خاموشی بھی بولتی ہے

خاموشی بھی بولتی ہے

اُس سے روٹھ کے یوں لگتا ہے
خاموشی بھی بولتی ہے
دیواریں بھی گویا ہیں
کمرے کی بے ترتیبی اب تو
پہلے سے بھی بڑھ کر ہے
گرچہ جلدی سو جاتا ہوں
بدن ہے پھر بھی تھکا ہوا
چہرہ ہے مرجھایا سا
دل میں بے چینی ھے رقصاں
خوامخواہ ہی الجھ پڑا تھا
ایک اکیلے دوست سے کل میں
غصہ بھی ہے الفت بھی ہے
لیکن اب کی بار ہے سوچا
میں بھی جی لوں گا اب تنہا
زہربھی پی لوں گا اب تنہا
اس خاموشی، تنہائی کو
اب کے میں نہ توڑوں گا
اُس سے روٹھ کے یوں لگتا ہے
خاموشی بھی بولتی ہے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *