⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
غلامی کے اڈے: مسلم اُمہ کی آزادی کی سب سے بڑی رکاوٹ
امت مسلمہ آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں آزادی کا خواب محض ایک تصور یا خواہش نہیں، بلکہ ایک لازمی اور مقدس مقصد بن چکا ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں غیر ملکی طاقتوں کے جبر و استبداد کے بے شمار اڈے ہمارے اپنے ہی خطوں، ہماری زمینوں پر قائم ہیں۔ ترکیہ، قطر، سعودی عرب، اردن، بحرین، کویت، عراق اور افریقی ملک جبوتی میں قائم امریکی اور مغربی فوجی اڈے نہ صرف مسلم اُمہ کی خودمختاری پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں، بلکہ ہمارے فیصلوں کو بھی محدود کر رہے ہیں۔ قطر کا العدید ایئر بیس ہو یا بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیس، یہ اڈے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں طاقت کے مراکز بن چکے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی فوجی اہلکار ان میں تعینات ہیں، اور انہی کی مدد سے خطے میں استحکام کے بجائے تنازعات کو ہوا دی جاتی ہے۔ کویت اور اردن میں بھی غیر ملکی فوجی موجودگی نے “سلامتی” کے نام پر مداخلت کو ایک نئی جہت دی ہے۔ ترکیہ کا انجرلیک بیس نیٹو اور امریکہ کے لیے ایک کلیدی مقام ہے، جہاں سے عراق، شام اور دیگر مسلم ممالک میں عسکری کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ یہ بیس ترکیہ کی خودمختاری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور ترک حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے تاکہ خطے میں حقیقی امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ آزادی کا مطلب صرف بندھن توڑنا نہیں بلکہ اپنی تقدیر کا خود معمار بننا ہے۔ یہ جنگ محض توپ خانے اور فائرنگ کی نہیں، بلکہ اجبار، مجبوریت اور حکمرانی کے اختیار کی ہے۔ اگر ہم واقعی خودمختاری کے دعویدار ہیں، تو ہمیں اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوجی موجودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا اتحاد ہے، اور ہمارا سب سے مؤثر ہتھیار ہمارا یکجہتی کا جذبہ۔ یہ وقت ہے کہ ہم تمام فرقوں، قومیتوں، اور طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں اور ایک مشترکہ، متفقہ آواز بلند کریں۔ تعلیمی اور فکری بیداری کے بغیر یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی نسلوں کو شعور دینا ہوگا تاکہ وہ عالمی سازشوں اور غیر ملکی تسلط کو پہچان سکیں اور اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے تیار رہیں۔ اسی طرح اقتصادی خودمختاری کے بغیر سیاسی آزادی ادھوری رہے گی۔ ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کرنی ہوگی تاکہ ہم اپنے وسائل پر خود انحصار کر سکیں۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں بھی دانشمندی، بصیرت اور توازن کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی سطح پر باوقار اور خودمختار انداز میں کھڑے ہو سکیں۔ یہ فوجی اڈے صرف اینٹوں اور کنکریٹ کی عمارتیں نہیں بلکہ ہمارے اقتدار کی زنجیریں ہیں۔ اگر ہم ان زنجیروں کو نہیں توڑتے تو ہمیشہ ایک ایسا خطہ بنے رہیں گے جو دوسروں کی جنگوں کا میدان ہوگا، اور اپنی جنگ لڑنے کی صلاحیت سے محروم رہے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں ان اڈوں کو بند کیے بغیر ہم نہ اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں، نہ اپنی خارجہ پالیسی پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ آج کا دور صرف عسکری طاقت رکھنے کا نہیں، بلکہ اپنے فیصلوں پر مکمل اختیار رکھنے کا ہے۔ اور اس اختیار کی سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ ہمارے آسمان، ہمارے سمندر اور ہماری زمینیں غیر ملکی تسلط سے پاک ہوں۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی، تو مسلم اُمہ کی بقا شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔عرب عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنی سرزمین کی سلامتی، خودمختاری اور عزت کے تحفظ کے لیے واضح، شفاف اور ٹھوس اقدامات کریں۔ اسی طرح، عرب قوم کو بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، اور قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔اب وقت آ چکا ہے کہ امت مسلمہ کے سربراہان ذاتی، مسلکی اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک جامع، مضبوط اور متفقہ دفاعی نظام کی بنیاد رکھیں۔ ہماری اسلامی دنیا کو OIC کی قیادت میں ایک مؤثر اور حقیقی مشترکہ اسلامی فوج کے قیام پر کام تیز کرنا ہوگا، تاکہ مسلم اُمہ عالمی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کو اجتماعی اور متحدہ انداز میں تشکیل دے سکے۔ ہمارا مقصد دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ امن، باہمی احترام اور بھائی چارے کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ہے۔ لیکن اگر کسی اسلامی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے، تو ہمیں اجتماعی دفاع کے لیے ایک متحد، مضبوط اور فوری جواب دینا ہوگا۔اسلامی دنیا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے تعاون سے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید ترقی دے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان، چین، روس، فرانس جیسے ممالک کے ساتھ متوازن اور خودمختار تعلقات استوار کرے، تاکہ اپنی سرزمین، وسائل اور خودمختاری کا مکمل تحفظ ممکن ہو سکے۔یہ سب جانتے ہیں کہ جنگ ایک ناپسندیدہ اور افسوسناک حقیقت ہے، مگر اپنی بقاء کے لیے دفاع کرنا نہ صرف ہمارا حق بلکہ ایک عظیم قومی اور دینی فریضہ بھی ہے۔ آزادی کی جنگ ایک مقدس مشن ہے، جسے ہمیں اپنے دین، اپنی زمین اور اپنی عزت کی حفاظت کے لیے لڑنا ہوگا۔ امت مسلمہ کو قطر پر حالیہ حملے کے بعد خوابِ غفلت سے بیدار ہونا چاہیے، اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ٹھوس، متفقہ اور دیرپا اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم سب کو اپنے حق کے لیے متحد ہو کر کھڑا ہونا ہے، اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک باوقار، آزاد اور خودمختار مسلم اُمہ فراہم کرنی ہے، جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا. آزادی کا حصول آسان نہیں، لیکن کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے جو حق و صداقت کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنی حفاظت، عزت اور خودمختاری کے لیے مل کر ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہوگا، جہاں ہمارا اختیار، ہماری طاقت اور ہمارا وقار دنیا کے سامنے بے مثال ہو۔
