⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
6 ستمبر: حب الوطنی کی روشن علامت
ہر قوم کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف فخر و وقار کی علامت ہوتے ہیں، بلکہ آئندہ نسلوں کو قربانی، ایثار اور حب الوطنی کا درس بھی دیتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں 6 ستمبر 1965ء کا دن ایک ایسی ہی تابناک مثال ہے جو دشمن کے ناپاک عزائم کے سامنے فولادی دیوار بن کر ابھرا۔ یہ دن ہمیں اس جذبۂ قربانی، اتحاد، اور بے مثال بہادری کی یاد دلاتا ہے جو پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان نے مل کر دکھایا۔
6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد پار کرتے ہوئے لاہور پر حملہ کیا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ صبح کا ناشتہ لاہور میں کرے گا، لیکن پاکستانی قوم نے اس کے خواب چکنا چور کر دیے۔ دشمن نے پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، مگر اسے یہ علم نہ تھا کہ جس قوم پر وہ حملہ کر رہا ہے وہ نہتی ہو سکتی ہے، لیکن بے غیرت نہیں۔
اس دن افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ بری، بحری اور فضائی افواج نے بے مثال کارنامے سرانجام دیے۔
بری فوج کے میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) نے لاہور کے محاذ پر دشمن کی پیش قدمی روک دی اور جامِ شہادت نوش کیا۔
فضائیہ کے ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں پانچ بھارتی طیارے گرا کر تاریخ رقم کی۔
بحریہ نے بھی دشمن کے ساحلوں تک پہنچ کر اسے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سمندری حدود بھی محفوظ ہیں۔
صرف افواج نہیں بلکہ پوری قوم دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ملی نغمے عوام کے جذبے کو جلا بخشتے رہے۔ “اے راہِ حق کے شہیدو”، “اپنی جاں نذر کروں”، اور دیگر نغمے لوگوں کے دلوں کو گرماتے رہے۔ بچے، بوڑھے، جوان، خواتین سب ہی کسی نہ کسی محاذ پر دشمن کے خلاف صف آراء تھے۔
یہ دن صرف جنگی فتح کا دن نہیں بلکہ قومی شعور، یکجہتی، اور حب الوطنی کا دن ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن کا دفاع صرف بندوق سے نہیں، بلکہ جذبے، اتحاد، ایمان اور قربانی سے ہوتا ہے۔ آج جب ہم 6 ستمبر مناتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے کردار، عمل اور رویوں سے وطن سے سچی محبت کا ثبوت دے رہے ہیں؟
آج وطن کو دشمن صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے — جیسے کرپشن، نفرت، انتشار اور جہالت۔ آج کے نوجوان کا فرض ہے کہ وہ علم، دیانت، ایمانداری اور باہمی محبت سے ملک کو مضبوط کرے۔ 6 ستمبر ہمیں سکھاتا ہے کہ وطن کی محبت صرف جنگ کے دنوں میں نہیں بلکہ ہر روز دل میں زندہ رہنی چاہیے ۔
6 ستمبر پاکستانی قوم کی بہادری، قربانی اور حب الوطنی کی روشن علامت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم ایک ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اس ملک کی حفاظت، ترقی، اور سربلندی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
پاکستان زندہ باد!
