روشنی کے امین
“رات کو پردیس میں دن کیسے چڑھتا ہے ابھی تک میں یہ بات میں نہ سمجھی ،” دادی نے چلتے چلتے سوال کیا۔
” کیونکہ زمین اپنے مدار میں گھومتی ہے، ” گیارہ سالہ عرفہ نے جھٹ سے جواب دیا ۔
“لو بھلا گھومتی ہے تو ہم گِر کیوں نہیں جاتے؟ ” دادی دو جماعتیں پاس تھیں۔
,دادی میں آپ کو گھر جا کے پورا سمجھاؤں گی بلکہ اپنی کتاب دکھاؤں گی، لیکن دادی بابا نے آج کیوں فون کیا ہے،وہ تو سنڈے کو فون کرتے ہیں،” پڑھی لکھی عرفہ کہاں خاموش رہتی تھی۔ مگر یہ گاؤں شام و شام ہی خاموش ہو جاتا تھا،گاؤں میں تھا ہی کون زمین کی پیداوار کم سے کم ہونے کی وجہ سے کچے مکانوں کے سمجھدار جوان مکین پر دیسوں اور شہروں میں مزدوریاں کر رہے تھے،تاکہ آنے والی نسل تعلیم کے تیل سے روشنی حاصل کرے۔
” تیرے بابا نے اس لیے فون کیا ہے کیونکہ تیرے ہونے والے مقابلے کے لیے فیس جمع کروانی ہے، پورے ضلع میں تیرا مقابلہ ہےا ب تو اتنی لائق جو ٹھہری، دادی نے اسے جانے کا مقصد بتایا۔”دادی بابا کو کیسے معلوم پڑا مجھے تو ابھی کل ٹیچر نے بتایا ہے ، آپ نے کیسے بتایا دادی مجھے بتاؤ نا ، بابا تو ہمارے پاس نہیں رہتے”، عرفہ نے پوچھا ۔” لو کر لو بات ارے وہ ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے ساتھ تو ہے وہ چاند کی طرح ، دیکھو کتنا روشن اور صاف، اور تم یہ مقابلہ جیتنا ،اور مجھے چاند کی سیر ضرور کروانا ، بیٹی تعلیم ہے تو شعور ہے،میرے زمانے میں تو سکول جانے پہ مار پڑتی تھی۔”دادی نے سب باتیں ایک ساتھ کہہ ڈالیں ۔” چاند پہ نہیں دادی میں آپ کو مریخ پر لے کے جاؤں گی , لو آگیا چاچے کا گھر ،” عرفہ نے کہا۔
” مریخ پہ ، یہ کیا بلا ہے؟”، دادی نے چاچے کا دروازہ بجاتے ہوئے کہا۔ یہ چاچاہی تھا جو عرفہ کے باپ کامران کے بھیجے ہوئے پیسے اِن تک پہنچاتا تھا ۔چاچا تو پہلے ہی ان کے انتظار میں تھا ، دروازہ کھولا تو عرفہ نے گھر میں دوڑ لگائی ، “چا چا میری چاکلیٹ ” ۔؟
” سعیدہ ، خیر ہے ،کامران کا فون آ یا تھا اس نے اسی مہینے دوبارہ پیسے بھیجے ہیں , سب طبیعت وغیرہ ٹھیک ” ، چاچے نے عرفہ کی دادی سے کہا ۔
” ہاں جی چاچا، سب ٹھیک ، عرفہ کو سکول کی طرف سے مقابلے میں جانا ہے ،خرچہ تو سکول نے اٹھایا ہے مگر “، دادی کی بات کو عرفہ نے ٹوکا۔ ” مگر دادی ، امی اور چھوٹے کے پاس کپڑے نہیں ہیں اس کی تیاری کرنی ہے، ہیں نا دادی میں نے ٹھیک کہا ” ۔ چاچا نے اسے چاکلیٹ پکڑائی اور کہنے لگے : ” تم نے کبھی غلط بھی کہا ہے ، اب جیت کے ہی آنا ” ۔
“چاچا ہار جیت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے “, زمانے کی سیانی عرفہ نے انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کیا ۔چاچا اور دادی بے اختیار ہنس پڑے۔چاچے نے روپے تھمائے کہنے لگا ٫ ” اتنا خرچہ نہ کر اِس پہ ،اب کامران پردیس گیا ہے تو کچھ جوڑ لے ” ۔ دادی نے خاموشی سے واپسی کی راہ لی۔
” دادی ، آپ تو ض سے ضعیف ہو، پھر بھی آپ چاچا کو چاچا ہی کہتی ہو” عرفہ نے چلتے چلتے پوچھا ۔
دادی کا دھیان تو چاچے کی بات پر تھا ،” اتنا خرچہ نہ کر اِس پہ ، کامران پردیس گیا ہے تو کچھ جوڑ لے ” ۔ایک موتیوں کی لڑی دادی کی آنکھ سے ٹوٹی تو گالوں پہ بکھر گئی، یہ چاچا ہی تھا جس نے دوسری جماعت کے بعد ابا سے کہہ کر اس کو سکول جانے سے صرف اس و جہ سے روک دیا تھا کہ لڑ کی پڑھ کے کیا کرے گی اور صرف سولہ سال کی عمر میں شادی اور بعد کی غربت نے دادی کو کچھ سوچنے نہیں دیا ، کامران کو اس نے ہر ممکن کوشش کر کے دس پاس کروا دیں تھیں لیکن بڑھتی مہنگائی اور ضرورتوں نے گھر کی نیہ ہلا دی تھی ،گاؤں میں اتنے سالوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی تھی کون تھا جو سرکار کا دھیان اپنی بجائے گاؤں کی طرف کرواتا، گزرتے وقت کے ساتھ عرفہ میں اس نے خود کو دیکھا تھا ۔
“دادی بتاؤ نا”، عرفہ اسی بات پہ اٹکی تھی۔
” مشکلیں انسان کی شکل بدل دیتی ہیں۔ انسان جوان ہو کر بھی بوڑھا لگتا ہے ، تمہیں پتہ ہے چاچا میرے ابّا سے دو تین سال چھوٹا تھا ، چار حج کیے ہیں اس نے۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔دادی بات کرتے کرتے رک گئی ا سکی جوتی ٹوٹ گئی تھی۔
“دادی آپ جوتا بھی نیا لینا “،عرفہ نے کہا۔
روتی ہوئی دادی مَن و مَن مسکرا دی ابھی تواس نے عرفہ کی کئی منزلیں طے کروانی تھیں ۔
” یہ مریخ کیا ہے ؟ کیا کہہ رہی تھی تم “، دادی نے عرفہ کو چابی دی
” دادی میں بتاتی ہوں” دانی پرداھنی عرفہ تو اب گھر کے راستے تک مریخ پر بولنے والی تھی ، دادی نے جو روشنی اس کی ہتھیلی پہ رکھ دی تھی عرفہ بھی اس کو جلائے رکھنے میں امین نکلی۔
