مڈل کلاس طبقہ کی عجب ہی کہانی ہے
روز کا رونا ہے, چند پل کی شادمانی ہے,
مہینہ کے آغاز میں تو خوب چہل پہل ہے
مہینے کے انجام میں فقط پیشمانی ہے,
آج کیوں پکانا ہے, آج کچھ پکانا نہیں
فلاں کے فلاں کی آج تو قل خوانی ہے,
کل تو فیر لولی تھی پونڈز فیس واش تھا
دیکھو میری حالت آج, خالی صابن دانی ہے,
ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کو کاٹ کاٹ ڈالا ہے
شیمپو کی بوتل میں فقط پانی ہی پانی ہے,
مت پوچھ مجھ سے میرے کوٹ کی حقیقت
شاید یہ ایرانی ہے یا افغانی ہے یا پھر جاپانی ہے,
پچھلے مہینہ کا بھی کرایہ دے نہ پاٸے تھے
آج اس مکان سے بھی ہماری نقل مکانی ہے,
کل ہم ان کے گھر اچھے پھل لے گٸے تھے,
آج ان کے ہاتھ میں نہ سیب ہے نہ خوبانی ہے,
دوست کے بھیجے کیک کو فلاں کے گھر بھیج دو,
کیک تو فیشن ہے, ہم نے سادہ غذا کھانی ہے,
ایک اے سی روم میں چھوٹے بڑے جمع ہیں
نٸی نویلی دلہن کے چہرے پہ حیرانی ہے,
آج کمیٹی نکلی ہے, سب کے چہرے شاداں ہیں,
آج میٹھا بھی بنے گا, آج تو گھڑی سہانی ہے
-
سعید فاطمہ ایک شاعرہ، کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ایم فل زوالوجی اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ آپ کی تخلیقات روزنامہ پاکستان، ماہنامہ انسانیت اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔
افسانہ نویسی کے مقابلوں میں آپ نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شاعری، کالم اور افسانہ—تینوں میدانوں میں آپ کی تحریریں محبت، سماج اور زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
