قصے مسافرت کے
قسط نمبر 06
She said Finally !
جوں جوں گُل زمیں کی طرف جانے کے دن قریب آرہے ہیں
ان بچوں کو چھوڑ کے جانے کو جی نہیں چاہتا اُدھر والوں کے لئے دل کھنچتا ہے ۔ بھئی میرا تو بٹوارا ہوگیا ۔
مریم آتے جاتے پوچھتی ہے : دادی کتنے رہ گئے ؟بتاتی ہوں
کہتی ہے پکی رہ جائیں
کہا: پَکی ۰۰۰
اسی محبت میں ڈوب کر ماہم سے کہا
Maham: I have to go to Pakistan, only one week left
Maham with complete dam free style :
Finally!
جب میں نے مریم کو بتایا تو ناراضگی سے بولی
Dadi: Don’t talk to her , she is crazy.
I said: she is innocent, I enjoyed her answer.
کوئی تو پٹاخہ ہو گھر میں اگر سب مریم جیسے دھیمے مزاج کے ہوں تو بس ریشمی ہوائیں فضا میں چلتی ہیں مدھم مدھم ، دھیمے دھیمے جیئے جاؤ
جب ماہم مجھے مہرالنساء کے انداز میں ٹِکا کے جواب دیتی ہے تو پھر مجھے لگتا ہے خاکوانی خون اپنے جوبن پر ہے-
مہرالنساء اور ماہم کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے -دونوں کا جوڑ توڑ چلتا ہے۔ مہرو جب پہلی بار کینڈا سے ان کے گھر آنے والی تھی تو ماں باپ نے خوش ہوکر کہا کل مہرو پھوپھو آئے گی۔
ماہی (ماہم کو کہتے ہیں) نے باپ سے مہرو کے spelling پوچھے بڑے سے پیپر پر بڑا سا No Mehru لکھ کر دروازے پر چپکا دیا جس کی تصویر کھینچ کر مہرو نے بھیجی تھی ۔ آج کل باپ سے پوچھتی ہے :اب مہرو پھوپھسی کب آئے گی!
ذیشان اور ماہی کی چپقلش بڑھ جائے تو ماہی کی زور دار آواز آتی ہے ۔ ث
Dadi: your son is not nice to me , he is very annoying.
میں اپنے نمبر بڑھانے کے لئے ذیشان کو چپت لگاتی ہوں تو کہتی ہے
Hit him again ۰
میں دل میں کہتی ہوں ماہی تو پوری اپنی پھوپھسی پر گئی ہے-
زینب اور ذیشان دونوں کے اگر کوئی کس بَل تھے تو ماہی نے نکال لئے ہیں, یہ فرشتہ صفت مریم پر بھولے بیٹھے تھے-
ایک آواز آئے گی
Momi: I am starving
پوچھا جاتا ہے پھر مہیا کیا جاتا ہے
کچھ دیر بعد پھر آواز آئے گی
Water
میں نے کہا : زینب ! ماہی سے کان مارتی ہو نا!یہ سیڑھیوں کی طرف تمہارا پانچواں چکر ہے آدھ گھنٹے میں۔ زینب جھینپ کر : نہیں آنٹی میں فساد سے ڈرتی ہوں۔
کون اس کا رونا دھونا جھیلے
سچ میں معصوم میاں بیوی جاب سے آتے ہیں، ذیشان تو گھنٹوں اس کے ساتھ کھیلتا ہے میری نازک سی بہو کے دل میں اتنا زور نہیں وہ صوفے پر لیٹے لیٹے گھنٹوں ساتھ لٹا سکتی ہے ۔ ماہی کے ساتھ میں اور ذیشان اتوار کے دن پارک گئے گھنٹے سے زیادہ Monkey Bars لٹکنے کی کوشش کرتی رہی باپ کو بھی لٹکواتی رہی، میں واک کر کر کے تھک گئی ۰ اس لڑکی کا ابھی بھی موڈ نہ تھا کہ گھر جائیں ، ذیشان نے اشارہ کیا میں اور ذیشان جاکر سامنے پارکنگ میں گاڑی میں بیٹھ گئے ۔ یہ بھی منہ پُھلا کر آکر بیٹھ تو گئ پھر تھوڑی دیر کے بعد رونا شروع کر دیا ۔ ذیشان آنکھیں دکھائیں یہ اور پسرنے لگی، اس نے اگلی پارکنگ میں گاڑی روکی اور اسے مکمل چپ ہونے کو کہا۔ میں نے ہلکی سی گردن موڑی کہ اس کا موڈ مورال چیک کروں تو بولی ذیشان سے وہ بھی گردن موڑے اسے گھور رہا تھا (دراصل پورا ایک گھنٹہ باپ اس کے ساتھ کھیلتا رہا اب وہ تھک چکا تھا پر یہ نہیں)
Daddy! I hate you and your mother.
اب میری یہ پوزیشن کہ ذیشان کو زیادہ غصّہ نہ آئے ۔ دبے لفظوں میں کہا : مسوم بَال ہے گَال نا ودھا (چھوٹی بچی ہے بات نہ بڑھاؤ) ذیشان اسے گھور کر رہ گیا
پھر گھر لوٹ آئے!
ماں خوش تھی کہ ماہم تفریح کر آئی ہے مگر ماہم کا مزاج ہوا میں پرواز کرہا تھا.
یہ ڈیپ َرن پارک ہے !
دراصل کہانی تو ساحلوں کی ہے
مہرالنساء کے کینڈا لوٹ جانےپر میں اُداس تھی ۔ وہ تو بھلا ہوہیوسٹن سےزینب کی بہن کی فیملی نےاُسی دن ہمارے گھر کو رونق بخشی ۔
موسٰی اور عیسٰی بڑے کیوٹ بچے ہیں اُن اَبّا سید عزیر صاحب اور امّاں رابعہ سے مل کر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے ۔
میں تو اس رونق و گہماگہمی سے خوش ہوگئی پھر اگلے دودن ورجینیا Beach جانے کا پروگرام تھا ۔
پہنچ گئے-موسم بھی ہم مزاج تھا مطلب معتدل ۔ رات کوتو سب کھاپی کر تھوڑی بہت واک کر کے سو گئے ۔ مجھے چائے کی طلب ہورہی تھی عزیر شاہ صاحب نے مہربانی کی گرم گرم کافی بنا کر دے دی ۔ دراصل ہم سب ذیشان کے کمرے میں بیٹھے تھے ۔ وسیع عریض لمبے لمبے مستطیل کمروں اور نیلے رنگ کی تھیم لئے یہ ہوٹل بلیو کارپٹ اور بلیو پینٹنگز ، بلیو بیڈ کورز حتٰی کہ کوریڈورز میں بلیوڈیزائنگ کے کارپٹ اور دیواروں کا کُچھ حصّہ سفید اور کچھ بلیو بہت نفیس امتزاج لئے تھا ۔
صبح صبح ناشتے کے فوراً بعد بیچ پر جانا تھا – بچے بڑوں سب کی بیچ پر جانے کی تیاری جاری تھی – سن بلاک کریم خواتین لائٹ میک اپ کے ساتھ اپلائی کرتی ہیں- مردوں نے ویسے لگالی ۔ ذیشان ٹینٹ و کُرسیاں , دری ٹھنڈے پانی کے کریٹ لےکر پہلے پہنچ چکا تھا ہم سب بھی خراماں خراماں پہنچ گئے-
ہوٹل سے بائیں باجو کی گلی میں مُڑے سامنے سمندر اور سورج کی روشنی چمکتا پانی ٹھاٹھیں مارتی لہریں ہم سب قینچی والے چپل پہنے آگے پیچھے سامنے انتظار کرتے ذیشان تک پہنچ گئے سب بچے پانی کو دیکھ کر اُتاولے ہونے لگے چھوٹے بچوں نے تو سوئمنگ کاسٹیوم پہنے ہوئے تھے۔ بحر اوقیانوس کی لہریں تواتر سے آتیں اور سب کو بھگو کر چلی جاتیں آہستہ آہستہ لگا جیسے سمُندر ہماری طرف بڑھ رہا تھا –
مریم ساحل کی ٹھنڈی بھیگی ریت پر ذیشان اور ماہم کے ساتھ گڑھا کھودنے میں لگی تھی اُدھر عزیر شاہ اپنے موسࣿی اور عیسو خمیسو کے ساتھ گڑھا کھودنے میں لگا تھا- جوان خواتین زیادہ دیر پانی میں ٹھہری رہیں میں بھی تھوڑی دیر ٹھنڈی لہروں چھونے کے احساس کو محسوس کیا پھر زینب نے لہروں کی گود میں مجھے کُرسی ڈال دی اور یوں رابعہ بھی میرے ساتھ کُرسی لے آئیں – ایک لہر تو میرا جوتا لے کر جا رہی تھی کہ ذیشان بھاگ کر لے آیا کہ بھئی میری ماں کے جوتے سے چھیڑ خانی درست نہیں۰ وہیں زبردست لنچ دیا ،زینب نے کہ ذیشان خاکونی کی برتھ ڈے بھی منا لی جائے یوں کافی دیر پانی سے لطف اندوز ہونے کے بعد تھک تھکاکر عصر تک واپس کمروں میں آگئے یہ الگ بات کہ سمندر کی ریت وہیں سڑک کنارے لگے شاور اور نلکوں سے دھو ڈالی ۔
کمروں میں جاکر گرم گرمُ کافی سے لطف اندوز ہوئے- پھر روڈ سائیڈ ہوائی کے فنکاروں کے گروپ نے اپنی فوک موسیقی اور گانوں سے ماحول گرما رکھا تھا روڈ سائیڈ ہی سونیئر اور طرح طرح کی چیزوں اور فوڈ کے اسٹال تھے ۔
میری روم میٹ مریم تھی ہم دادی پوتی جلد سوگئے کہ صبح ناشتے کے بعد چیساپیک بے برج( Chesa Peak Bay Bridge )جو تئیس میل لمبی سمندر پر برج ہے وہاں چلنا تھا مجھے تو جب بھی دیکھوں بےحد حیرت ہوتی اور انسانوں کی کارکردگی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے-ُپل جو دورویہ آنے جانے کی کُھلی سہولت والی سڑک سی ہے اور پل کے درمیان سُرنگ بھی ہے کہ پل بڑے بڑے سمندری جہازوں کی آمدورفتمیں رُکاوٹ نہ بنے ، وہی سرنگ پھر آگے پُل کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ پُل کے اُس پار ایک جزیرہ پر پارک تھا مچھلیاں پکڑی جا رہی تھیں – ایک طرف بیچ پر خوب رونق تھی لوگوں کا جَمِ غفیر تھااوربڑے بڑے Seagulls مزے کرتے پھر رہے تھے-بہت اچھی تفریح کے بعد گھر لوٹ آئے تو خوب تھک چُکے تھی ۔ شام سے پہلے گھر لوٹ آئےکیک کاٹا گیا کہ آج عُزیر شاہ کی سالگرہ تھی- اگلے دن مہمان چلے گئے تو گھر ایک بار پھر خاموش ہوگیا ۔ اگلے دن میں اور ذیشان ڈیپ رن پارک
(DeepRunPark )واک کرنے جا رہے تھے کہ مہرالنساء کی وڈیو کا آگئی کہ بھئی کیا ہورہا ہے ؟
کہا : ذیشان مجھے ڈیپ رَن پارک لے آیا ہے واک کریں گے۔
مہرالنساء: ماں ! ذیشان آپ کو وہیں نا چھوڑ آئے ،خیال رکھنامیں ہنسنے لگی پر ذیشان نے چمک کر ٹِکا کر جوب دیا ۔ ذیشان نے مہرالنساء سے کہا : وڈیو کال بند کرو یہ ڈیپ رَن پارک ہے بے غیرت رَن پارک نہیں۔
