کربلا قربانی اور مزاحمت کا استعارہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

کربلا قربانی اور مزاحمت کا چراغ

تاریخِ انسانیت میں بعض واقعات صرف سانحے نہیں ہوتے بلکہ وہ صدیوں تک استعارہ بن جاتے ہیں۔ کربلا بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جو فقط سن 61 ہجری کا ایک خونچکاں منظر نہیں بلکہ ہر دور میں ظلم و باطل کے خلاف استقامت، صداقت اور قربانی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کی راہ میں جان دینا آسان ہے مگر سر جھکانا کبھی گوارا نہ کیا جائے۔
کربلا وہ سرزمین ہے جہاں نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؓ نے اپنے بہتر جانثاروں کے ساتھ ایسی قربانی پیش کی جس کی نظیر نہ ماضی میں تھی نہ آج تک تاریخ دہرا سکی ہے۔ یہ قربانی فقط ظاہری جنگ نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی معرکہ تھا، ایک اصولی مؤقف تھا جسے کچلنے کے لیے یزید جیسے جابر نے ظلم کی ساری حدیں پار کر دیں۔ لیکن امام حسینؓ نے سر کٹوا دیا مگر بیعت نہ کی۔ یہی استقامت آج کربلا کو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک استعارہ بنا دیتی ہے۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگرچہ حق کے راستے پر چلنے والے تعداد میں کم ہوں مگر ان کی عظمت، ان کا کردار اور ان کی صداقت ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ باطل چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ وقتی ہو سکتا ہے مگر دوام صرف حق کو ہے۔ یزید کا محل آج مٹی میں ہے مگر حسینؓ کا پیغام آج بھی ہر مظلوم کی زبان پر ہے۔
کربلا صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ استعارہ ہے مظلوم کی فریاد کا، ظالم کے خلاف اٹھنے والی آواز کا اور عدل کے لیے دی جانے والی ہر قربانی کا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی مظلوم دنیا کے کسی کونے میں حق کے لیے اٹھتا ہے تو حسینؓ کی قربانی اس کے قدموں کی طاقت بن جاتی ہے۔
کربلا ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ خاموش رہنے والے تماشائی بھی تاریخ کے مجرم ہوتے ہیں۔ کوفہ والوں کی خاموشی، بےوفائی اور منافقت آج بھی ایک طعنہ ہے۔ اس لیے اگر کسی معاشرے میں ظلم ہو رہا ہو تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ حسینؓ کا پیغام یہی ہے کہ ظلم کے خلاف کلمۂ حق بلند کرو، چاہے تمہیں تنہا ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔
آج کے دور میں جب ضمیر کی قیمت لگتی ہے، جب اصولوں کو سیاسی مفاد کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے، کربلا کا استعارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچائی کی طاقت سر کٹوا تو سکتی ہے مگر جھکنے نہیں دیتی۔ یہی پیغام ہر اس دل میں جاگزیں ہونا چاہیے جو کسی بھی ظلم کے خلاف سینہ سپر ہے۔
کربلا محض ایک مقام نہیں، یہ ایک نظریہ ہے، ایک علامت ہے، ایک انقلاب کا استعارہ ہے جو ہر دور کے یزید کے خلاف حسینیت کے عَلَم کو بلند رکھتا ہے۔ حسینیت فقط مذہب نہیں، ایک رویہ ہے، ایک طرزِ عمل ہے، جو ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کا نام ہے۔ جب ہم حضرت علی اکبرؓ کی قربانی کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں نوجوان نسل کی غیرت اور کردار کا معیار سمجھ آتا ہے۔ حضرت قاسمؓ کی جرأت ہمیں بتاتی ہے کہ عمر نہیں جذبہ مقدم ہے۔ حضرت علی اصغرؓ کا خون ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قربانی کے لیے معصومیت بھی کافی ہے۔ اور حضرت زینبؓ کی استقامت ہمیں بتاتی ہے کہ حسینؓ کے بعد بھی کربلا ختم نہیں ہوئی بلکہ حق کی گواہی کا ایک اور باب شروع ہوا۔
کربلا میں سب کچھ لٹ گیا مگر ایک چیز سلامت رہی اور وہ تھی حسینؓ کا نظریہ۔ یہی وہ نظریہ ہے جو آج بھی زندہ ہے، جو ہر ظالم کے مقابل مظلوم کو طاقت دیتا ہے۔ یہی وہ مشعل ہے جو ہر صدی، ہر دور اور ہر خطے میں انسانوں کو ظلم کے خلاف جینے اور لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کربلا صرف رونے کی رسم بن جائے اور اس سے عمل، غیرت اور صداقت چھین لی جائے تو وہ ایک روایت تو رہتی ہے مگر انقلاب نہیں بن پاتی۔ حسینؓ کا غم منانا ضروری ہے مگر ان کی راہ پر چلنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ ہمیں طرزِ زندگی حسینی اپنانا ہوگا، صرف اظہارِ غم کافی نہیں۔
کربلا کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف مردوں کی قربانی کا قصہ نہیں بلکہ خواتین کی استقامت، حوصلے اور کردار کی بھی بے مثال داستان ہے۔ حضرت زینبؓ کا کردار کربلا کے بعد شروع ہوتا ہے اور انہوں نے قید و بند، تذلیل اور درباروں کے ظلم کو برداشت کرتے ہوئے وہ حق ادا کیا جو رہ گیا تھا۔ انہوں نے یزید کے دربار میں سر جھکانے سے انکار کر کے حسینؓ کے مشن کو زندہ رکھا۔ کربلا ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ سچائی وقت مانگتی ہے، قربانی چاہتی ہے، تکلیف سہنے کا حوصلہ مانگتی ہے۔ مگر ایک دن وہ سچائی پوری دنیا پر روشن ہو جاتی ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی اسی سچ کی فتح ہے۔ وہ خود شہید ہو گئے مگر ان کا پیغام زندہ رہا اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ کربلا ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ اگر حالات ظالم ہوں، ماحول منافق ہو، لوگ بےوفا ہوں تو مایوس مت ہو، حسینؓ کی طرف دیکھو۔ وہاں سے روشنی ملتی ہے، امید جاگتی ہے اور حوصلہ ملتا ہے۔ اگر حق پر ہو تو اکیلے بھی ہو تب بھی جیت تمہاری ہوگی۔
کربلا کا استعارہ ہمیں صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ آج کے فیصلوں، طرزِ زندگی، اور سوچ میں بھی حسینیت کی روشنی پیدا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ ہمیں ہر لمحہ یہ سوال دیتا ہے کہ کیا ہم حسینؓ کے راستے پر ہیں یا یزید کے؟ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہیں یا مفاد کے ساتھ؟ ہم سچ کے لیے آواز بلند کرتے ہیں یا خاموشی میں پناہ لیتے ہیں؟
کربلا ایک معیار ہے جو ہر انسان کے ضمیر کو تولتا ہے۔ اس میں ہمیں صرف تاریخ نہیں، اپنا آج بھی دیکھنا ہے۔ کربلا نے ہمیں سکھایا کہ باطل کے مقابل اگر ایک تنہا سچ بھی کھڑا ہو تو وہ کافی ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *