ںسرائیکی کےمعروف محقق و شاعر امان اللہ کاظم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
پاک ٹی ہاوس لیہ کے ہال می سرائیکی کے معروف محقق و شاعر اور دانشور امان اللہ کاظم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس ہوا۔ جس صدارت گل عباس اعوان نے فرمائی ۔جبکہ مہمانان خصوصی میں پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین،ڈاکٹر حمید الفت ملغانی، مہمانان اعزاز میں پروفیسر مہر اختر وہاب ڈاکٹر پروفیسر ریاض حسین راہی جبکہ تعزیتی ریفرنس میں فرزند امان اللہ کاظم ڈاکٹر عتیق الرحمن نے خصوصی شرکت فرمائی ۔
اس تعزیتی ریفرنس کی نظامت نعمان اشتیاق نے کی۔تلاوت پرویز منیر اور نعت رسول مقبول کا شرف صادق حسنی نے حاصل کیا ۔استاد الشعراء امان اللہ کاظم کے حالات زندگی اور ان کی علمی ادبی اور تاریخی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جن احباب نے اظہار خیال فرمایا ان میں اقبال حسین دانش میاں شمشاد حسین سرائی ڈاکٹر پروفیسر ریاض راہی ڈاکٹر حمید الفت ملغانی پروفیسر مہر اختر وہاب، ڈاکٹر پروفیسر مزمل حسین، فرزند کاظم ڈاکٹر عتیق الرحمن اور ڈاکٹر گل عباس اعوان شامل تھے ۔اقبال حسین دانش نے ان کی یادوں کےحوالے سے بہت سے واقعات کا ذکر کیا ۔
میاں شمشاد حسین سرائی نے اظہار خیال فرماتے ہوئے اپنے ایک شعر سے ابتدا کی کہ
مفلسی میں خدمتِ شعر و ادب کرتے رہے
قلزمِ آفات میں تعمیل رب کرتے رہے
امان اللہ کاظم کا خاندانی پس منظر اور ان کی تعلیم و تدریس کے حوالے سے ان کی علمی ادبی و ثقافتی اور تاریخی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی ۔انہوں نے امان اللہ کاظم کی اچانک المناک موت کو سرائیکی وسیب کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ۔شمشاد سرائی نے ان کی تحقیقی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔پروفیسر ڈاکٹر حمید الفت ملغانی نے امان اللہ کاظم کی ادبی تاریخی اور ثقافتی خدمات کو سراہا اور مرحوم کی کتابوں سے محبت اور مثبت رویوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین نے استاد امان اللہ کاظم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اکثر اوقات میں اور شمشاد سرائی جب امان اللہ کاظم صاحب سے ملنے جاتے تھے تو انہیں ہمیشہ انسان دوست ،ایک اچھے رویوں کے مالک اور اپنے تحقیقی اور تخلیقی کاموں میں مصروف پاتے تھے ۔ فرزند امان اللہ کاظم ڈاکٹر عتیق الرحمن نے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا اور اپنے والد گرامی کے علمی و ادبی سرمایہ کتب کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ فرمایا۔ڈاکٹر صاحب اپنے والد گرامی کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے اور اپنے رہائیش گاہ میں اس نایاب کتب کے سرمایہ کو محفوظ بنائے کے لیے ایک بڑا کمرہ مختص کرنے کا ذکر کیا۔ اور انکی تمام کتابوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کا اعلان کیا۔پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان نے امان اللہ کاظم کی یادوں کے حوالے سے ذکر فرمایا کہ وہ میرے والد کی مانند تھے اور ہم ایک دوسرے کو مسات کہہ کر پکارتے تھے اور تیسرے چوتھے روز اکثر میرا ان سے رابطہ رہتا تھا۔ وہ ہماری تنظیم کے سرپرست تھے۔ آخر پر پروفیسر مہر اختر وہاب نے مرحوم و مغفور امان اللہ کاظم کے لیے دعائے مغفرت کرائی ۔اس کے بعد مہر اختر وہاب صاحب نے ان کے فرزند سے غیر رسمی گفتگو میں مرحوم کے ساتھ بیتے ہوئی بہت ساری یادوں کا ذکر کیا ۔تعزیتی ریفرنس کے آخر پر ایک یادگار فوٹو بنایا گیا ۔اس تعزیتی ریفرنس کا انتظام انصرام یاسین بھٹی صابر جاذب اور مجاہد حسین مجو نے کیا ۔تنظیم کے چیئرمین حاجی محمد سلیم اختر جونی نے سرپرستی فرمائی ۔تعزیتی ریفرنس میں لیہ کے شعراء و ادباء نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی ۔
