⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
ہمیں پڑھنے دو
پاکستان میں ایمرجنسی اور اسکولوں کی بندش پر ایک اداریہ
پاکستان ایک بار پھر ایمرجنسی کی زد میں ہے۔ وجہ سیاسی دھرنا ہوتجارتی ہڑتال ہو ، فضا میں اٹھتا زہریلا دھواں ہو یا لوگوں کی آنکھوں میں جلن ، سردی گرمی ہو یا سڑکوں پر گھٹا ٹوپ دھند یہ سب مناظر اب ہمارے روزمرہ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت نے آج کل کے حالات کے پیشِ نظر درست طور پر ایمرجنسی نافذ کی، مگر اس فیصلے کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے: وہ ہے تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش۔
ہر چند ماہ بعد ایمرجنسی ، سموگ، گرمی یا کسی انتظامی بحران کے باعث اسکول بند کر دیے جاتے ہیں۔ بچے گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں، اور تعلیم کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ والدین اور اساتذہ جانتے ہیں کہ یہ وقفے طلبہ کی یکسوئی، نظم و ضبط اور تعلیمی کارکردگی پر کتنا گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ایک پوری نسل سموگ، دھرنوں اور تعطیلات کے درمیان علم کی روشنی ڈھونڈ رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس کوئی ایسا متبادل تعلیمی نظام نہیں جو ان ہنگامی حالات میں بھی بچوں کو سیکھنے سے جوڑے رکھ سکے؟
دنیا بھر میں آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل کلاس رومز، اور ریڈیو یا ٹی وی کے ذریعے تعلیم کے ماڈل کامیابی سے چل رہے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ہر ایمرجنسی کا پہلا حل “اسکول بند” ہی کیوں بنتا ہے؟ اندرونی اور بیرونی عناصر سکولوں پر منفی انداز میں اثر انداز کیوں ہوتے ہیں یہ تحریر کسی تنقید کے لیے نہیں، بلکہ ایک پکار ہے —
“ہمیں پڑھنے دو”۔
ہمیں وہ نظام دو جو سموگ یا سیاست سے مضبوط ہو، جو بندشوں سے آگے نکل کر علم کو جاری رکھ سکے۔
کیونکہ قومیں ایمرجنسی سے نہیں، تعلیم سے زندہ رہتی ہیں۔اور اگر ہم نے اپنے بچوں کو بار بار کتابوں سے دور رکھا، تو کل کی ایمرجنسی صرف فضا میں نہیں، ذہنوں میں بھی ہوگی۔
ہمیں پڑھنے دو — یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
