⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
انجام پر ماتم بہت ہوا، اب آغاز پر بھی سوال اٹھانا ہوگا
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس نے اہلِ دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک نوجوان جوڑے کو، جو اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتے تھے، سنگ دل طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ یہ منظر نہ صرف وحشیانہ اورانسانیت سوز تھا، بلکہ مکمل طور پر غیر اسلامی اور غیر قانونی بھی۔ ایسا کوئی فعل نہ تو شریعت کی روح کے مطابق ہے، نہ آئینِ پاکستان اس کی اجازت دیتا ہے، اور نہ ہی انسانی اقدار اسے قبول کر سکتی ہیں۔ ہم بطور ایک باشعور معاشرہ، غیرت کے نام پر ہونے والے ہر قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں صرف “انجام” پر بات کرنی ہے، یا “آغاز” پر بھی نگاہ ڈالنے کی جرأت کرنی ہے؟ اسلام میں نکاح میں پسند کی اجازت موجود ہے، لیکن اس اجازت کے ساتھ شریعت، شرافت، اور سماجی ہم آہنگی کی شرائط بھی وابستہ ہیں۔ بغاوت، راہِ فرار، والدین سے جھوٹ، اور خفیہ مراسم — کیا یہ وہ طریقہ ہے جسے ہم بطور معاشرہ قبول کر لیں؟
کیا محض جذبات کی بنیاد پر خاندانی رشتوں کو پامال کرنا، اور ایک متوازی طرزِ نکاح کو فروغ دینا، کسی بڑے فتنہ کا پیش خیمہ نہیں؟ ہمارا معاشرہ — خواہ وہ شہری ہو یا دیہی، بلوچ ہو یا پنجابی، پشتون ہو یا سندھی، کشمیری ہو یا ہزارہ وال — خاندانی مشاورت، بزرگوں کی رضا، اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر قائم رہا ہے۔
یہ بنیادیں صرف رسوم نہیں، بلکہ معاشرتی استحکام کی ضمانت ہیں۔ جب ان اصولوں کو یکسر نظرانداز کر دیا جائے، تو ردِعمل صرف قانونی نہیں ہوتا، بلکہ جذباتی، اخلاقی اور سماجی بھی ہوتا ہے۔ پسند اور محبت اگر دینی شعور، تہذیبی حدود، والدین کے احترام اور مکالمے کے ماحول میں پروان چڑھے، تو وہ نہ صرف کامیاب شادیوں کا باعث بنتی ہے، بلکہ ایک مضبوط معاشرت کی ضامن بھی ہوتی ہے۔لیکن جب یہی محبت خودسری، بغاوت، اور “ہم خودمختار ہیں” جیسے سطحی مغربی نعروں میں ڈھل جائے، تو انجام اکثر المناک ہوتا ہے — جیسا کہ ہم نے حالیہ ویڈیو میں دیکھا۔ جرگے، قبائلی فیصلے، اور غیرت کے نام پر قتل — سب ناقابلِ قبول ہیں۔ مگر آغاز کی بے راہ روی، خاندانی نظام کی پامالی، اور “فرار کلچر” پر بھی خاموشی ممکن نہیں یقیناً ہمیں ان جرائم کی کھلی مخالفت کرنی چاہیے جن میں انسانوں کو جانوروں کی طرح مارا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں اتنی ہی ایمانداری اور بصیرت سے اس بات پر بھی بات کرنی ہوگی کہ کیا نوجوانوں کی تربیت میں کوئی خلا موجود ہے؟ کیا ماں باپ، اساتذہ، علما، معاشرتی، سیاسی و سماجی رہنما، شاعر، ادیب، صحافی، اور دیگر اہلِ قلم اس مقام پر اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ قانونی اصلاح کے ساتھ ساتھ ہمیں تہذیبی اصلاح، خاندانی تربیت، اور فکری رہنمائی کا نظام بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر ہم صرف انجام پر روئیں گے، مگر آغاز کی درستی سے پہلو تہی کریں گے، تو ایسے واقعات نہ صرف جاری رہیں گے بلکہ وقت کے ساتھ بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ افسوسناک واقعہ عیدالاضحیٰ کے دنوں میں پیش آیا، اور اب بلوچستان حکومت نے بھی اسے سرکاری طور پر ٹیک اپ کر لیا ہے۔ یہ اطمینان بخش بات ہے کہ متعلقہ ادارے متحرک ہوئے ہیں، اور امید ہے کہ جلد مجرم قانون کی گرفت میں ہوں گے۔.انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز، جو لکھاریوں کی ایک اعلیٰ ادبی تنظیم ہے، اس واقعے پر یہ واضح مؤقف رکھتی ہے کہ: اگر آغاز میں دانش، تہذیب، مکالمہ، اور شریعت کی روشنی موجود ہو،تو انجام کبھی المناک نہیں ہوتا۔اصلاح کا عمل جذبات کے دھماکے سے نہیں، بلکہ فکری، اخلاقی اور خاندانی بنیادوں سے شروع ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر آغاز نہ بدلا، تو انجام پر ماتم کرتے رہنے کے سوا ہمارے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا۔ اور تاریخ ہمیں اسی تماشائی قوم کے طور پر یاد رکھے گی، جو صرف انجام پر شور مچاتی رہی مگر آغاز کے وقت خاموش تماشائی بنی رہی۔
