مڈل کلاس طبقہ کی عجب ہی کہانی ہے

مڈل کلاس طبقہ کی عجب ہی کہانی ہے
روز کا رونا ہے, چند پل کی شادمانی ہے,

مہینہ کے آغاز میں تو خوب چہل پہل ہے
مہینے کے انجام میں فقط پیشمانی ہے,

آج کیوں پکانا ہے, آج کچھ پکانا نہیں
فلاں کے فلاں کی آج تو قل خوانی ہے,

کل تو فیر لولی تھی پونڈز فیس واش تھا
دیکھو میری حالت آج, خالی صابن دانی ہے,

ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کو کاٹ کاٹ ڈالا ہے
شیمپو کی بوتل میں فقط پانی ہی پانی ہے,

مت پوچھ مجھ سے میرے کوٹ کی حقیقت
شاید یہ ایرانی ہے یا افغانی ہے یا پھر جاپانی ہے,

پچھلے مہینہ کا بھی کرایہ دے نہ پاٸے تھے
آج اس مکان سے بھی ہماری نقل مکانی ہے,

کل ہم ان کے گھر اچھے پھل لے گٸے تھے,
آج ان کے ہاتھ میں نہ سیب ہے نہ خوبانی ہے,

دوست کے بھیجے کیک کو فلاں کے گھر بھیج دو,
کیک تو فیشن ہے, ہم نے سادہ غذا کھانی ہے,

ایک اے سی روم میں چھوٹے بڑے جمع ہیں
نٸی نویلی دلہن کے چہرے پہ حیرانی ہے,

آج کمیٹی نکلی ہے, سب کے چہرے شاداں ہیں,
آج میٹھا بھی بنے گا, آج تو گھڑی سہانی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *