انتظار کا چراغ

انتظار کا چراغ



گاؤں کی کچی گلی میں شام ڈھل رہی تھی۔ آسمان پر سورج کی لالی ایسے پھیل گئی تھی جیسے کسی نے لال رنگ کی سیاہی پانی میں گھول دی ہو۔ پرانا دروازہ جس پر زنگ کی لکیریں جا بجا کھنچی تھیں، اس کے عین سامنے ایک بوسیدہ کرسی رکھی تھی۔ اس کرسی پر ایک ماں بیٹھی تھی، جھکی کمر، لرزتے ہاتھ، اور آنکھیں مسلسل کچے راستے کی دھول میں جمی ہوئی۔
یوں لگتا تھا جیسے اس کی نظریں اب پتھر ہو گئی ہوں نہ جھپکتی تھیں، نہ ہٹتی تھیں، بس ایک ہی سمت میں گاڑھی ہوئی تھیں۔
گاؤں کی عورتیں اکثر اس سے کہا کرتیں:
“مائی، کب تک دروازے پہ بیٹھی رہو گی؟ دس برس ہو گئے، وہ آیا نہیں۔”
وہ ہلکی سی مسکراتی اور بس اتنا جواب دیتی:
“دس سال کیا ہوتے ہیں، ماں کے انتظار کے مقابلے میں؟”
اس کی آنکھوں میں روشنی کا ایک ٹمٹماتا سا دیا تھا۔ وہ دیا جو بجھنے سے پہلے آخری سانس تک جلتا رہتا ہے۔
اسے یاد آیا، وہ دن جب اس کا بیٹا پہلی بار باہر جانے کی ضد پر بضد ہوا۔
“امی، میں پڑھ لکھ کر کیا کروں گا یہاں؟ زمین ہماری نہیں، روزگار ہمارا نہیں۔ یہاں مستقبل نہیں ہے۔ باہر جا کے کچھ کمالوں گا، آپ کے لیے پکا مکان بنا دوں گا۔”
ماں نے اسے ڈانٹا تھا:
“بیٹا، یہ ڈنکی شنکی کے رستے نہ سوچ۔ لوگ سمندر میں مر جاتے ہیں۔”
بیٹے نے مسکرا کر کہا تھا:
“امی، میں کون سا پاگل ہوں؟ میں تو لیگل طریقے سے جا رہا ہوں۔ سب ٹھیک ہے، بس دعا کریں۔”
ماں نے چپ چاپ اپنی پرانی چادر کے پلو میں آنسو چھپا لیے۔ مگر وہ دل ہی دل میں خوش بھی تھی، شاید بیٹے کا خواب اس کے خوابوں کو بھی رنگ دے دے۔
لیکن خواب کبھی کبھار راستے بدل دیتے ہیں۔
ایجنٹوں نے اس کے بیٹے کو اپنے جال میں پھانس لیا۔ وہ جو ویزے اور کاغذوں کے خواب لے کر نکلا تھا، سمندر کے کنارے ایک اندھیرے راستے پر جا پہنچا۔
ماں کو خبر ہی نہ ہوئی۔ اس کے لیے تو بس اتنا جاننا کافی تھا کہ بیٹا باہر جا رہا ہے، کچھ کمانے، کچھ کرنے، اپنی قسمت بنانے۔
پہلا سال گزرا، دوسرا، پھر تیسرا۔
پہلے پہل بیٹے کی خبریں آئیں۔ ایک خط، ایک فون کال۔
پھر خبریں آنا بند ہو گئیں۔
ماں کا انتظار بڑھتا گیا۔
دن بدن اس کی آنکھوں کے گرد جھریاں پھیلتی گئیں، جیسے کھیت میں دراڑیں پڑتی ہیں جب بارش برسنا چھوڑ دیتی ہے۔
گاؤں کے لوگ طنز کرتے:
“ارے مائی، تیرا بیٹا باہر جا کے عیاشی کر رہا ہوگا۔ تیرے پاس آنے کی فرصت کدھر!”
وہ چپ رہتی۔
بس دروازے کی چوکھٹ تھام کر سوچتی رہتی: اگر وہ نہیں آ رہا، تو ضرور کوئی مجبوری ہوگی۔
دس برس بعد ایک دن دروازے پر دستک ہوئی۔
ماں کی آنکھوں میں اچانک روشنی لہریں لینے لگی۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے کی طرف دوڑی۔
سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا۔ مگر اجنبی کی آنکھوں میں اس نے پہچان دیکھی، یہ اس کے بیٹے کا دوست تھا، محلے کا ہی ایک لڑکا جو اس کے ساتھ باہر گیا تھا۔
ماں نے ہڑبڑا کر سوال کیا:
“بیٹا کدھر ہے؟ کیسا ہے؟ آیا کیوں نہیں؟”
وہ شخص خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر کپکپاہٹ تھی۔
ماں نے سوال دہرایا:
“بیٹا کہاں ہے میرا؟ دس سال ہو گئے، کب تک مجھے ترساؤ گے؟”

سامنے کھڑے اجنبی نے ہونٹ بھینچ لیے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آخر اس نے جیب سے ایک پرانا سا لاکٹ نکالا، زنجیر پر لگے اس لاکٹ میں کسی وقت کی تصویر تھی، مگر اب تصویر دھندلا چکی تھی۔
ماں نے کانپتے ہاتھوں سے لاکٹ تھاما۔ ایک جھٹکے سے جیسے سانس رک گئی۔
اس لاکٹ میں وہی تصویر تھی جو اس نے خود اپنے بیٹے کے ساتھ کھینچوائی تھی، جب وہ جانے سے پہلے کہہ رہا تھا:
“امی، یہ تصویر والا لاکٹ ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا۔ جب میں واپس آؤں گا، تو آپ کے ہاتھ میں یہی لاکٹ سب سے پہلے رکھوں گا۔” صرف لاکٹ لوٹا، بیٹا نہیں۔
ماں کی چیخ گلے میں اٹک گئی۔
اجنبی نے آہستہ سے کہا:
“ماں جی! وہ نہیں آیا۔ نہ اب آئے گا۔”
ماں کی آنکھیں پھیل گئیں، ہونٹ کپکپانے لگے:
“کیا مطلب؟”
وہ بولا:
“ہم دونوں ایک ہی کشتی میں تھے۔ بحیرہ روم میں طوفان آیا۔ کشتیاں ڈوب گئیں۔ بہت سے لوگ سمندر نے نگل لیے۔ آپ کا بیٹا بھی انہی میں تھا۔ میں بچ گیا، بس یہ لاکٹ میرے ہاتھ لگا۔”
ماں کے کانوں میں شور گونجنے لگا۔ گاؤں کی عورتوں کی باتیں، اپنے ہی دل کی تسلیاں، سب آوازیں ایک ساتھ چٹخنے لگیں۔
وہ زمین پر گر پڑی۔ لاکٹ کو سینے سے ایسے لگا لیا جیسے بیٹا خود واپس آ گیا ہو۔
آنسو اس کی جھریوں میں بہہ بہہ کر کھو جاتے تھے۔ مگر لبوں پر ایک ہی جملہ بار بار آ رہا تھا:
“وہ آئے گا، وہ ضرور آئے گا، بیٹے نے وعدہ کیا تھا”
صبح جب سورج نکلا، تو صحن میں چارپائی خالی تھی۔ دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اور زمین پر ایک لاکٹ پڑا تھا، جس میں ماں اور بیٹے کی تصویر تھی۔
محلے کے لوگ کہتے ہیں:
“بوڑھی ماں رات ہی کو چل بسی۔”
کسی نے کہا:
“وہ بیٹے کے دکھ سے مری ہے۔”
کسی نے کہا:
“نہیں، وہ تو بس بیٹے سے ملنے کے بعد سکون پا گئی ہے۔”
لیکن سمندر کی لہریں اب بھی شور کر رہی تھیں، جیسے کہہ رہی ہوں:
“یہ سب سرحدوں کے کھیل ہیں جنہوں نے خوابوں کو بہا دیا، اور گھروں کو اجاڑ دیا۔”

پیغام:
یہ کہانی ایک ماں کی نہیں، ہزاروں ماؤں کی کہانی ہے۔
جن کے بیٹے خوابوں کی سرزمین کی تلاش میں نکلے
اور سمندر کی بے رحم لہروں نے نگل لیے۔
لیکن ان گھروں میں دروازے پر رکھا چراغ ابھی بھی جل رہا ہے۔
وہ چراغ جو صرف روشنی نہیں دیتا، بلکہ امید کا استعارہ ہے۔
ماں کے ہاتھوں میں تھامے ہوئے لاکٹ کی مانند، یہ چراغ یاد دلاتا ہے کہ محبت، انتظار اور خواب وقت اور موت کے کناروں سے بھی آگے زندہ رہتے ہیں۔

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *