تیری خوشبو،ہوا نہیں ملتی
سانس بھی ہر جگہ نہیں ملتی
شہر کا شہر چھان مارا ہے
تیرے دکھ کی دوا نہیں ملتی
آستانوں کی خاک چھانی ہے
ماں کے جیسی دعا نہیں ملتی
کیسے چھوڑوں گی اپنے گاؤں کو
شہروں میں یہ فضا نہیں ملتی
ٹوٹ کر میں نے یہ بھی جان لیا
ٹوٹے دل کی دوا نہیں ملتی
تو نے مجھ کو بھکاری سمجھا ہے؟
میں بھی نمرہ ہوں جا۔۔نہیں ملتی
-
نمرہ ملک ملٹی لینگویجز رائٹر شاعره.کالمنسٹ،کمپئر.افسانہ وناول نگار ہیں ۔ صحافی ہیں اور چیئرپرسن پریس کلب تلہ گنگ ہیں
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
