آزاد فضاؤں کے قیدی

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

آزاد فضاؤں کے قیدی

ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں، جہاں بظاہر سب کچھ آزاد ہے۔ پرندے فضاؤں میں اڑتے ہیں، ہوائیں بے لگام چلتی ہیں، دریا اپنے راستے خود بناتے ہیں، اور انسان؟
وہ سب سے زیادہ آزاد ہونے کے باوجود سب سے بڑا قیدی بن چکا ہے۔ اس کی زنجیریں لوہے کی نہیں بلکہ سوچ کی ہیں، نظریات کی ہیں، رسم و رواج کی ہیں، اور سب سے بڑھ کر خود اس کے اپنے نفس کی ہیں۔ یہی انسان جو آزاد فضاؤں میں جیتا ہے، درحقیقت قید خانۂ دنیا کا ایسا مکین بن چکا ہے جو خود کو آزاد سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہے۔
ہم نے ترقی کی، زمانہ جدید کی طرف بڑھے، ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہو گئے، مگر اس سب کے باوجود اندر سے خالی ہو گئے۔ ہم نے اپنے دلوں کو قفل لگا لیے، جذبات کو قید کر دیا، سچ کو پردوں میں چھپا دیا، اور نفس کو اپنا حکمران بنا لیا۔ آج انسان جسمانی طور پر آزاد ہے مگر روحانی طور پر زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ سچ بولنے سے ڈرتا ہے، محبت کے اظہار سے جھجکتا ہے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے کتراتا ہے۔ وہ معاشرے کی زبان بولتا ہے، مگر اپنے دل کی نہیں سنتا۔
آزادی کا مفہوم ہم نے بدل دیا ہے۔ ہمارے لیے آزادی اب بے راہ روی کا نام ہے، حدود سے تجاوز کرنے کا بہانہ ہے، روایات اور اقدار کا مذاق اڑانے کی اجازت ہے۔ ہم نے اخلاقی آزادی کو فراموش کر کے خودغرضی کو اپنا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جتنا شور کریں گے، جتنا بولیں گے، جتنا ظاہر کریں گے، اتنے ہی آزاد ہوں گے۔ مگر سچ یہ ہے کہ اندر کا سکوت، روح کی خاموشی، دل کا اضطراب، یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم آزاد نہیں، بلکہ آزاد فضاؤں کے قیدی ہیں۔یہ قید اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب ہم بچے ہوتے ہیں۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ یہ کہنا ہے، یہ نہیں کہنا۔ یہ پہننا ہے، یہ نہیں پہننا۔ یہ سوچنا ہے، یہ نہیں سوچنا۔ آہستہ آہستہ ہماری شخصیت، ہماری شناخت، ہمارے خواب، سب کچھ سماج کے سانچے میں ڈھال دیے جاتے ہیں۔ ہم وہی بن جاتے ہیں جو دوسروں کو پسند ہو، اور وہ نہیں جو ہم بننا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہشیں، ہماری آرزوئیں، سب معاشرے کی مرضی سے طے پاتی ہیں۔ ہمارے رشتے، ہماری محبت، یہاں تک کہ ہماری عبادت بھی دکھاوے کی زنجیروں میں جکڑ جاتی ہے۔انسان نے خود کو مصنوعی خوشیوں میں قید کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا کی چکا چوند، برانڈز کی دوڑ، شہرت کی طلب، اور دنیا کو دکھانے کے لیے جینے کی لگن یہ سب ہمیں خود سے دور لے جا چکی ہیں۔ ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، مگر اپنے اندر جھانکنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم دوسروں کے لیے جیتے ہیں، ان کے اصولوں پر چلتے ہیں، ان کی رائے سے ڈرتے ہیں، ان کی تعریف کے محتاج ہیں۔ کیا یہ آزادی ہے؟ ہرگز نہیں! یہ تو غلامی کی بدترین شکل ہے، جو ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی جا رہی ہے۔اصل آزادی تب ملتی ہے جب انسان سچائی کو اپناتا ہے، جب وہ اپنی ذات کو پہچانتا ہے، جب وہ اللہ کے دیے ہوئے اصولوں کو تسلیم کرتا ہے۔ روح کی آزادی تب حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے، خواہشات کی غلامی سے نکل کر رب کی بندگی کو اختیار کرتا ہے۔ وہ جو اپنے دل کی آواز سنتا ہے، حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور باطل کے خلاف لڑتا ہے، وہی اصل میں آزاد ہے۔مگر افسوس کہ آج ہم نے اپنے ضمیر کو سلا دیا ہے، دل کو پتھر بنا لیا ہے اور روح کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ہم خوش نظر آتے ہیں، مگر بے سکون ہیں۔ ہم ہنستے ہیں، مگر دل رو رہا ہوتا ہے۔ ہم دوسروں کے ساتھ جیتے ہیں، مگر اپنے ساتھ نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے خود کو قید کر لیا ہے روایات میں، سوسائٹی کے خوف میں، اپنی جھوٹی انا میں۔
اگر ہم واقعی آزاد ہونا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے اندر کی قید کو توڑنا ہوگا۔ ہمیں سچ کا سامنا کرنا ہوگا، اپنے دل کی سننی ہوگی اور اس رب کی طرف پلٹنا ہوگا جو ہمیں دنیا میں آزمانے کے لیے بھیج چکا ہے۔ دنیا کی یہ قید وقتی ہے، مگر روح کی قید اگر باقی رہ گئی، تو ہمیشہ کے لیے تباہی مقدر بن جائے گی۔آئیے ان زنجیروں کو توڑیں۔ نفس کی قید سے نکلیں، سچائی کو گلے لگائیں اور رب کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ شاید تب ہم ان آزاد فضاؤں میں واقعی آزادی محسوس کر سکیں اور صرف جسم سے نہیں بلکہ روح سے بھی پرواز کر سکے۔ تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم صرف آزاد فضاؤں کے قیدی نہیں، بلکہ آزاد انسان بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *