⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
چراغ اور منزل
منزل پر پہنچ کر وسیلہ بھول جانا انسانی فطرت کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ والدین، شریکِ حیات، اساتذہ اور دوست وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ ان چراغوں کو بجھنے نہ دیا جائے۔
زندگی دراصل اندھیروں اور روشنیوں کا امتزاج ہے۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ہموار اور آسان ہے، لیکن اکثر ایسا وقت بھی آتا ہے جب گھنی تاریکی میں ایک قدم آگے بڑھانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ انہی تاریکیوں میں کوئی چراغ جل اٹھتا ہے تو راستہ بھی صاف دکھائی دیتا ہے اور دل کو امید بھی ملتی ہے۔ یہی چراغ ہماری ہمت بڑھاتے ہیں، ہمیں سہارا دیتے ہیں اور ہمیں اس قابل بناتے ہیں کہ ہم منزل تک پہنچ سکیں۔
لیکن افسوس! انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ جب وہ منزل پر پہنچتا ہے تو اکثر ان چراغوں کو بھلا دیتا ہے جن کے بغیر یہ سفر ممکن ہی نہیں تھا۔
یہ چراغ کبھی والدین کی صورت میں ہوتے ہیں۔ وہ والدین جو اپنی خواہشات قربان کر کے اولاد کے خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں، جو بھوک پیاس سہہ کر بچوں کے لیے زندگی آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں، وہی چراغ ہوتے ہیں۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ جب اولاد کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہی والدین اکثر بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کو یاد رکھنے کے بجائے، لوگ انہیں بھلا دیتے ہیں۔
کبھی یہ چراغ شریکِ حیات کی شکل میں ہوتا ہے۔ غربت کے دنوں میں ایک بیوی اپنے شوہر کے ساتھ سب کچھ برداشت کرتی ہے۔ ایک وقت کا کھانا بانٹ کر کھاتی ہے، قرض کے بوجھ میں اس کا حوصلہ بنتی ہے، اور مشکل حالات میں اس کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ لیکن جب خوشحالی آتی ہے، دولت کے دروازے کھلتے ہیں تو اکثر یہی شوہر نئی خواہشات اور رشتوں کے پیچھے نکل پڑتا ہے۔ وہ چراغ جو اندھیروں میں جلتا رہا، روشنی کے دنوں میں بجھا دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ ناشکری ہی نہیں، بے وفائی کی بدترین صورت ہے۔
استاد اور بزرگ بھی ہماری زندگی کے چراغ ہیں۔ استاد ہاتھ پکڑ کر ہمیں لکھنا سکھاتے ہیں، سوچنے اور سمجھنے کے قابل بناتے ہیں۔ بزرگ نصیحت اور تجربے سے راستہ دکھاتے ہیں۔ لیکن منزل پا لینے کے بعد اکثر ہم انہیں یاد نہیں رکھتے۔ شکریہ ادا کرنے کے بجائے، ہم ان کی قربانیوں پر خاموشی اوڑھ لیتے ہیں۔
میں نے اپنی زندگی میں ایک واقعہ دیکھا جس نے مجھے گہرا سبق دیا۔ گاؤں کی مٹی میں پلنے والی ایک زمیندار لڑکی تھی، جس نے خود مشکلات جھیل کر تعلیم حاصل کی۔ وہ جب غریب بچیوں کو پڑھائی کے لیے ترستے دیکھتی تو اس کے دل میں یہ عزم جاگتا کہ اگر موقع ملا تو ضرور کسی اور کا راستہ روشن کرے گی۔ ایک دن اس نے ایک نہایت غریب بچی کو اپنا لیا۔ اس بچی کا خاندان ان پڑھ تھا، غربت نے اس کے خواب چھین لیے تھے۔ لیکن اس لڑکی نے اسے اپنی دعا اور محنت کے سہارے پڑھانا شروع کیا۔ حرف حرف لکھنا سکھایا، انگلی پکڑ کر لفظوں کی دنیا سے روشناس کرایا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر یونیورسٹی کی تعلیم کے تمام اخراجات خود کرتی چلی گئی۔ سالہا سال کی محنت رنگ لائی اور وہ غریب بچی اپنے خاندان کی پہلی لڑکی بنی جس نے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔
لیکن افسوس… منزل پر پہنچ کر وہی بچی اپنی محسنہ کو بھول گئی۔ وہ ہاتھ جس نے اس کے اندھیروں کو اجالا دیا تھا، اسی پر شکایتوں اور شکووں کے الفاظ رقم کرنے لگی۔ یہ منظر اس بات کا اعلان تھا کہ ہم میں سے اکثر لوگ کس قدر ناشکرے اور احسان فراموش ہوتے ہیں۔
یہی انسانی فطرت کا المیہ ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ شکرگزاری انسان کو چھوٹا نہیں بلکہ بڑا بناتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے لوگ ہمیشہ اپنے چراغوں کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں، شریکِ حیات کی وفاداری کو سلام پیش کرتے ہیں، اساتذہ کے نام پر فخر کرتے ہیں اور دوستوں کی قربانیوں کو دل سے مانتے ہیں۔ یہی رویہ انہیں عظیم بناتا ہے۔
قوموں کے زوال کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ جب ایک قوم ترقی کی منزل پر پہنچتی ہے اور اپنے محسنوں کو بھلا دیتی ہے تو اس کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ ادارے جب اپنے پرانے کارکنوں کی خدمات بھول جاتے ہیں تو ان کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ چراغ بجھانے کا یہ رویہ کسی فرد کو نہیں، پوری نسلوں کو اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔
اصل کامیابی یہی ہے کہ منزل پر پہنچ کر چراغ کو بجھایا نہ جائے بلکہ اس کی روشنی دوسروں کے لیے بھی باقی رکھی جائے۔ والدین کی عزت، شریکِ حیات کی وفاداری، اساتذہ کی رہنمائی اور دوستوں کی قربانی ہی وہ روشنی ہے جو نہ صرف ہمیں منزل تک پہنچاتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی راستے روشن کرتی ہے۔ یاد رکھیے! چراغ بجھانے والے وقتی روشنی پا سکتے ہیں، مگر چراغ جلانے والے ہی صدیوں تک راستے روشن رکھتے ہیں۔
