اے رب پاک اے کائنات بنانے والے
کیوں تفرقے میں پڑے ھیں یہ زمانے والے
قتل انساں سے رنگے ہاتھ چھپاتے کیوں ھیں
خون انسان کو سڑکوں پہ بہانے والے
جس میں ھر لحظہ نیا زھر اگلتی ھے زمیں
خاک ھو جائیں گے اس شہر میں جانے والے
سومنات اپنے ھی ہاتھوں سے تو تعمیر نہ کر
تیرے آباء تو تھے ھر بت کو گرانے والے
آبلہ پا ھوں مگر رک نہ سکوں گا زبیر
خود ھی تھک جائیں گے یہ مجھ کو تھکانے والے
-
زبیر احمد نے لکھنے کا آغاز ہفت روزہ بچوں کا اسلام کراچی سے کیا پھر تمام دیگر رسائل ماہنامہ ذوق و شوق تعلیم و تربیت نونہال بچوں کی دنیا بچوں کا باغ اور جگنو میں لکھنے کا سلسلہ جاری رہا تعلیم کے دوران ہی صحافت سے منسلک ہوگئے پوسٹ مارٹم گروپ آف نیوز پیپر میں کرائم رپورٹر کے طور پہ کام کیا اس کے علاوہ روزنامہ بھلیکھا ( پنجابی اخبار ) میں صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں رائل نیوز چینل لاہور میں ایڈمن آفیسر کے طور پہ 2 سال کام کیا اس کے علاوہ ماہنامہ اذان فجر ۔ ماہنامہ ذوق و شوق کے نمائندہ لاہور کے طور پہ کام کیا اینٹی ڈرگ میگزین میں سب ایڈیٹر کے طور پہ کام کیا آج کل انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز ۔این ایف سٹوڈیو کے ساتھ منسلک ہوں لاہور سمیت دیگر شہروں میں مشاعرہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے اور تاحال یہ سفر جاری ہے پہلا مجموعہ کلام تیاری کے مراحل میں ہے
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
