وصیت
دیوار پر لگی پرانی گھڑی جیسے وقت کے زخم گن رہی تھی۔
گھر کے صحن میں خاموشی اتر چکی تھی — وہ خاموشی جو کسی کے چلے جانے کے بعد برسوں ٹھہری رہتی ہے۔
اماں کو گئے تقریباً دو ماہ بیت گئے۔ ختم، قرآن خوانی، چالیسواں — سب رسمیں ادا ہو چکی تھیں۔
اب صرف اُن کی خوشبو تھی، جو دیواروں سے لپٹی تھی اور سانسوں میں چھبتی جاتی تھی۔
بوڑھے ابّا چارپائی پر بیٹھے تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔
ہر دانے کے ساتھ کوئی یاد چھوٹتی، کوئی دعا ٹوٹتی۔
ان کے چہرے پر وقت نے تھکن کی لکیریں گہری کر دی تھیں۔
دروازہ ہلکا سا چرچا، اور دونوں بیٹے اندر آئےعمران اور کاشف۔ دونوں شادی شدہ، اپنے اپنے گھروں کے سردار، مگر آج اپنے باپ کے سامنے وہی دو بچے بنے کھڑے تھے جنہیں کبھی اماں نے ایک ہی پیالے سے کھلایا تھا۔
عمران نے کھنکھناتی آواز میں کہا،
“ابا، ذرا بات کرنی تھی۔”
ابا نے تسبیح روک لی،
“ہاں بیٹا، بولو۔”
کاشف نے جیب سے ایک پرچی نکالی،
“ابا، وہ… قل خوانی اور چالیسویں پر جو خرچ ہوا ہے نا، ہم سوچ رہے تھے وہ آپ دے دیں۔ آخر اماں کی ذمہ داری گھر کی تھی۔”
ابا کی آنکھوں میں چند لمحے کے لیے خاموشی جم گئی۔
پھر وہ اٹھے، اندر گئے، اور ایک پرانی پوٹلی لے کر واپس آئے —
وہی پوٹلی جس میں کبھی اماں نے عید پر بچوں کے نئے نوٹ چھپائے تھے۔
ابا نے پوٹلی کھولی۔
اس میں چند نوٹ، چند سکے، ایک پرانی انگوٹھی، اور ایک پھٹی ہوئی رسید رکھی تھی۔
انہوں نے وہ دونوں بیٹوں کے سامنے رکھی۔
“یہ لو، جو کچھ ہے… بانٹ لو۔ شاید اتنا ہی کافی ہو تمہاری ماں کے مرنے کا حساب چکانے کے لیے۔”
دونوں بیٹے چپ۔
“مجھے لگتا تھا، بیٹا، تم ماں کے لیے دعا مانگو گے…
پر تم تو حساب مانگنے آئے ہو۔ تمہیں شاید یاد نہیں، تمہاری ماں نے کبھی تم سے محبت کا حساب نہیں مانگا۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولے،
“آج میں اپنی وصیت لکھ رہا ہوں۔ زبانی، مگر ہمیشہ کے لیے۔
میرے مرنے کے بعد کوئی ختم نہ کرنا، کوئی چمارات نہ رکھنا۔
نہ قل، نہ تعزیت۔
کیونکہ میرے بعد تمہیں قرض دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔
میں نہیں چاہتا کہ میری موت بھی تمہارے لیے مالی بوجھ بن جائے۔”
پھر وہ آہستہ سے تسبیح کے دانے گرانے لگے۔
ہر دانہ زمین پر گرتا، تو جیسے ایک دعا ٹوٹ جاتی۔
“اور ہاں،” وہ رکے، “آج سے تمہارا ماں کے ساتھ حساب بھی ختم۔
دعا وہی کرتا ہے جو دل سے جڑا ہو۔
تم نے رشتہ حساب سے تولا ہے۔ اب محبت تمہارے نصیب میں کہاں۔”
ان کی آواز میں ایک ایسی ٹھنڈک تھی جو جلتے دلوں کو بھی منجمد کر دے۔
دونوں بیٹے نظریں جھکائے دروازے کی طرف بڑھے۔
ابا نے آسمان کی طرف دیکھا،
اور زیرِ لب کہا:
“پروردگار… یہ کیسی اولاد دی، جو مرنے والوں سے پیسے مانگتی ہے، اور جیتوں کو تنہائی دیتی ہے؟”
اندر دیوار پر اماں کی تصویر مسکرا رہی تھی۔
ایسے جیسے کہہ رہی ہو:
“میں نے محبت کا بیج بویا تھا، شاید زمین پتھریلی نکلی۔”
صحن میں گرے ہوئے تسبیح کے دانے چمکنے لگے۔
چاندنی نے انہیں چھوا، اور ابا کی وصیت نے گھر کی فضا میں ایک ناقابلِ بیان اداسی گھول دی۔
وقت جیسے لمحہ بھر کو رُک گیا۔
شاید خود بھی شرمندہ ہو گیا کہ اتنا ظالم کیوں ٹھہرا۔
