دو حرف تسلی کے

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

چند حرف تسلی کے

انسان کی زندگی دکھوں اور خوشیوں کا ملن ہے مگر یہاں دکھوں کی کثرت دیکھنے کو ملتی ہے۔
ہماری زندگیوں میں بہت سارے مقامات ایسے آتے ہیں جب ہم زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔
دل چاہتا ہے کہ دنیا کی اس بھیڑ سے دور کہیں جنگلوں اور صحراؤں میں جا کر بسیرا کر لیں، کسی تاریخ اور خاموش غار میں جا بسیں ،اور پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر کھڑے ہو کر چیخ چیخ کر دل کا غبار نکال دیں مگر ۔۔۔
کبھی سوچا ہے کہ جب ایسا نہیں ہوتا تو کیا ہوتا ہے؟
جب انسان کو رونے کے لیے کوئی کندھا نہیں ملتا، انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں کوئی اپنا نہیں ملتا، انسان کو رونے اور دل کا غبار نکالنے کے لیے تنہائی میسر نہیں آتی تو انسان کا دل شدت غم سے پھٹنے لگتا ہے۔
آنسوؤں کو جب آنکھوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا تو یہی آنسو گلے کا پھندہ بن جاتے ہیں۔ انسان احساس کمتری کا شکار ہونے لگتا ہے اور مایوسی کی انتہا کبھی کبھار کسی کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔حالات جتنے بھی مشکل ہو مگر یاد رکھیں عرش پر مستوی کریم رب اپ کی تمام تر محرومیوں، کمزوریوں دکھوں اور مایوسیوں کو جانتا ہے۔
اپنے اپ کو اس مصور کے حوالے کر دیں جس نے آپ کو تخلیق کیا ہے، زندگی کے غموں سے چور آپ کے وجود کو وہ یوں جوڑ دے گا کہ ٹوٹنے کے نشان بھی باقی نہیں رہیں گے۔
وہ رب آپ سے خالص محبت کرتا ہے وہ آپ کو ضائع نہیں ہونے دے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *