سفر گل زمیں کے

سفر گل زمیں کے

قسط نمبر 10
کَندہ شاہ کی پڑ پوتی ، اپنے ہاتھوں سے اپنی مظلومیت داستاں لکھتی ہے –
یہ پشتو مشتو چھوڑو مَڑا کرنا ہے تو فارسی میں بات کرو!
رازی خان : اٗماں یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں کہ نانا ابو نے کہا تھا کہ پشتو چھوڑو ، وہ کیوں ؟ بولتے کہ ہم تو ایران سے آئے تھے فارسی بولتے اگر کوئی دوسری زبان بولتے۰۰۰۰
کہا: جب میں نے اپنے بابا سے پوچھا تھا کہ بابا، آپ لوگوں نے اچھا کیا کم ازکم پشتو تو سکھاتے ، سرائیکی کے ساتھ وہ بھی بولتے ہی لیتے ۰۰۰۰تو اُنھوں نے یہی کہا کہ پشتو کیوں بولتے ، فارسی بولتے۰۰۰
عمر بھی میرے ساتھ ، میرے گلے میں بانہیں ڈال کر بیٹھ گیا ، اچھا امّاں ! یہ نیا کردار کندہ شاہ کہاں سے آیا گیا آپ کی زندگی میں؟
تھوڑی سی تپ تو چڑھی کہا: تمہیں نہیں پتہ پیچھے سے ہمارا وڈکا کندہ شاہ نکل آیا ہے –
میری دو دو خواہشیں اللہ نے پوری کردیں
عمر: وہ کیسے ؟
(رازی خان ابھی تک کہے جا رہا تھا ، امّاں میرے پاس کتاب پڑی ہے آپ کا شجرہ نسب یہ نہیں ہے جو آپ سمجھی بیٹھی ہیں ، نانا ابو بھی درست نہیں فرماتے تھے کہ آپ لوگ فارسی بولتے پشتو کے بجائے )
مجھے اور تپ چڑھی کہ یہ کیا؟: کہا اب جب میری دونوں خواہشیں میرا رَبّ تعالٰی اسی دُنیا میں پوری کر رہا ہے تو تمُ حسد کر رہے ہو-
اب تک تم چھوٹے موٹے نوابوں نے ہمیں دبا کر کے رکھا ہوا تھا، اب جب پتہ چل گیا کہ کندہ شاہ کی اولاد سے ہیں تو میں شاہوں کی چھوری اب تم لوگوں کو پوچھتی تک نہیں۰۰۰۰
عمر : امّاں آخر یہ گندہ شاہ صاحب کون ہستی ہیں اور آپ کی دوخواہشیں۰۰۰۰۰
کہا: بھئی ! وہ عامر ہاشم خاکوانی جو میرے دوسرے اُستاد صاحب ہیں ، کابل کے دورے سے لوٹے تو خاکوانیوں کے بارے میں کالم میں بھی لکھا تو میں نے کمنٹ کیا کہ حضور کچھ اگر اسماعیلزئیوں کے بارے میں بتا دیں تو نوازش ہوگی –
اُنھوں نے جواباً لکھا کہ گُزارہ کریں کہ آپ کی اپنی اولادوں کے جدِ امجد کا تو پتہ چل گیا ، اس پر اکتفاء کریں –
اس کورے جواب پر فیس بُک کی بھری دُنیا پر ریکوئسٹ کی ہے کوئی اللہ کا بندہ جو مجھے اسماعیلزئیوں کے بارے میں بتائے آخر ہم کیوں اتنے غیر معروف رہیں!
کسی نے اسی کے جواب میں فیس بُک پر لکھا کہ اسماعیلزئیوں کی تاریخ تھوڑی ٹیڑھی ہے ( دل میں کہا یہی ٹھیک ہوگی)پر کہتے ہیں ،اگلے وقتوں میں دراصل ایران کے بادشاہ کا بیٹا کندہ شاہ تھوڑا مزاج دار و طُرح دار تھا اپنے آگے کسی نہ سنتا تو ایک دن والد حضرت بادشاہ صاحب نے بھری سلطنت سے نکال باہر کیا-
اب کیا کرتا ! چلتا گیا، چلتا گیا اور افغانستان آ پہنچا شاہوں کی اولاد سمجھ کر شاہُِ کابل نے بطورِ مصاحب رکھ لیا ، ظاہر ہےشاہوں کی قدر شاہ ہی کر سکتے ہیں-
اور ہاں عمر: تم میرا کندھا سہلا سہلا کر گنداشاہ
گندہ شاہ کس چَکر میں کہہ رہے ہو؟بولو ! دوسری خواہش یہ کہ مجھے سیّد زادی بننے کا بچپن سے بہت شوق تھا –
اب میں جب قیصرہ شفقت شاہ جو لکھوں گی نام کے ساتھ تو اکثر لوگ تو مجھے سَیّد سمجھ ہی لیں گے ، کتنے تو متاثر ہونگے۰۰۰۰! میرے خُدا!
دوسرا باپ دادوں کا شاہوں سے جُڑ جانا کچھ کم نہیں ہوتا ۰۰۰۰
اب ذرا ماحول ملاحظہ کریں رازی خان کے لاؤنج میں بیٹھے ہیں ،خوب دن نکلا ہے روشن اور چمک دار اکتوبر کا حسین موسم ، ایک صوفہ پر رازی خان براجمان ، دوسرے پر حنا ، ہانیہ کو گود میں لئے ، ہرنی جیسی حیرانگی سے ہماری گفتگُو سُن رہی تھی ، عمر چپک کے میرے ساتھ آ بیٹھا تھا ، بانہیں میرے گلے میں اور میرے ہی اَباء و اجداد پر اعتراض ۰۰۰۰اور شاید میری پیشانی پر بوسہ بھی دیا(جو غصّے میں دل پر نہ پڑا)
اب حنا جو میری بہو ہونے کے ساتھ ساتھ بھائی کی بیٹی بھی ہے ،اچانک شاہوں کی بیٹی بننے والی تاریخ کو خاصی توجہ اور حیرت سے سُن رہی تھی کہ اللّہ سوہنڑے نے کیسے بیٹھے بٹھا ئے خاک سے اُٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا اور وہ شاہوں کی خاندان سے جُڑگئی-
عمر نے حنا کی طرف گہری مسکراہٹ سے دیکھا اور بولا اَمّاں حنا بھابھی نے تو ایک دفعہ کہا تھا کہ وہ
تو پھر جمعدار ہیں؟
میں نے ہائے ہائے کر کے کہا جمیدار Sweepers کٹانڑے؟؟؟؟
کہا: سچ حنا! یہ حماقت کب کی!
حنا کہنے لگی : بوئی! ایک دفعہ ذکر ہے، کسی نے مجھے بتایا کہ ہمارے بڑے دادا فوج میں جمعدار تھے اور چک پر جو مربعے ہیں وہ انگریز وں نے اُسی چکر میں دیئے تو میرے منہ سے نکلا ۰۰۰۰ دراصل میں صفائی والا جمعدار سمجھی تو کہد دیا ،اچھا ! تبھی ہمارے خاندان میں سب کو صفائی سُتھرائی کا اتنا شوق ہے!
کہا: حنا ! تم نے نا ۰۰۰۰ پَٹ ساڑا ، شریکوں کو یہ موقع دیا۰۰۰ اتنی دانائی کا ظہار میاں اور دیور کے آگے کیا!
پھر فوراً میں نے بات کو دوسرا رنگ دے دیا
ظالمو ! دیکھتے نہیں یہ انکساری ، عاجزی اور ڈاؤن ٹو ارتھ ہونا ہی اَصلی و نسلی ہونے کی نشانی ہے-
ویسے عمر !تمہیں اوررازی کو شرم کرنی چاہیئے نانکوں کو کُٹانڑے بنا کے نہال ہو رہے ہو کیونکہ دونوں قہقہے لگا رہے تھے –
حنا شرمندہ شرمندہ سی مسکرا رہی تھی-
میں اپنی بات پر ڈٹ گئی کہ شاہوں کی اولاد کی انکساری تو تم چھوٹے موٹے نوابوں کی اولاد کو نظر ہی نہ آئی اُلٹا یہ کہ رہے ہو یہ تو ہمارے اندر کا شاہ (حالانکہ بچپن سے سَیّد بننے کا اتنا شوق تھا کہ نہ پوچھیں اب شاہ ساتھ لگایا بھی تو شاہوں سے نکلا ہوا )- لیکن ان کا (میری اولادوں کا )عامیانہ پن بھی مُلاحظہ کریں۰۰۰۰۰ کہاں بادشاہ کہاں کُٹانڑے!
جاری ہے یہ خود نوشت خاکہ نگاری

سلور لائنز (گروپ ہے جو زندہ دل لڑکیوں کا اکٹھ ہے بلا امتیاز عمر)
میں رضو سے محوِ گفتگو تھی یا میری خود کلامی کی کیفیت تھی-
کہا: رَضو! یہ جو ہمارامالی ہے اُس کا کیا نام ہے ؟
بی بی! مجھے لگتا ہے اُس کا نام عالم زیر ہے
رَضو کے ساتھ رہ کر مجھے لگا میرا اپنا دماغ بھی پلاسٹک کا ہوگیا ہے
پر اس کے عالم زِیر کہنے پر اسکا درست نام عالم زیب یاد آگیا
عالم زیب ….. زیرِ لَب دُہراتی رہی
کہا: رضو! بس بہت ہوچُکی دانشمندانہ گفتگُو اب برائے کرم میرا یہ سوٹ استری کردو آج شادی کا بُلاوہ ہے بروقت تیارہوجاؤں ، یوں ابھی ایک بجنے میں پندرہ منٹ رہتے تھے میں بالکل تیار ہوکر گیٹ کے اندر بھابھی مسسز آفریدی کا انتظار کرنے لگی
رضو نے گیٹ کی درزوں سے دیکھ لیا کہ مسسز آفریدی کی گاڑ ی سامنے مسسز فراست کو پِک کرنے اُن کے گیٹ پر تھی بس دو منٹس ہم تینوں بھابھی کے بیٹے کے ساتھ شادی ہال کی طرف رواں دواں
ای الیون شادی ہالوں کا گڑھ ہے اور برلبِ سڑک ایک بہترین ہال کوئی گھنٹہ بھر کی مسافت کے بعد پہنچ گئے نک سُک لابی میں درست کرکے نفاست سے سجے ہال کی طرف بڑھ گئے-
روشنیوں نے دودھیا سفید چھت کو بقعئہ نور بنایا ہوا تھا اچھی ارٹسٹک سینس سے سجے ہال کے اوّلین مہمان ہم تینوں تھے، ریسپشن پر ایک دُلہن کی خالہ اور دُلہن کی منجھلی بہن اور کچھ ہال کے منتظمین کا عملہ موجود تھا
دوبج رہے تھے ایک بجے کا بُلاوہ تھا ، خیر اکا دُکا مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا پر بہت دھیرے دھیرے ہمارے آنے کے دس منٹس کے بعدآنے والی دو محترم خواتین بھلا کون تھیں؟
ارے !یہ تو ہماری “سلورلائنز” کی ایس پی صاحبہ یعنی شاہدہ صاحبہ تشریف لے آئیں پوری تمکنت کے ساتھ اور ساتھ میں ایک حسینہ جو خوب صورتی سے سجی تھیں ان کے ہمراہ تھیں تعارف پر پتہ چلا کہ وہ نیول اینکریج سب سے مشہورجِم کی انسٹریکٹر تھیں جو واقعی میں اپنی عمر سے بیس سال چھوٹی ، تروتازہ و باغ و بہار شخصیت ہیں اور سچ میں پوری ایمانداری سے Aerobics کراتی ہیں سانچے میں ڈھلی شخصیت ان کی مہارت کی غماز تھی-
وہ تو باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ اُن کے ہونہار ترین جم کی لڑکیوں میں میری بہو بھی شامل ہیں اور وہ تو کئی سالوں سے gym کی اہم رُکن ہے بقول انسٹریکٹر روبینہ بہت ایمانداری سے جِم کرتی ہیں ورزش اور ویٹ لفٹنگ میں اُن کا ثانی کوئی نہیں ۰۰۰۰ یہ سب سُن کر اچھا لگا، منظم اورمستقل مزاج ہیں-
اتنے میں دُلہا والوں کی بمع دُلہا انٹری نے ہال میں سرگرمی اور دلچسپی بڑھا اب سب کی نظریں اسٹیج پر تھیں فوٹو سیشن ہو رہا تھا ، دُلہا نے انٹری دی تو پھر دُلہن بھی اپنے پیاروں کے حسین و جمیل جھر مٹ میں ہال میں داخل ہوکر اپنے جلوے بکھیر چکی تھیں
پھر جیسے ہال میں جان پڑگئی سب مُتلاشی نظروں سےحسین جوڑی کے دیدار کرنے لگے-
دیکھتے ہی دیکھتے کھانا کُھل گیا ہم سب جس ٹیبل کے اردگرد بیٹھے تھے ہمارے بائیں باجو کی طرف سے لگے کھانے کی مہک نےپورے ماحول کی بھوک جگا دی کیونکہ ہم سب نے ناشتے پر ہاتھ ہولا رکھا تھا-
کھانا انتہائی شاندار اورلذیذتھا اور انتہائی محنت سےنفیس انداز میں بہترین کراکری میں پیش کیا گیا
کھاناایسا کہ ویجیٹیرین اور meat lovers دونوں طرح کے حاضرین مطمئن اور شاداں
حسبِ خواہش خوب انجوائے کرکے کھایا محظوظ ہوئے سب کھانے کی بےحد تعریف کر رہے تھے
میں سوچ رہی کتنی محنت سے لائبہ کو اَمّاں اَبّا بے پالا زیورِ تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا تو اتنی پیاری اور قابل لڑکی جب ایک مکمل و بہترین انسان بن گئی تو کروڑوں خرچ کرکے اُسے وداع کردیا
سب نےدل سے دُعا دے کر کہ اے پیاری بیٹی ! سدا سُکھی رہو تاروں کی مانند خوشیوں اور شادمانیوں کے آسان پر جھلمل کرو اپنے شریکِ حیات کے ساتھ۰۰ دونوں والدین دھیتے (دُلہن والے )تے پُتریتے (دُلہا والے)بھی سکھ سمٹیں اور شاداں رہیں
زندگی تجھے سمجھتے سمجھتے بال سفید اور لاٹھی ہاتھ میں آجاتی ہے پر پھر تُو کبھی کبھی اُلجھا دھاگہ کیوں بن جاتی ہے تجھے سُلجھاتے سُلجھاتے تھک کے سو جانے کو جی چاہتا ہے-
زندگی میں ماہی نہ ہوتی ۰۰۰۰ہانیہ نہ ہوتی ہم کیا کرتے اور اگر رَضو و گلبدن و زُلیخا بھی نہ ہوتے تو زندگی بہت روکھی پھیکی ہوتی
اب میں ان کرداروں کی کردار نگاری کرنے بیٹھی تو میری رات میرے ہاتھوں سے نکل جائے گی-
دو سطروں میں ماہی (ماہم ) اور ہانی (ہانیہ) کے کرداروں کو بیان کروں تو بس یہ ،دونوں کو جیسے ہم سب فیملی والوں نے خود spoil کیا اگر ایسا نہ کرتے تو گھر کی رونق پھیکی پڑ جاتی۔
بہت باتیں ہیں پھر سہی اور پھر رافو کا یہ ٹاما گڑاما اُف
کہاں تک سُنو گے کہاں تک سُناؤں۰۰۰۰

خود نوشت خاکہ نگاری
کندہ شاہ پڑ پوتی اب کندہ شاہ سے بھی اَوب گئی ہے- آپ بھی کہیں گے بھلا کوئی اپنے پڑدادوں سے بھی تَتّہ ہوا-
میں کیا کروں ! گھر میں کوئی نہیں قبولتا تو اور کیا سراہیں گے-
پڑدادا بھی کیا ماٹھا نصیب لے کر آئے نا بادشاہ باپ نے جھیلا نہ اب یہ بے حد چالاک جنریشن زی مانتی ہے-
ویسے آپس کی بات ہے-
مجھے کونسا کسی سے منوانا ہے اپنے دل کا اطمینان بےحد ضروری ہے-
آج لنچ پر جب نیا دُلہا بھتیجا اور دلہن ، میرا بھائی اور زرک بڑا بھتیجا اُسکی مسسز اور میرے سارے گھر والے جمع تھے-
میری تو جیسے لاٹری نکل آئی ہے میرے کتاب لکھنے پر نہ صرف مجھے سر آنکھوں پر رکھا جا رہا ہے –
آج تو تحفوں کی بارش ہوگئی ہے- لدا پھندی فیملی جب اتنا بڑا کیک ، اور ہاتھوں میں پیارے پیارے ہرے بھرے شاپر میں حیران تھی کہ ابھی حسن کی شادی پر اتنے بھڑی بھرکم فینسی سوٹ اور سیزن کا سوٹ تو بھابھی بھائی دے چکے ، بلکہ دس کتابیں زیادہ بہتر نرخوں پر خرید لیں ماشااللہ تبارک اللہ ، اب میں حیران ہونے کے ساتھ تجسس بھی تھا –
جب بھائی نے کہا : بہن یہ آپ کی کتاب کا تحفہ !
دُلہن بولی : بوعہ یہ میرے اور حسن کی طرف سے- رمشہ بولی : بوعہ یہ میرے اور زرک کی طرف سے
کتاب کے لئے ۰۰۰۰
میں تو تحفوں سے لد گئی ، سونے پہ سُہاگہ پانچ ہزار پکڑا کر زرک بولا : یہ دو کتابیں جو رمشہ نے لیں
کہا: اب شرمندہ نہ کرو، بیس بیس ہزار کی تیرا باپ لے چکا بس یہ میری طرف سے ہیں –
زرک بوعہ آپ کام قابلِ داد ہے – ایک چھوٹے موٹے پلاٹ خریدنے جتنا خرچہ ضرور آپ نے کیا ہوگا-
یہ تو لینا پڑے گا ، مجبوراً لے لیا-
آپ بتائیں کیا کرتی۰۰۰۰
دل میں کہا : یہ کندہ شاہ کی نسل تو سچ میں شاہ دلی دکھا رہی ہے –
ڈاکٹر صاحب : بہن ! تحفہ تو کھولیں
ارے۰۰۰۰۰
یہ اتنی خوب صورت شال کہاں سے لی –
کہنے لگا: کلُ جب مال سے آپ کےلئے کچھ لینا تھا تو کھاڈی پہ یہ شال پسند آئی –
آپ نے کتاب بھی تو شاندار لکھی ہے – بلکہ سرورق اور اوراق سب بہترین ۰۰۰۰۰ جہلم بُک کارنر والے تو کمال کے لوگ ہیں –
بھتیجوں والے سوٹ الگ شاندار برینڈڈ ، خوب صورت ماشااللہ تبارک اللہ ، شکر کہ یہ کلر پہلے میرے پاس نہیں تھے –
بس یہ تھا کہ بھائی والے شال کے ساتھ مجبوراً میچ کرکے نیا سوٹ خریدنا پڑے گا ، پرنٹڈ سوٹوں کے ساتھ اتنے کلرز والی شال کہاں میچ کرے گی۰۰۰۰۰
خیر کہا : بھئی بس لگتا ہے مجھے اسٹریلیا سے بڑے لکھاری عباس صاحب کی بات ماننا پڑے گی-
کہ اگلے سال پھر بفضلِ تعالٰی تیسری کتاب ،
ڈیرہ اسماعیل خان کی نمائندگی جو کرنی ہے-
خدا کے لئے یہ نہ سمجھیئے کہ میں نے لالچ پکڑ لیا ہے-
بھائی کہنے لگا مجھے یہ نیا پڑدادا کندہ شاہ اتنا خاص مزہ نہیں کر رہا –
کہا: آپ کی مر ضی میں تو اُن سے جُڑ چکی ہوں – میرے اپنے گھر پڑدادا جان کی ٹَکے کی عزت نہیں ، جو میںرے دل کو کچوکے لگاتی اور تم یہ کہ رہے جو کہ رہے ہو-
خیر لنچ پر میری دونوں بہوؤں کی محنت رنگ لائی سب نے سراہا -کھانا لذیذ اور تازہ تازہ بنی چیزیں خوب رنگ جما چکی تھیں-
قہوہ پھر چائے ہمارا تو دن بن گیا –
اُس دن بھانجی نے ڈیرہ سے کہا: خالہ ! گوہر خاکوانی کی مسسز نے آپ کی کتاب جب بھجوائی تو اُنھوں نے دو ہزاربھجوائے-
کہا: شاباش ہے اُس کو جزاک اللہ !
پوری کڑی علیزئی میں منادی کرادو کہ ڈاکٹر امتیاز اور مسسز گوہر نے کتاب پر دوسو بڑھا دیئے ہیں اب دو ہزار میں سے دوسو واپس لے کر کیا کریں گے-
کونسی بادشاہت مل جائے گی –
خاندان کی اکلوتی لکھاری کو سپورٹ کرو-
پہلے تو بھانجی کو چُپ لگی ۰۰۰۰ اس میسیج کا جواب تک نہ دیا دل میں کہا بشریٰ بھانجی سچ کہتی ہے یہ والی کنجوس کافی ہے-
خیر قارون نے بھی اتنا سمیٹ کر کیا کیا ۰۰۰۰
قیصرہ بی بی بس عوامی لکھاری بن ۰۰۰۰اپنی حد میں رہ-
اُس دن کیا ہوا سیمی میری دوست نے میرے گھر آنا تھا – سیمی کے آنے کی اطلاع ملی ساتھ ہی نادیہ نے میرے کان میں کہا : آنٹی ! سیمی آنٹی کے ساتھ انکل احسان بھی ہیں ۰۰۰
خو شگوار حیرت سے کہا : اچھا ! بھائی صاحب بھی تشریف لائے ہیں یہ تو بہت خوشی کی بات ہے-
ہوا یوں کہ اتفاق تھا کہ نہ گھر میں عمر خان ،رازی خان ابھی آفس سے واپس نہیں آیا تھا- لیکن بھائی صاحب کوئی اتنے سادہ و منکسرالمزاج آدمی ہیں کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ پہلی بار محفل جمی ہے میری دونوں بہوؤں کی بنائے گئے دہی بھلوں ، فش ، چناچاٹ اور بنانا کیک کی بہت تعریف کی ۔ جب حنا ذرا ادھر اُدھر ہوئی تو فٹ کہا : نادیہ بیٹی ! آپ کے بنائے ہوئے دہی بھلے اور بنانا کیک لاجواب ہیں ، حنا سے نہ کہنا-
نادیہ ہنسنے لگی : جب حنابھابھی آئیں گی تو ان کی تعریف کے پُل باندھیں گے –
اور وہی ہوا –
مہرالنساء حسب معمول والدین کے آئی کیو لیول سے خوش نہ تھی –
لیکن ظاہر ہے اب سائیکالوجسٹ ہے تو پھر جب بچوں نئے اُبھرتے جوانوں کے مسائل پر سیر حاصل باتیں کیں تو سب کے دل کو لگیں – کہنے لگی ، میری امّی تو مجھے انڈراسٹیمیٹ کرتی ہیں – میں ششدر ۰۰۰۰ تمہارے کالج کے ہزروں بچوں سے میرا کیا لینا دینا۰۰۰۰
کہنے لگی : انکل! میری ماں سمجھتی ہیں ، جب میں اتنا زیادہ دماغی کامُ کرکے آتی ہوں اور کچھ دیر آرام کروں تو کہتی ہیں ،مہرالنساء بہت سوتی ہو-
لو بھئی میں ہکا بکا حیران کہ میں درمیان میں کہاں سےآگئی ۰۰۰۰
احسان بھائی اور سیمی کھلے دل سے ہنسنے لگے-
مہرالنساء کسی کام سے باہر گئی تو بھائی صاحب کہنے لگے میں اس پانی پت کے اصلی کردار سے ملنے کا بے حد مشتاق تھا –
کہا : بھائی پھر میں غلط کہتی ہوں ؟
اُنھوں نے نفی میں سر ہلا دیا –
میری کتاب کے حوالے سے بات چل نکلی میں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا : آپ سے میں ناراض ہوں-
بولے کیوں ! بہن
کہا: آپ نے قصّہ چار نسلوں کا پڑھ کر مجال ہے جو ایک لفظ لکھا ہو اتنی بڑی نمل یونیوورسٹی کے
منتظمِ آعلٰی ہیں ماشااللہ اتنے بڑے پرفیسر اور یہ حال ۰۰۰۰
میری اصلاح کرتے ، کچھ تو لکھتے –
میں نے نمل کے لئے کتاب دی-
پر گُزرے کل تو کمال ہوگیا ۰۰۰۰ عباس سیال صاحب نے قصّہ دو شبدوں پر جو پوسٹ لکھی اُس پر اتنا سپائسی کمنٹ دیا کہ مجھے اپنے محلہ کڑی علیزئی کی شاہ صاحب کی دُکان یاد آگئی-
قسط نمبر8 خود نوشت خاکہ نگاری
کندہ شاہ پڑ پوتی اب کندہ شاہ سے بھی اَوب گئی ہے- آپ بھی کہیں گے بھلا کوئی اپنے پڑدادوں سے بھی تَتّہ ہوا-
میں کیا کروں ! گھر میں کوئی نہیں قبولتا تو اور کیا سراہیں گے-
پڑدادا بھی کیا ماٹھا نصیب لے کر آئے نا بادشاہ باپ نے جھیلا نہ اب یہ بے حد چالاک جنریشن زی مانتی ہے-
ویسے آپس کی بات ہے-
مجھے کونسا کسی سے منوانا ہے اپنے دل کا اطمینان بےحد ضروری ہے-
آج لنچ پر جب نیا دُلہا بھتیجا اور دلہن ، میرا بھائی اور زرک بڑا بھتیجا اُسکی مسسز اور میرے سارے گھر والے جمع تھے-
میری تو جیسے لاٹری نکل آئی ہے میرے کتاب لکھنے پر نہ صرف مجھے سر آنکھوں پر رکھا جا رہا ہے –
آج تو تحفوں کی بارش ہوگئی ہے- لدا پھندی فیملی جب اتنا بڑا کیک ، اور ہاتھوں میں پیارے پیارے ہرے بھرے شاپر میں حیران تھی کہ ابھی حسن کی شادی پر اتنے بھڑی بھرکم فینسی سوٹ اور سیزن کا سوٹ تو بھابھی بھائی دے چکے ، بلکہ دس کتابیں زیادہ بہتر نرخوں پر خرید لیں ماشااللہ تبارک اللہ ، اب میں حیران ہونے کے ساتھ تجسس بھی تھا –
جب بھائی نے کہا : بہن یہ آپ کی کتاب کا تحفہ !
دُلہن بولی : بوعہ یہ میرے اور حسن کی طرف سے- رمشہ بولی : بوعہ یہ میرے اور زرک کی طرف سے
کتاب کے لئے ۰۰۰۰
میں تو تحفوں سے لد گئی ، سونے پہ سُہاگہ پانچ ہزار پکڑا کر زرک بولا : یہ دو کتابیں جو رمشہ نے لیں
کہا: اب شرمندہ نہ کرو، بیس بیس ہزار کی تیرا باپ لے چکا بس یہ میری طرف سے ہیں –
زرک بوا آپ کام قابلِ داد ہے – ایک چھوٹے موٹے پلاٹ خریدنے جتنا خرچہ ضرور آپ نے کیا ہوگا-
یہ تو لینا پڑے گا ، مجبوراً لے لیا-
آپ بتائیں کیا کرتی۰۰۰۰
دل میں کہا : یہ کندہ شاہ کی نسل تو سچ میں شاہ دلی دکھا رہی ہے –
ڈاکٹر صاحب : بہن ! تحفہ تو کھولیں
ارے۰۰۰۰۰
یہ اتنی خوب صورت شال کہاں سے لی –
کہنے لگا: کلُ جب مال سے آپ کےلئے کچھ لینا تھا تو کھاڈی پہ یہ شال پسند آئی –
آپ نے کتاب بھی تو شاندار لکھی ہے – بلکہ سرورق اور اوراق سب بہترین ۰۰۰۰۰ جہلم بُک کارنر والے تو کمال کے لوگ ہیں –
بھتیجوں والے سوٹ الگ شاندار برینڈڈ ، خوب صورت ماشااللہ تبارک اللہ ، شکر کہ یہ کلر پہلے میرے پاس نہیں تھے –
بس یہ تھا کہ بھائی والے شال کے ساتھ مجبوراً میچ کرکے نیا سوٹ خریدنا پڑے گا ، پرنٹڈ سوٹوں کے ساتھ اتنے کلرز والی شال کہاں میچ کرے گی۰۰۰۰۰
خیر کہا : بھئی بس لگتا ہے مجھے اسٹریلیا سے بڑے لکھاری عباس صاحب کی بات ماننا پڑے گی-
کہ اگلے سال پھر بفضلِ تعالٰی تیسری کتاب ،
ڈیرہ اسماعیل خان کی نمائندگی جو کرنی ہے-
خدا کے لئے یہ نہ سمجھیئے کہ میں نے لالچ پکڑ لیا ہے-
بھائی کہنے لگا مجھے یہ نیا پڑدادا کندہ شاہ اتنا خاص مزہ نہیں کر رہا –
کہا: آپ کی مر ضی میں تو اُن سے جُڑ چکی ہوں – میرے اپنے گھر پڑدادا جان کی ٹَکے کی عزت نہیں ، جو میںرے دل کو کچوکے لگاتی اور تم یہ کہ رہے جو کہ رہے ہو-
خیر لنچ پر میری دونوں بہوؤں کی محنت رنگ لائی سب نے سراہا -کھانا لذیذ اور تازہ تازہ بنی چیزیں خوب رنگ جما چکی تھیں-
قہوہ پھر چائے ہمارا تو دن بن گیا –
اُس دن بھانجی نے ڈیرہ سے کہا: خالہ ! گوہر خاکوانی کی مسسز نے آپ کی کتاب جب بھجوائی تو اُنھوں نے دو ہزاربھجوائے-
کہا: شاباش ہے اُس کو جزاک اللہ !
پوری کڑی علیزئی میں منادی کرادو کہ ڈاکٹر امتیاز اور مسسز گوہر نے کتاب پر دوسو بڑھا دیئے ہیں اب دو ہزار میں سے دوسو واپس لے کر کیا کریں گے-
کونسی بادشاہت مل جائے گی –
خاندان کی اکلوتی لکھاری کو سپورٹ کرو-
پہلے تو بھانجی کو چُپ لگی ۰۰۰۰ اس میسیج کا جواب تک نہ دیا دل میں کہا بشریٰ بھانجی سچ کہتی ہے یہ والی کنجوس کافی ہے-
خیر قارون نے بھی اتنا سمیٹ کر کیا کیا ۰۰۰۰
قیصرہ بی بی بس عوامی لکھاری بن ۰۰۰۰اپنی حد میں رہ-
اُس دن کیا ہوا سیمی میری دوست نے میرے گھر آنا تھا – سیمی کے آنے کی اطلاع ملی ساتھ ہی نادیہ نے میرے کان میں کہا : آنٹی ! سیمی آنٹی کے ساتھ انکل احسان بھی ہیں ۰۰۰
خو شگوار حیرت سے کہا : اچھا ! بھائی صاحب بھی تشریف لائے ہیں یہ تو بہت خوشی کی بات ہے-
ہوا یوں کہ اتفاق تھا کہ نہ گھر میں عمر خان ،رازی خان ابھی آفس سے واپس نہیں آیا تھا- لیکن بھائی صاحب کوئی اتنے سادہ و منکسرالمزاج آدمی ہیں کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ پہلی بار محفل جمی ہے میری دونوں بہوؤں کی بنائے گئے دہی بھلوں ، فش ، چناچاٹ اور بنانا کیک کی بہت تعریف کی ۔ جب حنا ذرا ادھر اُدھر ہوئی تو فٹ کہا : نادیہ بیٹی ! آپ کے بنائے ہوئے دہی بھلے اور بنانا کیک لاجواب ہیں ، حنا سے نہ کہنا-
نادیہ ہنسنے لگی : جب حنابھابھی آئیں گی تو ان کی تعریف کے پُل باندھیں گے –
اور وہی ہوا –
مہرالنساء حسب معمول والدین کے آئی کیو لیول سے خوش نہ تھی –
لیکن ظاہر ہے اب سائیکالوجسٹ ہے تو پھر جب بچوں نئے اُبھرتے جوانوں کے مسائل پر سیر حاصل باتیں کیں تو سب کے دل کو لگیں – کہنے لگی ، میری امّی تو مجھے انڈراسٹیمیٹ کرتی ہیں – میں ششدر ۰۰۰۰ تمہارے کالج کے ہزروں بچوں سے میرا کیا لینا دینا۰۰۰۰
کہنے لگی : انکل! میری ماں سمجھتی ہیں ، جب میں اتنا زیادہ دماغی کامُ کرکے آتی ہوں اور کچھ دیر آرام کروں تو کہتی ہیں ،مہرالنساء بہت سوتی ہو-
لو بھئی میں ہکا بکا حیران کہ میں درمیان میں کہاں سےآگئی ۰۰۰۰
احسان بھائی اور سیمی کھلے دل سے ہنسنے لگے-
مہرالنساء کسی کام سے باہر گئی تو بھائی صاحب کہنے لگے میں اس پانی پت کے اصلی کردار سے ملنے کا بے حد مشتاق تھا –
کہا : بھائی پھر میں غلط کہتی ہوں ؟
اُنھوں نے نفی میں سر ہلا دیا –
میری کتاب کے حوالے سے بات چل نکلی میں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا : آپ سے میں ناراض ہوں-
بولے کیوں ! بہن
کہا: آپ نے قصّہ چار نسلوں کا پڑھ کر مجال ہے جو ایک لفظ لکھا ہو اتنی بڑی نمل یونیوورسٹی کے
منتظمِ آعلٰی ہیں ماشااللہ اتنے بڑے پرفیسر اور یہ حال ۰۰۰۰
میری اصلاح کرتے ، کچھ تو لکھتے –
میں نے نمل کے لئے کتاب دی-
پر گُزرے کل تو کمال ہوگیا ۰۰۰۰ عباس سیال صاحب نے قصّہ دو شبدوں پر جو پوسٹ لکھی اُس پر اتنا سپائسی کمنٹ دیا کہ مجھے اپنے محلہ کڑی علیزئی کی شاہ صاحب کی دُکان یاد آگئی-

کندہ شاہ کی پڑ پوتی کے ساتھ آج کیا ہوا!بھانجی کا فون تھا کہ خالہ! میں ادھر گلبرگ گرینز تک آئی ہوئی ہوں آپ لوگوں سے ملنا ہے آجاؤں ؟
کہا: بھئی جم جم آؤ اور ساتھ ہی اپنے گھر کی کرنٹ لوکیشن کی پن شیئر کردی تھی-
گپ شپ چل رہی تھی کہ اچانک گفتگُو کا رُخ میری کتابوں سے پڑدادا کندہ شاہ کی طرف مُڑ گیا شہنیلا بھانجی کا بیٹا شاہ میر لاہور میں تعلیمی مدارج طے کر رہا ہے – مستقبل کی ڈاکٹر ماہا بھی ساتھ تھی –
میں ازراۂِ مذاق بھانجی سے پوچھا ہاں بھئی تیرا شاہ میر پڑدادا کندہ شاہ کے بارے میں کیا کہتا ہے -کہنے لگی وہ تو بہت خوش ہے-کندہ شاہ کو پاکر-
میں نے زیرِ لب مُسکرا کر کہا: شاہوں کے کُنبہ سے جُڑنے سے نا-
رازی خان جو شاملِ محفل تھا فَٹ سے بولا کھسکے ہوئے لوگوں کاکھسکا ہو کندہ شاہ۰۰۰۰ اتنا دُکھ شاید کندہ شاہ کو باپ کے محل سے نکلنے کا نہ ہوا ہوگا۰۰۰جتنا مجھے اپنے پڑدادا پر اس کے کَٹیلے جملے کا ہوا -وہ دانا اور باوقار چہرے مُہرے والا کندہ شاہ صاحب شاۂِ کابل کے دل میں اُترتا چلا گیا اور اُس نے گُدڑی میں لعل کو پہچان لیا ! اور اپنے دربارکی زینت میں اضافہ کرلیا – اور پھر اُن کی نسل نے اپنے جوہر دُنیا پر کھولے-
تو پیارے قارئین دل پر مت لیں اُن کی نسل ابھی تک اپنے جیون کے کشٹ سہہ رہی ہے –
کندہ شاہ سے میرے گھر کے خاکوانی کافی چڑتے ہیں یااُن کو ناگوارِ خاطر گُزرتا ہے-
اب میںرے چھ فٹ پانچ انچ کے بانکے سجیلے و پھرتیلے پڑدادا کو ہلکا لے رہے ہیں وہ پہاڑوں پر ایسا چلتا ہوگا جیسے ہرن بَن میں چوکڑیاں بھرتا ہے-اُن میں چیتے جیسی پُھرتی ہوتی ہوگی اُنکی متانت و ذہانت آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی –
آس پاس کی عوام باپ سے زیادہ اُن کی انسانیت ، اخلاق ،ذہانت و تدبّر کی قائل ہوگی – تبھی تو بادشاۂِ ایران اُن سے کُچھ خوفزدہ ہوگیا ، ورنہ خواہ مخواہ کون اپنے جوان جہاں ہردلعزیز و دلکش شخصیت کے مالک بیٹے کو سلطنت سے نکال باہر کرتاہے – پڑ دادا صاحب کے والد ایسے ہی شقی القلب ہونگے جیسے مغل تھے ، بنو عباس و اُمیہ و عثمانیہ تھے – بس اِسی پر شُکر ادا کرتی ہوں-
اُس کے اندر کی انسانیت دیکھیں پیدل چل پڑے ہمراہ کوئی زادِ راہ نہ تھا ، سوائے ایک پُرخلوص دوست کے جب بہت زیادہ پیدل اور کبھی کوئی سواری میسَر آگئی تو آگئی ورنہ وہی روکھی سوکھی اور پیدل ۰۰۰۰۰ اِس سے تو اُن کے اندر کی دُنیا میں انقلاب آگیا ایک اور طرح کی آگہی چُست و چاک و چوبند بنانے والی آگہی ۰۰۰۰۰
یہاں تک کہ کابل کے گرد و نواح میں پہنچ گئے اب مقابلے میں سدھارتھا نے تو محل چھوڑا نروان لیا پڑدادا حضور نے کشٹ و جوکھم لیا ۰۰۰۰ ایسے ہی رنج و الم اور اپنے سگّے باپ کی بے اعتنائی اُنھیں زندگی کے کتنے بڑے سبق سکھا گئی یہ تو وہی جانے جس تن لاگے-
پیارے دوستو! اب پڑ دادا حضور کی شخصیت کے سحر سے نکل کر ذرا اس دُنیا کی حقیقت کو کھنگالتے ہیں-
میں اپنے پورشن کی سیڑھیاں اُتر کر نیچے آئی ، مہرالنساء کے کمرے میں جھانکا تو محترمہ سے خیر و عافیت دریافت کی تو بولیں: ماتا جی ! دو ہفتوں سےگردن کاپُرانا مَسّل کا کھنچاؤ جاری ہے-
تھوڑا ٹھہر کر کہا : ورزش کرو شاید زیادہ کمپیوٹر کے سامنے کُرسی پر بیٹھے رہنے سے ہورہا ہو-
تڑپ کر بولی: آپ کی جو ٹانگیں درد کرتی ہیں وہ بھی اس وجہ سے ہوگا کہ آپ دوسروں کے مسائل میں ٹانگیں اَڑاتی ہیں-
میں ششدر سی کہ میں نے کِیاکِیا ۰۰۰۰۰۰
کہنے لگی : ماں سے اپنی تکلیف بیان کرو تو یہ سُننے کو ملے گا تو پھر آپ کوبھی سُننا پڑے گا -کندہ شاہ کی پڑپوتی صاحبہ۰۰۰۰ہمدردی و پیار کے چند بول بولنے میں کیا تکلیف ہے؟
کہا: تمُ سے بات کرنا محال ہے-
بولی : کیسے تشریف آوری ہوئی ؟
کہا: یہ گھر کی لڑکیوں کو کے ایف سی لے جانا تھا کافی دنوں سے انھوں نے باہر کاکھانا نہیں کھایا ،بچوں کو بھی چھٹیاں ہیں تو پھر چلتی ہو؟
تھوڑے سے لیت و لعل کے بعد محترمہ آمادہ ہوگئیں-
جب مقررہ ٹائم پران کے پورشن میں آئی بمعہ اپنے قافلہ کے جو سب خاصے تیار ہوکر آئے تھے،رَضو ، زُلیخا ، گلبدن اور میری دو پوتیوں اور عبدالمالک مشتمل تھا –
کہنے لگی : کوئی اور رہتا ہے تو اسے ب ُلا لیں ۰۰۰
میں سمجھی سچ میں کہ رہی ہے۰۰۰۰
کہا: ہانیہ کو ساتھ لے لیں (ہماری دو سالہ ہانیہ پوری آفت کی پرکالہ)
فرش پر زور سے پاؤں پٹخ کر مجھی خشگمیں نظروں سے گھورا ۰۰۰۰پھر زُلیخا اور گلبدن کو کیوں لے جاتی ہیں۰۰۰۰؟
میں ہکا بکا آگے کا فلمی ڈرامہ پھر لکھوں گی۰۰۰۰۰بشرطِ زندگی۰۰۰

زندگی کے دریچوں کا سفر
کہنے لگیں آج کل کی لڑکیوں کو کام کرنا موت پڑتی ہے
کہا: توبہ ہے بھئی یہ آپ لوگ چاہتے کیا ہو اس ذہین و زیرک نسل کے پیچھے پڑے رہتے ہو –
نورین : اگر تمہارا واسطہ ایسی کٹھور سے پڑے تو پتہ چلے۰۰۰
کہا: کیامطلب ! کیا میرے گھر میں لڑکیوں کی کمی ہے میرا گھر لڑکیوں سے بھرا ہے بفضلِ تعالࣿی ایک سے ایک لعل و موتی و گوہر جیسی
اب جب سے مہرالنساء یہاں آئی ہے یقین کریں-
جب سب زندگی کے معمولات سے فارغ اپنے کمرے میں سونے کی تیاری پکڑنے لگتی ہوں وہ آکر مجھے قہوے کا الائچیوں سے مہکتا گرماگرمُ کپ پکڑاتی ہے فروٹ کی پلیٹ میری سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ہے اُس وقت میں اس کی چمکتی روشن آنکھوں کو چُوم لیتی ہوں- کہ مجھے رضو اور گُلبدن کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتی –
نورین : پھر بھی بیٹیاں کُچھ لحاظ کرلیتی ہیں ۰۰۰ میں تو بہوؤں سے تنگ ہوں, آج کل مائیں تربیت ہی نہیں کرتیں کہ دوسرے گھر بھی جائیں گے
کہا: سچ کہوں میری تو بہوئیں بہت اچھی ہیں اس دُنیا میں جنت کے مزے ہیں- ابھی دو دن پہلے کی بات ہے میں نے مہرالنساء سے ایک فلمُ نیٹ فلیکس پر لگانے کو کہا ابھی کوئی پانچ منٹ گُزرے تھے کہ میں نے دو تین سوال اُٹھا دیئے ، میری بہو بھی ساتھ بیٹھی تھی وہ گود میں کمپیوٹر رکھے اپنے مریضوں کے نسخے اور ہسٹری چیک کر رہی تھی اور ضروری ترمیم بھی جاری تھی-
میرے سوالات پر مہرالنساء نے ریموٹ ہاتھ میں پکڑا اور نرمی سے بھی بہت نرمی سے بولی: ماں فلم دیکھنی ہے تو خاموشی سے دیکھیں ورنہ بند کرتی ہوں-
کہا ؛ دُختر نیک اختر ! بلا سے بند کردو میں اسی لئے صرف زینب کے ساتھ ڈاکیومنٹریز اور موویز دیکھنا پسند کرتی ہوں وہ میرے اُٹھائے گئے ہر سوال کا بہت تعظیم سے نہ صرف جواب بتاتی ہے بلکہ میری معلومات میں اضافہ کرتی ہے کہ تسلی ہوجاتی ہے –
میری بیٹی نے فلم بند کردی کہ بہو کے ساتھ دیکھیئے گا آپ اُن کی ساس ہیں ،میری ماں ہیں-
نورین: تو تم نے بیٹی کو کُچھ نہ کہا؟
کہا: نورین اتنی قابل ہے بفضلِ تعالٰی ،کہو تو تمہاری کونسلنگ رکھوا دوں موڈ مورال بہت سنور جائے گا- سائیکالوجسٹ ہے بلکہ بہترین کاؤنسلر ہے-
نورین: میراغم مت کھاؤ میرے گھر میں دو دو موجود ہیں
کہا: نورین تمہاری تو سرے بیٹی ہی نہیں دو کیسے!
نورین : بہوئیں ہیں-
کہا: نورین ! بہوئیں تو معصوم ہوتی ہیں -کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی پلٹ کر جواب دیں ، ادب و لحاظ کرنے والی مخلوق ہیں-
میری تو بیٹی اتنی مؤدب ہے اگر کھانا کھارہی ہو اور میں کہ دوں کافی یا چائے اگر مل جائے تو زندگی بن جائے ۰۰۰۰ کبھی گھور کر نہیں کہے گی کہ پہلے کھانا کھا لوں!
تھوڑی دیر میں گرم کافی میرے ہاتھوں میں ہوتی ہے-
ہاں اگر کبھی میں دو سالن اکٹھے بنالوں یا کوئی میٹھا بھی ساتھ بنالوں تو فٹ کہے گی اپنے آپ کو کتنا تھکاتی ہیں فالتو کے کامُ کرکے ۰۰۰ جب میں پلٹ کر کہتی ہوں
مجھے بہت اچھا لگتا ہے ایکٹو رہنا
تو سادگی سے مجھے کہتی ہے جی جی کام اچھا کرتی ہیں اگلے گھر جائیں گی تو اُن کو اور گھر والوں بہت خوش رکھیں گی
میں کہتی ہوں کیوں ذیشان ! اگلے گھر اُن کو اور سب کو خوش رکھا تو اب یہ سب خوشحالی ہے –
وہ زیرِ لب اس کی باتیں سُن کر مسکراتا رہتا ہے-
نورین: مہرالنساء کو چپت نہ لگائی
کہا : اتنی پیاری باتیں سُناتی ہے روتوں کو ہنسا لے ،اپنے ادارے میں کیابچے کیا بڑے اُن کی ذہنی اُلجھنیں دور کردیں بفضلِ تعالࣿی , تم اس سے بات تو کرو ، تمہاری بھی سیٹنگ اچھی ہوجائے گی – زندگی بنا دے گی-
نورین خفا ہوکر کہنے لگی: میرا مذاق اُڑا رہی ہو-
نورین کوئی میری پُرانی دوست نہیں ایک تقریب میں ورجینیا ہی میں مُلاقات ہوئی مزاج مل گئے تو دوستی ہوگئ – ویسے انسان ہرجگہ انسان ہی رہتے ہیں اپنے تمام تر مزاج و نرم وگرم جذبوں کے ساتھ کیسی ہی جدید دُنیا و ماحول کیوں نہ ہو کدورتوں و تلخیوں کو ہم انسان خود ہی ختم کرکے نجات نہیں پاتے ، ان بن ، ضدم ضدا ، برہمی ،تھوڑ دلی ، مزاج کی تنگی یہ سب خود پالتے ہیں -اگر ہم انسان تہیہ کرلیں کہ ہلکی پھلکی ، تروتازہ و آسان زندگی جینا ہے تو مجال ہے ہم خواتین کو خواہ مخواہ کسی رشتے سے دُکھ پہنچے – بلا امتیاز جوان اور بوڑھے خوش وخُرمُ ہونگے-
اب میں جو اتنی اچھی باتیں کر رہی ہوں- اس دن کسی ختمِ قرآنِ پاک کی تقریب ایک دوست کی خوب صورت من موہنی بچی جب سر سے سرکے ڈوپٹے کو دیکھا اس عظیم کتاب کی تکریم کے لئے نرمی سے سرزنش کی، تو ایسے جھٹکے سے بولیں : آنٹی ! رَبّ تعالٰی ! ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ ہماری خطائیں بخش دیتا ہے آپ فکر نہ کریں-
میں جو اپنا سا مُنہ لے کر بیٹھ گئی بس اتنا کہ پائی
میری بیٹی! جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے اُس سے ایک ماں جتنا پیار تو ہم بھی کریں – ماں کو بھی تو پیار چاہیئے ہوتا ہے –
اُس پیاری لڑکی نے مجھے خاص لُک (look)دی-
آج کیا ہُواماہم کی نینی Ana نے بلیو جینز کی فراک پہنی ہوئی تھی اُس پر رنگین رنگین کاڑھے ہوئے پھول میں ایک مزید رنگین طوطا بیٹھا تھا – Honduras بھی لکھا تھا ہنڈرس آنا کا ابائی وطن ہے سنٹرل امریکہ کا اہم ملک ہے- پر اب یہ امریکن شہری ہے-
میں نے پوچھا یہ ڈریس طوطے کی وجہ سے لیا یا ہنڈرس تو بولی : دونوں پسند ہیں – اپنے بچپن کے طوطے کی کہانی سُنانے لگی ۰۰۰۰
میں جو ابھی جاگی تھی کہا اَنا تمہاری تصویر لیتی ہوں اپنی پوسٹ میں لگاؤں گی-انا پوری کہانی گر ہے-اگر میں گھنٹہ کھڑی رہتی تو قصّہ ختم نہ ہوتا ۰۰۰۰ ہماری انا پڑھی لکھی سلجھی ہوئی سلیقہ شعارلڑکی ہے-
ایک بات ہے کُچھ کچھ سرائیکی والی مڈھے(Lazy) ہے اُس کی بانوے92 سالہ نانی اُس کے ساتھ آتی ہیں – اُس کی بہت کیئر کرتی ہے مگر اس بانوے سالہ نانی کو منع کرتی ہے یہ نہ کھاؤ وہ نہ بس خاص کھانا کھلاتی پر نانی ہم پر چلی گئی یعنی چٹوری ہیں محترمہ کُچھ سپائسی بن رہا ہوتو وہ کھانا چاہتی ہیں یہ ٹوکتی ہے –
گھر کے دو ڈاکڑز کہتے ہیں اس عمر جو بھی اولا(ہسپینک میں بزرگ خاتون ) کھانا چاہتی ہیں اسے کھانے دیا جائے –
آج جب اَنا اپنی پلوڑی ماہم کے ساتھ لائبریری گئی ہوئی تھی تو نانی کو اپنی واکر کے ساتھ ادھر اُدھر کاریڈور میں گھومتا پایا تو میں نے پوچھا کہ بھوک لگی ہے محترمہ کُچھ شرما گئیں میں ایک کیلا اُٹھا کر لائی یہ کھاتی ہیں خوش ہوکر لے لیا اللہ نصیب کرے صوفے پر بیٹھ کر کھا لیا پھر جب چھلکا پھینکنے کے لئے اُٹھنے لگیں تو میں نے بھاگ کر لے لیا تو بڑی مشکور ہوئی اس طرح کے کام انا سے چوری کرتی ہوں بےچاری نانی کو کافی نہیں پینے دیتی کہ اس کا دل دھڑکے گا – بھئی یار دھڑکنے دو ۰۰۰۰ ایک ننھی گٹھڑی کی طرح صوفے پر کمبل تانے ہمہ وقت سوئی رہتی ہیں – بھوک ماشااللہ بہت اچھی اُس دن گیراج کو جانے کیا سمجھ کر دروازہ کھولا اور دو بڑی بڑی سیڑھیاں اُتر کر اندر چلی گئی ، میرا دل کانپ اُٹھا اگر مرکھُٹڑی گِر جاتی –
خیر مہرالنساء بھاگ کر nap لیتی انا کو اُٹھا لائی جو ماہم کے ساتھ لیٹی نیند پوری کر رہی تھی-
شُکرہے خیر گُزری ۰۰۰۰ آج محترمہ میرے ساتھ بیٹھی لنچ نوشِ جان کر رہی ہیں پر مجھے تو نصرت نسیم صاحبہ کی زندگی بھرپور کتاب ختم کرنی ہے- اس کتاب میں بہت سی زندگیا ں ایسے سانس لے رہی ہیں جیسے صفحات سے نکلیں گی اور مجھے میری جوانی کے دور میں لے جاکر دم لئں گی – وہی سرائیکی ملا پٹھانوں والا ماحول ، وہی بڑے بڑے کُنبے وہی کھانے کھا بے ، مکئی بھنے ہوئے بھُٹے ، حلوے پوریاں میوے والے گڑ، لسی مکھن بڑے دل والے فیاض سے ڈیڈی جو اپنی ذات میں انجمن ہیں ۰۰۰۰ حُسن کی دیوی دیدی ، آنٹی ، بجو و پھوپھو پھر ولایت سے تازہ تازہ واپس لوٹ آنے والے خوبروانکل طرح طرح کے کھیل تماشے مگر حویلی کے اندر ، کتابیں بلکہ ہرموضوع سے جُڑی کتابیں پڑھنے کا چسکا مصنفہ محترمہ کو اُس کچھ ضابطوں اور پابندیوں والی حویلی میں وہ پڑا کہ لکھاری بن گئیں !
وہ بھی ایک خوب صورت ادب کی پہچان اور سوانح عمری بھی ایسی کہ کوہاٹ وپشاور بلکہ پورے کے پی کے ستر کی دہائی سے لے کر نوے کی دہائی تک کلچرکو جس چابکدستی اور خوب صورتی سے اپنے قلم کی زئنت بنایا ہے وہ نصرت نسیم صاحبہ ہی کر سکتی تھیں
ایک ادبی سی خوبصورت اور طُرح دار کتاب بس آج کل میں پوری پڑھ لوں گی-
کتابوں کے ساتھ ساتھ مہرالنساء ، اور میری پوتیوں نے میری زندگی میں قوسِ قزح کے رنگ بھر رکھّے ہیں- زندگی یہ رنگ بہت انوکھے اور پیارے ہیں-
قصّہ یہ دل تم بِن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں۰۰۰۰
کہنے لگی : بڑی بی بی! میں ایک سال سے بہنوں سے نہیں ملی نہ پشاور والی سے نہ کراچی والی سے جب وہ چُھٹی پر گاؤں آتی ہیں تو میں نہیں جاسکی ،اب ملیں گے-
کہا: تم نے توجانا تھا رضو پر پھر دو دن لیٹ کیوں ہوگئی ہو؟
رضو: بی بی ! میرا پلین جلدی جانے کا تھا اب میں نہیں جانا چاہتی تھی –
آپ کو سحری جو میرے ہاتھ کی پسند ہے اب روزے ختم ہوگئے ہیں تو میں جاؤں گی
میں اُس کے چہرے کی سچائی سے شرمندہ سی تھی کہ اُس کی محبت اور خلوص کو تو میں چُکا ہی نا پاؤں گی-
اس گاؤں بیٹیاں اپنے گھروں کی کماؤ پُوت ہیں- تبھی کوئی لاہور تو کوئی پشاور اور کوئی اسلام آباد۰۰۰
ان دونوں نے بھی اپنی بہترین کارکردگی اورخلوص سے سب گھر والوں کے دل میں نہ صرف جگہ بنائی لی ہے بلکہ ان کے بغیر ہم ادھورے ہیں-
رضو اور گلبدن میں عقل کی تیز تو دوسری ہے ماشااللہ قرآن پاک پورا پڑھ لیا اب دُہرائیاں ہیں –
یہ رَضُو بچڑا ابھی پہلے سیپارے پر ہے یہ اور بات کہ کئی سال تک تو قاعدہ پڑھا سب جوڑ توڑ سکھایا عالمہ نے پھر تیسواں سیپارہ پہلے پڑھایا اب پہلے سیپارے کے تیسرے رکوع تک ہے-
دانائی کی شمع بولی : بی بی صرف تیس روزے رکھے گیں یا اور بھی ۰۰۰
کہا: اسلام آباد کی پوپلزئی روزے اُنتیس یا تیس ہی ہوتے ہیں-
اس کے پانچ فٹ سات انچ کے قد کو دیکھ کر پھر اس ٹخنوں کو دیکھنے لگی کہ واقعی اس بچڑی کا عقل ہے گِٹوں میں۰۰۰۰
اچانک رضوانہ بولی! اچھے بھلے موٹے تازے تھے بہوں کَم کریندے ہَن، ہنڑ وت مرگئے ہِن۰۰۰۰
دراصل رضو بچڑا(رضوانہ جسے میں اکثر
“رضو ڈاند “اُس کی معصومیت کی وجہ سے کہتی ہوں )اپنی تھوڑی دیر پہلے والی اپنی خفت مِٹا رہی تھی-
ہوا کُچھ یوں کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب رازی خان میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ صابر( شہناز کا شوہر) کے والد صاحب فوت ہوگئے ہیں-
شہناز جو میرے دو بچوں کی نینی اور تقریباً چوبیس سال میرے ساتھ گزارے جو میری زندگی ایک خاص مقام رکھتی ہے -اپنی شادی سے دو دن پہلے اپنے گاؤں گئی ، صابر اُس کا شوہر بہت اچھا ہے ، جاب کرتاہے ، شہنازاپنے گھر میں خوش ہے ایک بیٹا ہے-
مجھے ملنے سال میں ایک یا دوبار آتی ہے –
اُس کا سسر انتقال کرگیا ، اطلاع ملنے پر کہ صابر کا والد فوت ہوگیا ہے-
دراصل اُردووالے والد کا مطلب رَضو بچڑے کو پتہ نہ تھا -جلدی سے بولی بی بی: کون فوت ہوگیا؟
جب میں نے بتایا : صابر دا پِیو(والد)تو سمجھ گئی-
اور پھر بولی : اچھے بھلے موٹے تازے تھے،بہوں کَم کریندے ( بہت کام کرتے تھے)ہنڑ وت مر گئےہِن (اب پھر مر گئے ہیں)-
اب میں کیا کروں جب رضوانہ اُردو بولتے بولتے اچانک سرائیکی پر شفٹ ہوتی ہے-
میرے وقت کا کُچھ حصّہ ان دناوت کے ٹکڑوں(بے ذہین لڑکیوں ) کے ساتھ گُزرتا ہے- ایک رضو دوسری گُلبدن!
اُس دن کہنے لگی: بڑی بی بی چورں سے ڈر لگتا ہے میں رات سب کمروں کی کھڑکیاں چیک کرتی ہوں آحمد رافو اور مہرو باجی کے کمروں کی تو خاص طور پر
کہا: اچھا کرتی ہو
رضُو ڈاند: بی بی! کھڑکیاں مضبوط ہیں وت وی او لوہے والی گَزی نہیں لگی ہوئی (مضبوط ہیں پر لوہے کی ریلنگ نہیں لگی ہوئی )
اُردو بولنے کی قطعاًپابندی نہیں ہم تو آپس میں سرائیکی بولتے ہیں یہ دونوں شایدہم لوگوں پر اپنا رُعب ڈالنے کےلئے اردو بولتی ہیں اور کُچھ انگریزی کے چھوٹے موٹے جملے بھی آتے ہیں-پر رَضو بچڑے کی اُردو جیسے ختم ہوتی ہے آرام سے سرائیکی پر شفٹ ہوجاتی ہے- میں تو مزہ لیتی ہوں- آج کل میری تین سالہ پوتی نے اپنی پیاری صورت اور باتوں سے دل بہلایا ہوا ہے-اور پھر یہ دونوں ۰۰۰۰۰
ہانی یہ اتنا پیا فراک اور یہ کیوٹ سا پرس کس نے دیا
یہ زینک چاچی میرے لئے مریکا سے لائی ہیں پھر وہ ایکدم اُسے اپنی کزن ماہی کی یاد آجاتی ہے –
دادی: ماہی مجھ سے اینگری کیوں ہے کہتی تھی
I am angry
اُسے کہیں مجھ سے اینگری نہ ہو پھر دیرتک اُس کی تصویر مریم آپی اور چاچا چاچی کی تصویریں چومتی رہتی ہے-
یہ جو زبان کا بیریر آجاتا ہے نا
میری نھنھی گُڑیوں جُڑنے نپیں دیتا
پھوپھو کے لئے شروع میں تو وہ سمجھ رہی تھی کہ کہیں دو چار دن کے لئے گئی ہے پھر ڈھیروں چیزیں لے کر آجائے گئ-
اب جب وڈیو کال پر ہوتی ہے تو کہتی ہے گھر آؤ فوراً آؤ فون سے نکل آؤ۰۰۰
مہرالنساء بھی اُداس تو ہوتی ہوگی دیس, پردیس جو پسند ہے!
میں اور ہانی اُداس ہیں۰۰۰۰
اب بھی پانچ جملوں کے بعد چھٹے جملے پر میرے ساتھ تو مُعاملہ وہی “قصّہ چار نسلوں کا”والا ہی ہے- کتاب لکھ ڈالی-
شاید میں ہی ایسی ہوں یا وہ ویسی ہے پر ہم ایسے کیوں ہیں؟؟؟
پر میں کیا کروں مجھے تو ساحر لُدھیانوی صاحب کے انمٹ بول یاد آرہے ہیں
میرے ہاتھوں میں تو بس ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
میرے ہاتھوں میں تو بس ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
ہمارا چاند بھی تم ہو ہماری روشنی تم ہو
ہمارا چین بھی تم ہو ہماری بے کلی تم ہو
بتائیں کس طرح تم کو ہماری زندگی تم ہو
بہت پیارے اور بھی سب اپنے پاس ہیں
یہ دل تم بِن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں
تصور میں کوئی بستا نہیں ہم کیا کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *