات کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں ہم اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ غصہ کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے میرے ہاتھ میں ایک دہکتا ہوا انگارہ ہو اور میں اسے آپ پر پھینکنا چاہ رہا ہوں اب یہ ممکن ہے کہ آپ تو دائیں بائیں ہو کر خود کو بچا لیں لیکن جتنی دیر میرے ہاتھ میں وہ انگارہ رہے گا مجھے تو یقینًا، اس کا نقصان ہوگا کیونکہ کچھ دیر تو انگارہ میرے ہاتھ میں رہا اور اس نے میرا ہاتھ جلا بھی دیا ۔حضرت واصف علی واصف نے کہا ہے کہ :-
“اعلی ظرف انسان کا غصہ اس کو بنا جاتا ہے جبکہ کم ظرف انسان کا غصہ اسے برباد کر دیتا ہے” یہ بہت ہی عجیب بات ہے کہ ہم زندگی کے ہر میدان میں انفرادی اور اجتماعی طور پر اکثر غصے کی حالت میں رہتے ہیں خواہ وہ سیاست کا میدان ہو معیشت کا ہو یا پھر ٹاک شوز۔۔ کسی قسم کی گفتگو کے دوران ناراضگیاں اور پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں اسی کی ایک حالت تو یہ ہے کہ فوری رد عمل کیا جاتا ہے اور دوسری میں کوئی منفی تاثر دے دیا جاتا ہے لیکن اسلام میں سب سے بہترین اور بلند درجہ غصے کو پی جانے والے کا ہے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بارہ منٹ کے لیے بالکل خاموش ہو جائیں اور اس جگہ سے چلے جائیں یعنی اپنی پوزیشن بدل لینی چاہیے اگر کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں اور اگر بیٹھے ہیں تو کھڑے ہو جائیں یا پھر گھر سے باہر چلے جائیں ایک اہم اور قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ہمیں غصہ آتا ہی اپنے سے کم تر پر ہے ہم اپنے افسران کی تو ہر بات برداشت کر لیتے ہیں ان کے معاملے میں ہمارا غصہ اور قوانین کیوں بدل جاتے ہیں؟ اپنے سے کم تر کی تو صحیح بات بھی برداشت نہیں کرتے جبکہ اعلٰی افسران اور زیادہ حیثیت والے کی غلط بات کو سن کر بھی چپ کر جاتے ہیں اس وقت یہ غصہ ہم پر حاوی کیوں نہیں ہوتا اور ہم کیوں اس بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ یہ تو ہے ہی غلط ۔۔۔غصہ بہت سی بیماریوں کی وجہ بھی بنتا ہے مثلاً اکثر بہت زیادہ غصیلے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے اس کے علاوہ گردوں کے مسائل، دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا، نیند کا نا آنا اور سینے میں کھچاؤ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔۔۔ شکر کرنا ، معاف کر دینا اور صبر کرنا یہ وہ عمل ہیں جو غصے کی علامات کو کافی حد تک ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اللہ کی رضا کی خاطر معاف کرنا سیکھیں اور اس کی رضا پر راضی رہتے ہوئے صبر کا دامن کبھی نہ چھوڑیں اور ہر حال میں اس کا شکر بجا لائیں ۔اگر ہم الحمدللہ کہنے کی عادت کو اپنا لیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں اللہ فرماتا ہے کہ :-
“میرے سامنے جھک جاؤ تو میں ساری دنیا کو تمہارے سامنے جھکا دوں گا”
