خاموشی بھی بولتی ہے
اُس سے روٹھ کے یوں لگتا ہے
خاموشی بھی بولتی ہے
دیواریں بھی گویا ہیں
کمرے کی بے ترتیبی اب تو
پہلے سے بھی بڑھ کر ہے
گرچہ جلدی سو جاتا ہوں
بدن ہے پھر بھی تھکا ہوا
چہرہ ہے مرجھایا سا
دل میں بے چینی ھے رقصاں
خوامخواہ ہی الجھ پڑا تھا
ایک اکیلے دوست سے کل میں
غصہ بھی ہے الفت بھی ہے
لیکن اب کی بار ہے سوچا
میں بھی جی لوں گا اب تنہا
زہربھی پی لوں گا اب تنہا
اس خاموشی، تنہائی کو
اب کے میں نہ توڑوں گا
اُس سے روٹھ کے یوں لگتا ہے
خاموشی بھی بولتی ہے
-
زبیر احمد نے لکھنے کا آغاز ہفت روزہ بچوں کا اسلام کراچی سے کیا پھر تمام دیگر رسائل ماہنامہ ذوق و شوق تعلیم و تربیت نونہال بچوں کی دنیا بچوں کا باغ اور جگنو میں لکھنے کا سلسلہ جاری رہا تعلیم کے دوران ہی صحافت سے منسلک ہوگئے پوسٹ مارٹم گروپ آف نیوز پیپر میں کرائم رپورٹر کے طور پہ کام کیا اس کے علاوہ روزنامہ بھلیکھا ( پنجابی اخبار ) میں صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں رائل نیوز چینل لاہور میں ایڈمن آفیسر کے طور پہ 2 سال کام کیا اس کے علاوہ ماہنامہ اذان فجر ۔ ماہنامہ ذوق و شوق کے نمائندہ لاہور کے طور پہ کام کیا اینٹی ڈرگ میگزین میں سب ایڈیٹر کے طور پہ کام کیا آج کل انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز ۔این ایف سٹوڈیو کے ساتھ منسلک ہوں لاہور سمیت دیگر شہروں میں مشاعرہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے اور تاحال یہ سفر جاری ہے پہلا مجموعہ کلام تیاری کے مراحل میں ہے
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
