Train to Pakistan
وہ اگست کی تپتی دوپہر تھی۔ اسٹیشن پر ایک غیر معمولی شور برپا تھا۔ لوگ اپنے گھر، اپنی زمینیں، اپنی صدیوں کی جڑیں پیچھے چھوڑ کر ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے، کسی کے ہونٹوں پر دعائیں، اور کسی کے دل میں خوف کہ منزل پر پہنچنے سے پہلے کہیں راستہ ہی قبر نہ بن جائے۔
اسٹیشن پر کھڑی ٹرین بھری ہوئی تھی۔ کھڑکیوں سے لٹکتے ہوئے بچے، ہاتھوں میں بستے اور تھیلے تھامے عورتیں، ٹوٹی ہوئی سانسوں کے ساتھ بوڑھے، اور نوجوان جو ایک نئے دیس کے خواب دیکھ رہے تھے۔ سب کے چہروں پر بے چینی تھی، لیکن سب کے دل میں امید بھی کہ اس سفر کے بعد ایک نئی زندگی ہوگی۔
ایک ماں اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے کھڑی تھی۔ بچے نے پوچھا، “امی، ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
ماں نے لرزتی آواز میں کہا، “بیٹا، ایک نئی جگہ، جہاں ہم محفوظ ہوں گے۔”
لیکن ماں کے دل میں یہ سوال جل رہا تھا کہ کیا واقعی وہاں تحفظ ہوگا؟
ٹرین نے وسل دی اور آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ لوگ ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے، جیسے یہ سفر واپسی کا نہ ہو۔ کھڑکی کے باہر کھڑے رشتہ دار ہاتھ ہلا رہے تھے، کچھ چیخ رہے تھے، کچھ بددعائیں دے رہے تھے۔ اور کچھ کے ہونٹوں پر بس ایک ہی فقرہ تھا:
“سلامت رہنا…!”
ٹرین جب شہر سے باہر نکلی تو اندر کا شور کم ہو گیا۔ کچھ لوگ تھکن سے سو گئے، کچھ دھیرے دھیرے باتیں کر رہے تھے۔ عورتیں بچوں کو دلاسا دے رہی تھیں۔ نوجوان ایک دوسرے سے نئے دیس کی باتیں کر رہے تھے۔ لیکن ہر کوئی دل کے کسی کونے میں ڈرا ہوا تھا۔
ایک بزرگ مولوی صاحب قرآن کی آیات پڑھ رہے تھے۔ ان کی آواز میں لرزش تھی، لیکن وہ سب کو سکون دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک بوڑھی عورت نے ان کے قریب بیٹھے بیٹے سے کہا، “بیٹا، یہ سفر مجھے حج جیسا لگ رہا ہے۔ نہ جانے منزل ملے گی یا نہیں۔”
رات کا اندھیرا گہرا ہوا تو ٹرین کے ڈبوں میں خوف کا سایہ چھا گیا۔ باہر سے کچھ آوازیں آئیں، چیخنے چلانے کی، اور پھر فضا میں ایک خوفناک سناٹا۔ کچھ لوگوں نے کھڑکیوں سے جھانکنے کی کوشش کی لیکن اندھیرا بہت گھنا تھا۔
اچانک ایک ڈبے کے دروازے پر زوردار دھماکہ ہوا۔ ٹرین رک گئی۔ اور پھر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ دروازے توڑ کر کچھ لوگ اندر گھس آئے۔ ہاتھوں میں کلہاڑیاں، تلواریں، ڈنڈے۔ ان کی آنکھوں میں خون سمایا ہوا تھا۔بچوں کی چیخیں، عورتوں کی سسکیاں، بوڑھوں کی فریادیں سب کچھ ایک ساتھ گونجنے لگا۔ لوگوں کو بے دردی سے مارا جانے لگا۔ کسی کی کھوپڑی پھٹی، کسی کا گلا کاٹا گیا، کسی کو جلتی مشعل سے زندہ جلا دیا گیا۔ٹرین میں بھرا ہوا سفر اچانک ایک چلتا پھرتا قبرستان بن گیا۔
ایک نوجوان اپنی بیوی کو بچانے کے لیے ڈھال بن گیا، لیکن چند ہی لمحوں میں اس کے جسم سے خون کا فوارہ پھوٹا۔ وہ زمین پر گرا اور اس کی بیوی چیختی رہ گئی۔ ایک اور ماں نے اپنے بچے کو چادر میں لپیٹ کر سینے سے لگا لیا، لیکن تلوار نے چادر اور بچے دونوں کو چیر دیا۔مولوی صاحب جو قرآن پڑھ رہے تھے، اب زور زور سے کلمہ پڑھ رہے تھے۔ لیکن ان کے سینے میں نیزہ پیوست کر دیا گیا۔
ٹرین کی روشنی مدھم ہو گئی۔ ہر طرف اندھیرا اور خون کی بو پھیل گئی۔صبح ہوئی تو ٹرین دوبارہ اسٹیشن پر پہنچی۔ مگر یہ وہ ٹرین نہ تھی جو کل روانہ ہوئی تھی۔ یہ ایک خاموش ڈبہ تھا جس میں کوئی ہنسی نہ تھی، کوئی خواب نہ تھا۔ صرف خون، لاشیں اور چیخوں کے نشان باقی تھے۔
اسٹیشن کے مزدوروں نے جب دروازے کھولے تو وہ منظر دیکھ کر زمین پر گر پڑے۔ عورتوں کے بے جان وجود، بچوں کے کٹے پھٹے جسم، جوانوں کی مسلی ہوئی لاشیں۔ اور بیچ میں وہ ماں جو اب بھی اپنے مردہ بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔
ٹرین خالی آنکھوں اور ساکت وجودوں کی گواہی دے رہی تھی۔
لوگ یہ منظر دیکھ کر سکتے میں آگئے۔ کسی نے کہا،
“یہ ٹرین نئی منزل کے لیے نکلی تھی، مگر یہ تو قبروں کا کارواں بن گئی۔”
کوئی چیخ رہا تھا، کوئی روتا تھا، کوئی چپ کھڑا رہ گیا۔ لیکن سب کے دل میں ایک ہی سوال جل رہا تھا۔ان معصوموں کا کیا قصور تھا؟ وہ بچے جو کبھی زندگی نہیں جی سکے، وہ عورتیں جو خواب دیکھتے دیکھتے مر گئیں، وہ بوڑھے جو سکون کی امید میں نکلے تھے۔
ٹرین پھر بھی خاموش تھی۔ اس کے پہیوں پر جما خون، اس کے اندر بکھری لاشیں اور اس کی دیواروں پر لکھے گئے سوال، یہ سب کچھ بتا رہا تھا کہ آزادی کے اس سفر کی قیمت کتنی مہنگی تھی۔
یہ کہانی ختم نہیں ہوتی۔ یہ ٹرین آج بھی کہیں نہ کہیں چل رہی ہے۔ نئی منزلوں کی تلاش میں، نئے خوابوں کے ساتھ۔ لیکن اس کے ڈبے اب بھی ان معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جو کسی جرم کے بغیر مار دیے گئے۔

شکریہ