⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
گوشہ نشینی کا جمال
انسانی فطرت کی گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل سکون شور و ہنگامے میں نہیں بلکہ خاموشی کے گوشوں میں چھپا ہے۔ بظاہر دنیا کی محفلیں جگمگاتی ہیں، شہرت کے ہالے دمکتے ہیں، لیکن دل کی زمین اکثر اس روشنی میں بنجر رہتی ہے۔ وہاں نہ قربت ملتی ہے، نہ محبت۔
شاعر نے کیا خوب کہا:
“اتنی بھی بری چیز نہیں یہ گوشہ نشینی
ہم ٹھاٹھ سے رہتے ہیں، گزارا نہیں کرتے”
یہ محض ایک شعر نہیں، بلکہ طرزِ فکر ہے۔ گوشہ نشینی دراصل کٹ جانا نہیں بلکہ جُڑ جانا ہے—اپنے اندر سے، اپنے خالق سے، اپنی روح کی اُس دھڑکن سے جو روزمرہ کی دوڑ دھوپ میں دب کر رہ جاتی ہے۔
ہجوم میں رہنے والا انسان اکثر خود سے بیگانہ ہو جاتا ہے، مگر تنہائی کے لمحے اُسے اپنے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ وہاں کوئی دکھاوا نہیں، کوئی مصلحت نہیں، صرف وہ اور اس کا ضمیر ہوتا ہے۔ اور یہی ملاقات سب سے بڑی نعمت ہے۔
ہمارا معاشرہ آج بھی کامیابی کو سامان، شہرت اور رسوخ میں تولتا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ کبھی کامیابی کا مطلب کم ہونا بھی ہے: کم خواہشیں، کم باتیں، کم آرزوئیں۔ یہی کمی انسان کو اصل آزادی دیتی ہے۔
گوشہ نشینی کا جمال یہ ہے کہ یہ ہمیں دنیا کی شوریدہ سر دوڑ سے الگ کر کے ایک ایسے آسمان کے نیچے لا بٹھاتی ہے جہاں سکون جھلملاتا ہے، دعا مہکتی ہے اور روح اپنی اصل پر لوٹ آتی ہے۔
یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گوشہ نشینی اندھیرا نہیں بلکہ روشنی ہے—وہ روشنی جو اندر سے پھوٹتی ہے اور انسان کو اپنے رب کے قریب لے آتی ہے۔
