اپنی گل زمیں کے سفر

اپنی گُل زمیں کے سفر

میں جب بھی سوچتی ہوں موازنے کرتی ہوں تو تان یہیں آکر ٹوٹتی ہے کہ پاکستان تو بہت خوب صورت ہے بےحدحسیں دلربا و دلکش ہے میرےمحدود سے سیر سپاٹے ، رنگ ونوروپرسکون ودیدہ ورنظارے مجھے کہنے پر مجبور کرتے ہیں میرے سوہنڑے اللہ کی دُنیا ۰
جون 2025میں ہمارا فیملی ٹرپ کشمیر کا لگا اور اُس ٹرپ میں سمندروں پار بچے آئے ہوئے تھے
وہ ٹرپ ہم نےTravel Group جو شہریار کا Signature Adventure Club کے نام سے مشہور ہے اور “ سلور لائنز “ والوں کا فیورٹ ٹورزم گروپ ہے اور ٹرپ اللہ کے خآص فضل سے بہترین اور شاندار رہا اس سال ایک فیملی ٹرپ اور ایک “ سلور لائنز” والوں کے ہمراہ ان کے ساتھ سِرن ویلی مانسہرہ Trips حسبِ معمول شاندار رہے
میرا شہریار جو گروپ کنڈکٹ کرتے ہیں اور عتیق سے جو اسی گروپ کا بہترین ممبر ہیں وعدہ تھا کہ اس ٹرپ پرریویو لکھوں گی جون والا تو گھریلو مصروفیت کی وجہ سے نہ لکھ سکی اور سِرن ویلی والا سلور لائنز کے لئے لکھا جو شہر یار کے Signature Adventure Club کی نظروں سے نہیں گزرا بہرحال میں نے لکھ دیا ہے-
جون والا ٹرپ جو کوہالہ برج سے دھیر کوٹ اور پھر گنگا چوٹی تک جانے کا تھا پہلے بہت حسین مقام جو یوں سمجھیں مری کے پائدان میں تھا وہاں ناشتہ کروایا گیا گروپ کی طرف سی مینڈیٹری تھا اب پہنچے کوہالہ برج کے ساتھ ،نیچے بہتا دریا سے مکمل لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم دھیر کوٹ پہنچے تھےوہ خاصا گرم دن تھا پر ہم سب کوہالہ کے پتھروں پر بہتے دریا میں پاؤں ڈال کر گپ شپ کا مزہ اُٹھا کر گرمی کے اثرات وہیں پتھروں اور بہتے پانی میں جہاں چارپائیاں رکھی تھیں وہیں بیٹھ کر بچوں و بڑوں نے گرمی وہیں پانی میں بہادی اور دھیر کوٹ سےخوشگوار موڈ کے ساتھ چل پڑے تھے جہاں ہماری رہائش کے لئے تین کمرے ٹریولز گروپ نے دیار ریزارٹ (Diyar Resort )میں بُک کرا رکھے تھے۔ وہاں رہائش معیاری تھی اور مکمل لوازمات میسر تھے کھانے کھابے بھی حسبِ منشاء تھے آس پاس کی خوب صورت جگہوں کی سیر کی اوردوسرے دن گنگا چوٹی گئے ان موڑ در موڑ جگہوں اور چھوٹی سڑکوں ایک طرف لاانتہاء گہری کھائیاں دوسری طرف بڑےبڑےپہاڑوں میں مہارت اور توکل اللہ گاڑی چلاتے ڈرائیورز ہمیشہ مجھے خُدائی مخلوق اور شجاعت کے تمغے لگانے کے لائق مخلوق لگتے ہیں میرا تو خون خُشک ہوتا رہتا ہے پر کبھی جانے سے انکار نہیں کیا !
گنگا چوٹی کیا ہے قدرت کا ایک اور حیرت انگیز شائکار ہے جسے دیکھ کر ششدر ہی ہوا جاسکتا ہے کہ سوہنڑا اللہ کتنا خوبصورت اور زبردست ہے وہی سب کُچھ کا مالک ہے اور سب کُچھ کرسکتاہے ہمارا کام تو وہی
ُ؀ محوِ حیرت ہوں ۰۰
اب جب کہ اس بار موسم ِ گرما2025 اور سیاحت ایک سانحات کی لہولہو قصّوں سے بھری ہے اور رَبِ عظیم سے بے حد دُعا ہے۔ میرا رَبّ تعالٰی اس وطنِ عزیز پر خاص فضل کردے جو بدلتے موسموں کی زد میں ہےاسے اور اس کی عوام کو ہر بلا سے محفوظ کردے دُعا تو وہ سُنتا ہے ۔اب اگست کے آخر میں خانس پور کا ٹرپ لگا بمع فیملی کے اب کے ہم سب نے بہت مزہ کیا ۔ خانس پور نے تو اپنے حُسن کے سجے سنورے روپ وہ رنگ دکھائے کہ ششدر کیا ایسے چند لمحوں میں سارا منظر بدلتے پہلی بار دیکھا ۰گلیات مجھے ہمیشہ اپنے حسن و جمال سے مسحور کرتی ہیں یہ سفر ہر موڑ پر خوبصورتی کی ایک نئی پَرت کھولتا ہے گاڑی سے دیکھو یا اُتر کر بس قدرت گَلے ملتی نظر آتی ہے پر یہاں خانس پور جن لاجز میں ہماری بُکنگ تھی ہمارے کمروں کے آگے ایک خوب لمبا چوڑا برآمدہ تھا وہیں بچھی کرسیوں پر بیٹھ کر ہم نے نیچرکے جو روپ سروپ دیکھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا تھااگر ہم پوری فیملی کی اجتماعی رائے نہ ہوتی تو مجھے خواب لگتا جو تین دن ہم مل کر دیکھتے رہے۔
گوکہ پائپ لائن ٹریل اوردوسری ٹریلز بھی گھومے مزے کئے اور کُچھ نرالے تجربات کیے لیکن میری رائ تھی ی کہ اگر برآمدے میں جہاں ترتیب سے لگی کُرسیوں میزیں جن پر صاف سُتھرے مُلازمین صاف شفاف کراکری میں حسب ذائقہ اور پسند کا تازہ پکا کھانا لگاتے اور پورا ماحول صاف سُتھرا میسر رکھا وہیں ہی بیٹھے بیٹھے سارا وقت گُزار دیتے تو خانس پور پھر بھی پورے جلوں کے ساتھ ہمیں راضی رکھتا اور ہمیں لگتا یہ بدلتے مناظر ہر خوبصورتی پر حاوی ہیں۔
سامنے دیکھ کر لگتا تہ در تہ وادیاں ہیں سبزہ سبز کچور لانبے لانبے دیودار کے قطار اندر قطار درخت ہاتھوں میں ہٹھ دیئے ٹھہرے ہیں کبھی لگتا یہ سر سبز درخت اپنے حُسن پر نازاں جھوم رہے ہیں اسی ہی لمحے بادل نثار ہونے لگتے پھر بہت ہی سفید دودھیا بادل ایک لمبی چوڑی سفید چاندی جیسی چادر کی طرح پھیل کر سب کُچھ نظروں سے اوجھل کردیتے جیسے بس سامنے سفید پردہ ہے اور صرف سامنے کے درختوں قطار رہ جاتی پھر اُسی لمحے سفید چادر سیاہ چادر کا روپ دھار لیتی چند ہی لمجوں میں دھیرے دھیرے وہ چادر نِیر بہانے لگتی اپنی پُراسرار محبت میں ٹوٹ کر بکھرنے سے پہلے ساری آنکھوں کا پانی بہا کر اُن حسین وادیوں کا رنگ روپ اپنی محبت میں دھو کر سَوا کر دیتی پھر کُچھ ہی دیر میں دھوپ اپنا سونا اُن وادیوں کے سوہنے روپ پر نچھاور کر دیتی اور یوں دھوپ غائب پھر سفید چادر دور تک پھیل گئی ہم سب حُسن کی اس رمز کو حیرت اور خوشی کے ملے جُلے تاثر سے دیکھتے ہی رہ گئے کہ واہ رَبّ تو کتنا حَسین ہے کتنا پُرنور اور پُرکشش ہےجیسے ہم سب کہ اُٹھے۔
اے رَبّ ! اے پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والا یہ تیرا ہی نور ہے جس نے زمین و آسمانوں گھیر رکھا اور تیرے ہی نور سے یہ سورج چاند ستارے روشن و پُرنورہیں بس آج ان حسین راستوں پر بادلوں کا دُھواں اُڑاتے بادل یوں چھائے تھے گویا لانبے لانبے درختوں پہاڑوں کی بلائیں لے رہے ہوں جانے کو مَن نا کر رہا تھا حسین راستوں نے بہت راستہ روکا گلے کا ہار بنے سنگھار بنے پر ان سجی سنوریوادیوں پربتوں کی شہزادیوں کو الوداع کہ کر ماشااللہ تبارک اللہ پڑھ کر گھر کی راہ لی ۔

کہ آوارگی میں حد سے گُزر جانا چاہئیے
لیکن کبھی کبھا ر تو گھر جانا چاہیئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *