انسان اور اےآئی

مصنوعی ذہانت یعنی کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) آج کے دور میں سائنس کی سب سے بڑی ترقی اور شاید آنے والے دور کا سب سے بڑا سوال بن چکی ہے۔ ہر عام و خاص اس کو ہرممکن استعمال کر رہا ہے۔ کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کے استاد ہوں یا طلبہ ، پروجیکٹ ہو یا اسائمنٹ ، AI کہتی ہے “میں ہوں نہ ، مجھے بتائیے میں کس طرح سے آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟” ۔یہاں میں یہ وضاحت کر دوں کہ AI ایک سسٹم ہے اس لیے اس کو اردو میں “کا اور کی ” دونوں لحاظ سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔80 کی دہائی میں سائنس دانوں کا دیکھا ہوا روبوٹ بنانے کا خواب آج کے 2025 میں پورا ہو چکا ہے، یہ روبوٹ سسٹم کی شکل میں کوڈ لکھتا، تصویریں بناتا، بیماریوں کی تشخیص کرتا ،اور انسان کی طرح گفتگو کرتا ، مشورے دیتا اور انسانی نفسیات کے پیشِ نظر ڈھارس بھی بندھاتا ہے— اور اس سے بھی بڑھ کے یہ ایسا سب انسانی زبانوں میں کرنا چاہتا ہے۔ انگلش ، اردو ،چائینز ، رشین ، ہندی اور بہت سی زبانیں یہ لکھ اور بول سکتا ہے ۔ تیسری دنیا کے لیے یہ سب بہت حیرت انگیز ہے اور اس کی چھوٹی سی صلاحیت بھی بے دریغ اور بنا سوچے سمجھے استعمال کی جا رہی ہے ۔
لیکن AI کی اتنی خصوصیات جاننے کے بعد جب نئے طالبہ خود سیکھنے کی بجائے اس سے مدد لیں گے تو کیا وہ آگے جا کر ترقی کے اس معیار کو قائم رکھنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔؟اور اگر صرف AI کی معلومات ہی قابلِ سند سمجھی جائیں اور AI سسٹم غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو اس کا جو انجام ہوگا وہ ایک بڑی تباہی کی صورت میں سوچا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر، خودکار کیمرے ، فوجی مشینیں اور ڈرون حملے جو بغیر اخلاقیات کے زندگی اور موت کے فیصلے کریں تو؟۔اسی طرح جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے بھی AI کو ہتھیار بنایا جائے تو۔؟
اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ ضروری ہے انسان قوانین اور اصول بنائے تاکہ AI ہمیشہ اس کے قابو میں رہے۔ ورنہ خطرہ یہ ہے کہ مشینیں اتنی طاقتور ہو جائیں کہ انسان کے فیصلوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔

  • مریم ڈار سکرپٹ رائٹر ، ناول نگار، کالم و تجزیہ کار، رائٹر ، و شاعرہ ہیں

    کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہیں

    مریم ڈار کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ ایک تخلیقی کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *