قصے مسافرت کے

قصّے مُسافرت کے


قسط نمبر 08
کاش سب کُچھ یوں نہ ہوتا
بات تم نے سنبھال لی ہوتی ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
بہت دن ہوئے لگتا ہے بے حساب سَمّے بیت گیا , ان کی بات ہی نہیں کی اگلے کہیں گے کہ گََت بنانے کا ماں کا جی چاہا
دراصل کُچھ دنوں سے میں سوچ رہی ہوں کہ کبھی کبھی پریورتن (بدلاؤ) اتنی تیزی سے آتا ہے کہ قصّہ چار نسلوں کا آس پاس کے لوگ باگ , دوریاں, فاصلوں سے جیسے سب کُچھ بدل گیاہو
لیکن اُس دن یعنی کُچھ دن پہلے جب عمر ( منجھلا بیٹا)اور میری بات چیت ہورہی تھی جب میں نے اُسے بتایا کہ دراصل یہ یہ ہوا ہے تو پتہ ہے ! اُسی تیز لہجے میں کہنے لگا : آپ نے ایسا کیوں کہا ؟
میں چونک گئی: کیا!
(دل میں کہا کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے ہاتھ جوڑے ,پاؤں پڑا ,منتیں کیں اور پورے وثوق سے کہا کہ آئندہ ایسا نہ ہوگا – مجھے لگا اگر ابھی میں نے اپنا موڈ درست نہ کیا تو یہ اپنی ستواں ناک سے زمین پر لکیریں ڈالے گا , آج پھر لہجہ گرم تھا وہ تو میں نے آئی ونجائی کردی تھی آخر بات کتنی بڑھائی جائے)
بے دلی سے کہا ٹھیک ہے !
اور وڈیو کال آف کردی دوسرے دن پھر دن نکلنے سے پہلے مُلتجیانہ میسیجز شروع ۰۰۰۰اب وڈیو سے ہاتھ بڑھا کر پاؤں تو نہیں چھوۓ جاسکتے
مصیبت یہ ہے صرف میرے کریں تو پھر بھی ٹھیک ہے۰۰۰۰جنت کا ذکر ہےپر مُصیبت یہ ہے اُدھر بھی پاؤں پڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں بلکہ مجھے لگتا ہے اُدھر پاؤں بھی پکڑ لئے جاتے ہیں۰۰۰۰
خیر یہ میری آنکھوں دیکھا واقعہ ہے اسی 2024کا
ہم سب اپنے مہمانوں کے ساتھ اُس دن ورجینیا بیچ جا رہے تھے۰۰۰۰۰
میں نے زینب سے کہا: ذیشان سے کہو میرا سفری بیگ بھی جاکر گاڑی میں رکھ دے
زینب: اُسے کُچھ مَت کہیں غصّہ سے بے قابو ہورہا ہے
اُسے کیا ہُوا!
دل میں کہا (ہائیں کیا ہوا ابھی تو ٹھیک تھا جب اپنے آفس سے واپس آیا تھا)
زینب میری حیرانگی بھانپ گئی میری بہوؤئیں مزاج شناس ہیں ماشااللہ سبکہنے لگی؛ آنٹی آج ماہی گھر پر تھی نا بار بار ذیشان ( چھوٹا بیٹا ) کو اپنے ٹیب سے فون کر رہی تھی کہ گھر آے تو چِڑ گیا میں بھی تو آخر اپنے آفس سے آئی ہوں
کہا ہاں تم بھی تو تھکی ہوئی ہو حالانکہ دل اُدھر دوسری طرف کھنچ رہا ہو بھی تعریف تو انھی کی کرنی پڑتی ہے ان کے بغیر نہ اُن کی نبھتی ہے نہ میری
آگے تو سُنیں زینب بھی سیڑھیاں اُتر کر نیچے آگئی ہمارے ہیوسٹن کے مہمان بھی تیار تھے بچے بڑے سب کے سب
نیچے اُتر آئے
میں بھی اپنے ہینڈ بیگ میں اپنی میڈیسن وغیرہ رکھ رہی تھی، اب زینب غصّے میں تھی
اُس کے میاں جی نے نا آؤ دیکھا نہ تاؤ جھک جیسے بیگم کے پاؤں چھو لئے اور پکڑ کر گلے لگا لیا اور سارا معاملہ ڈی فیوز !
اور ہم دوگاڑیا ں بھر کے ورجینیا بیچ کی طرف چلے ایک دو دن وہیں گزارنے تھے سب بچوں بڑوں نے
بہت انجوائے کیا الحمدُاللہ
رازی خان ان سب سے بازی لے گیا ہے اب کیا راز کھولوں بڑاہے اور بے مثال نمونہ بھی تو اُسے پیش کرنا تھا بفضلِ تعالࣿی جو اس نے بااحسن و خوبی کیا!آنکھوں سے کاشن لے رہا ہوتا ہے چلو اللہ کا شُکرہے بچے تک کہتے ہیں اصل باس امّاں ہیں!!
مہرالنساء ہے تو اسی بات پر میری اُس کی ٹھن جاتی ہے باپ کی بلکہ گھر بھر کی لاڈلی تم کس کھاتے میں عورت کو اور مضبوط دیکھنا چاپتی ہو ؟
Women Empowerment ……..
میں ان خواتین کے نت رنگ برنگے کارناموں پر ششدر ہوں
اب ماں بیٹی کےتعلقات حسن سلوک کی منزلیں طے کررہے ہیں اور کرتے ہی جارہے ہیں نظرِ بد دور
تھوڑی سی دیر کی وڈیو ٹاک کو زہر آلود نہیں ہونے دیتی وہی بڑی (میں نے)نے سر ڈال دیا
بس کسی نا کسی کو بات سنبھالنی پڑتی ہے یہی دستور ِ زندگی و زمانہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *