⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
خلق خدا کا سہارا بنے
اس وقت ہمارا ملک پاکستان شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے ۔ اس نے ایسی تباہی مچائی ہے کہ بیان سے قاصر ہے، سیلاب نے گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر اجاڑ دیے ہیں، کھاتے پیتے، ہنستے بستے لوگ آہ و زاری کر رہے ہیں، بے یار و مددگار ہمیں پکار رہے ہیں۔سیلاب نے پنجاب کو ادھے سے زیادہ اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ہر طرف پانی ہی پانی لوگوں کے مال مویشی فصلیں گھر کاروبار پانی کی نظر ہو گئے ۔اور بحیثیت مسلمان بحیثیت انسان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بھائیوں بہنوں کی مدد کے لیے میدان عمل میں ائیں ان بے سہاروں کا سہارا بنے ۔
آئیے! ان سب کا دست و بازو و مددگار بنیں اور کشادہ دلی اور اعلی ظرفی سے ان کی مدد کریں یہ ہمارا دینی اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے، اس موقع پر سخاوت کیجیے اور بخل سے اجتناب برتیے۔
جب کسی نعمت پر بندہ شکر گزار ہوتا ہے تو اﷲ کریم اپنا فضل و کرم اس بندے کے شکر کے صلے میں اور زیادہ فرما دیتا ہے اور یہ بہت غلط ہے کہ اﷲ کسی پر اپنی نوازش اور کرم کرے اور بندہ اس کو چھپائے اور اپنے آپ کو خستہ حال اور لاچار و مجبور ظاہر کرے۔
ایسا کرنا اﷲ کی نعمت کی ناشکری ہے اور اﷲ بھی جب کسی کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی عطا کرد ہ نعمت کا اثر اس بندے کے رہن سہن، کھانے پینے، لباس مسکن اور لین دین غرض ہر چیز پر پڑے، اس کے ہر عمل سے اﷲ کی نعمت کے ملنے کا اظہار شکرانہ کی صورت میں ہو، یہ نہ ہو کہ اﷲ تو اس کو اپنے فضل سے نواز رہا ہو اور وہ اپنے قول و فعل سے اس کی نعمتوں کی ناشکری کرے۔ دراصل وہ ہر کس و ناکس پر اپنی مجبوری اس لیے ظاہر کرتا ہے تاکہ جو فضل اﷲ نے اس پر کیا ہے اس میں دوسروں کو حصے دار نہ بنانا پڑے۔
قرآن پاک میں رب کریم ارشاد فرماتا ہے، مفہوم: ”جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا ہرگز نہیں! وہ توڑ ڈالنے والی آگ میں پھینکا جائے گا۔” (الھمزہ) تو معلوم ہوا کہ جس نے مال جمع کیا اور اسے نہ اپنے اوپر خرچ کیا نہ اپنے اہل و عیال پر اور نہ ہی دوسرے ضرورت مندوں پر تو ایسے شخص سے اﷲ بہت سخت حساب لے گا، جو مال و دولت اﷲ اپنے کرم سے کسی بندے کو دیتا ہے۔
اس میں غریبوں اور ناداروں کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے، سب سے پہلا خاندان کے غریب و نادار رشتے داروں کا ہوتا ہے جن کے حالات سے خاندان کے لوگ بہت اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اس کے بعد یتیموں، محتاجوں اور مسافروں کا حق ہے، اﷲ نے جو بھی مال دیا ہے اسے تمام حق داروں میں درجہ بہ درجہ تقسیم کرنے سے اﷲ کی خوش نودی حاصل ہوتی ہے، یہ صحیح نہیں ہے کہ اپنی خواہشات کو انسان اتنا بڑھا دے کہ ان حق داروں کا حصہ بھی خود ہڑپ کر لیا جائے، جو ان کے مال میں سے اﷲ نے بہ طور امانت اسے ان لوگوں کو حق دیا ہے۔ یہاں ہماری بحیثیت پاکستانی بحیثیت مسلمان ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی بہن بھائیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں ۔تو اسی طرح حکومت وقت سے بھی اپیل ہے کہ سیلاب زدگان کے لیے فوری امداد کا اعلان کریں اور ان کے گھروں کی بحالی کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔
