قصے مسافرت کے

قصّے مُسافرت

قسط نمبر 07

سفرِ حجاز

عذرا باجی کا فون تھا
باجی: اب کیسی ہو ؟
کہا: اللہ نے بڑا فضل کیااب بالکُل ٹھیک ہوں-
باجی: نگہت بتا رہی تھی-
قیصرہ بی بی بہت بُری طرح گری تھیں-باجی مزید کہنے لگیں ، قیصرہ! تم بھی تو موبائل دیکھتے ہوئے چل رہی تھیں بے دھیانی ہوئیں اور گر گئیں-
کہا: ہائیں یہ کس نے کہا کہ میں موبائل دیکھ رہی تھی-
باجی : نگہت ( جو دراصل فرزانہ کی انیکسی میں بمع فیملی کے رہتی ہیں ہیلپر بھی ہیں اور کئی سالوں سے گھر کی دیکھ بھال کرتی ہیں )نے بتایا
کہا:باجی ! اب روداد سُنیئے،جب آپ کے گھر سے دعوت نوشِ جان کرکے واپس کینٹ آئے تو رازی خان ابھی گاڑی کو لاک کررہا تھا مجھ سے آگے حنا (میری بہو) بمع ہانیہ (بیٹی) کے برآمدہ عبور کرکے لاؤنج سے آگے کمرے میں چلی گئی پیچھے ہانیہ کی نینی گلبدن بھی برآمدہ عبور کرکے آگے جاچکی تھی- جونہی میں اندازے سے برآمدے کی پہلی سیڑھی پر قدم اب اگلا قدم جیسے اگلی سیڑھی پر رکھنا چاہا پر جانے کیا ہوا میں تو سنبھل نہ پائی اور تڑاخ ۰۰گری اور اوندھے منہ برآمدے کے فرش پر پڑی تھی ، مجھے لگا جیسے میری بہت سی ہڈیاں تڑ تڑ ٹوٹ گئیں فوراً دل میں خیال آیا قیصرہ بی بی آپکا عمرہ (اگلے ہفتہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے جانا تھا )تو گیا۰۰۰ پھر دوسرا خیال آیا کہ ناک کی ہڈی کو دبائے رکھو لگتا ہے ورنہ ٹیڑھی ہوجائے گی تیسرا خیال تھا کہ یاداشت بھی تو چلی گئی ہوگی جیسا کہ فلموں میں دیکھا، اب نظر تیز طرار آئی واچ پر نظر پڑی جو دھماکہ دار گرنے کےSOS ایمرجینسی میسیجز مہرالنساء اور عمر کو دے چُکی تھی اب حاجی صاحب نگہت کا میاں سامنے کار پورچ میں تھا ، میں جھٹ سے اُٹھ بیٹھی ، اب حاجی صاحب محترم نے بھی بتی جَلا دی اور رازی خان جوابھی گاڑی بند کر کے اندر آرہے تھے اطلاع دی والدہ کی خبرلینے رازی میرے قریب پہنچا تو وہیں سیڑھیوں پر بیٹھی تھی اور خون کا چھوٹا سا تالاب بن چُکا تھا اور ناک سے دھوتنی کی طرں خون نکلے جا رہا تھا گویا ٹوٹی کھُل گئی ہو- وہ تو رازی خان حنا ، ہانیہ گُلبدن اور نگہت اُن کی بیٹی سب مجھے گھیرے بہتے خون پر حیرت زدہ تھے۔رازی خان نے فوراً ڈاکٹر امتیاز (میرا بھائی ) جو وہیں کینٹ میں رہتے ہیں ،ساتھ گھر تھا اطلاع کی کہ ماموں جلدی آئیں ۔ اتنے میں گھبرائی ہوئی مہرالنساء کی اسلام آباد سے حنا کو فون تھی کہ یہ ڈیرہ اسماعیل خان میں میرئ ماں کو کیا حادثہ پیش آگیا ہے – بے حد پریشان تھی ، دراصل کوئی چار گھنٹے پہلے ہی تو ڈیرہ پہنچے تھے۔ ابھی انیکسی پہنچے تھے کہ یہ حادثہ پیش آگیا ، پھر برف منگوا لی گئی ، اور برف سے خوب اسپونجنگ کرنے سے خون رُک گیا تھا صبح ای این ٹی اسپیشلیسٹ سے مشورہ کیا اور پھر اگلے دن اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گئے-
اب باجی نےجب فون کرکے طبیعت کا پو چھا اور بتایا کہ نگہت نے کہاکہ قیصرہ بی بی بھی تو کمال کرتی ہیں فون دیکھتے ہوئے چل رہی تھیں ۔
ہائیں ! باجی ! اُٹھ نہ رُنے بورے رُنے ، شکایت میں نی نہیں کی کہ چلو خیر ہے اگر لائٹ نہ جَل رہی تھی- گرنا ہی نصیب میں لکھا تھا –
پر نگہت یہ کیوں کیا، مجھے ہی موردِ الزام ہی ٹھہرا دیا ۔
باجی! میڈا ہاں سڑ گیا ہے –
ایک چوٹ کا دُکھ ۰۰۰ دوسرا الزام کا غم اتنے سالوں سے سفرِ حجاز کے منتظر مسافر کی بے تابی تو بہت تھی پر میں رَبّ تعالٰی کو یہ جتانا چاہتی تھی کہ میں بے صبر نہیں بلکہ انتظار کی شدت اپنے سے بھی مخفی رکھنا تھی- یہ سعادت مجھے عمر خاکوانی کے ساتھ نصیب ہونے جارہی تھی-
آج واپس اسلام آباد روانہ تھے میرا کڑاکے دار گِرنا پھر زیرِ بحث تھا-
رازی خان ڈرائیونگ کرتے ہوئے:امّاں!
آپ نہ اب پمپز اور ہیل والے شوز نہ پہنا کریں ۔
کہا: اچھاجی پھرکیا پہنا کروں گروں گر پارٹیز یا فنکشنز میں جانا ہو تو۰۰۰؟
رازی خان: صرف جوگرز پہنا کریں
کہا: جو حُکم پر آپ فینسی جاگرز مجھے خرید دیں ۔
رازی خان : میں حاضر
کہا : کوئی بھی اندھیرے میں ڈوبی سیڑھیوں کو قصور وار نہیں ٹھہرارہا ہے مجھے ہدایت دی جا رہی ہیں – میں اخلاقاً اندھیرے کا ذکر نہیں کر رہی تھی کہ نگہت اور حاجی صاحب کو بُرا نہ لگے -سب مجھے ہی کہ رہے تھے میں سُن رہی تھی-
دو دن بعد حجازِ مقدس کی فلائٹ تھی مدینہ کی بستی اپنے پورے تقدس سےدل کی نگری کو پُر سکون روح کوسرشار کئے تھی -قسمت کی بُلندی دیکھیئے ہوٹل اور ہمارا کمرہ ایک سٹریٹ پار تھا چند قدم ہی لینے پڑتے،میں اور عمر صحنِ مسجدِنبوی میں اپنی فولڈنگ چیئرز کھول کر بیٹھ جایا کرتے تھے، سامنے سبز گنبد اور مقامِ ادب و محبت اورعقیدت میں ڈوبے ہم دونوں ماں بیٹا اتنے خوش تھے گویا امن شانتی کا خزانہ مل گیاہو-اتنی پوتر اور نرمی سے چھُو کر گُزرنے والی تازہ دم اور شفاف ہوا ہوتی کہ جی چاہتا پوری عمر بتا دیں-ایک چیز میں نے نوٹس کی 2007میں عربی شُرطوں کا یلّہ یلّہ جتنا دل دُکھاتا تھا وہ اب کے نہیں تھا میں نے بیٹے سے کہا: عمر خاکوانی! یہ ایم بی ایس صاحب کے شاملِ حکومت ہونے سے لگتا ہے کہ عربی شُرطوں اور دوسرے عوام شائستگی بڑھ گئی ہے-اب ان کے مالز میں جائیں تو دُکاندار عربی کے ساتھ ساتھ کُچھ نہ کُچھ انگریزی بھی جانتے ہیں جس سے گاہک کا کام آسان ہوگیا ہے لیکن سب سے اچھا جو کام ہوا ہےاب یلّہ حجہ ، یلّہ حجہ ، حجہ طریق یہ سب اب نہیں ہوتا-تو لگا جیسے عربیوں کی استتھیٹک Sense اب شاہ MBS کے دور میں بڑھ گئی ہے-اب ٹرین نے مکّہ مکرمّہ کا سفر آسان کردیا ہم ماں بیٹا مدینہ منورہ سے ہی اہرام کا اہتمام کرکے نکلے تھے-میقات راستے میں تھا نیت کی نفل بھی پڑھ لیں تھیں-
مکہ مُکرمہ پہنچے ہمارا ہوٹل کلاک ٹاور میں تھا کمرے میں سامان رکھا اور حرمِ پاک کی طرف ہو لئے-میرے سامنے رَبّ تعالٰی کا کالا کوٹھا یہ ایسا کوٹھا جو پوری کائنات سمیٹے ٹھہرا ہے یہاں ہم گنہ گار دونوں کیفیتوں کا مزہ لیتے ہیں رُعبِ مالکِ جہاں بھی وہیں اور بے تکلفی سی بھی کہ یہ تو میرا اپنا اللہ کریم ہے-
بیٹا میرے لئے وہیل چیئر کا اہتمام کرنے لگا جب یہ سب ہوگیا وہیل چیئر ڈرائیور لودھراں کا طاہر تھا- اب عمر نے اجازت لی اُس نے نفل پڑھ کر اپنا عمرہ شروع کرنا تھا –
طاہر وہیل چیئر والا کے حوالے ماں کرتے وقت اُسے خاصی ہدایات دیں-عمر مطاف کی طرف روانہ ہوگیا- میں نے پہلی منزل والے طویل گول برآمدےمیں وہیل چیئر پر عمرہ کرنا تھا ، ایک عجیب سی کیفیت اور روح و بُت کی کُھد بُد نے مجھے جیسے کنفیوز کر دیا –
اوپر سبز ٹیوب لائٹ جل رہی تھی دوسری طرف اپنے پورے جاہ وجلال سے کعبتہ اللّہ تھا ، میں نفل پڑھنے کے بعد کھوئی کھوئی بیٹھی تھی- اچانک بھاری سی آواز میں طاہر بولا: امّاں طواف کی نیت کرلو اور بولو اللّہ اکبر ،اللّہ اکبر، اللّہ اکبر وَلِلّہ وللہِ الحمداور پھر ہاتھ چوم لو
میں اس اچانک کی گونج دار آواز سے چونک سی گئی یا گھبرا گئی سبز لائٹ کی طرف منہ کرکے ہاتھ کو چومنے والی تھی کہ طاہر پھر بولا: اَماں! مُنہ کعبہ کی طرف کرکے نیّت کریں ، کیونکہ میں سبز ٹیوب کی طرف منہ کرکے سلام کرنے والی تھی، پھر وہ بولا : ہاتھ چوم لیں
میں نے پوچھا : اُلٹا ہاتھ یا سیدھا ؟
وہ بولا: ماں جو مرضی آئے
بعد میں بیٹھ کر سوچا یہ وہیل چیئر ڈرائیور بھی سوچتا ہوگا کہ یہ ماں جی بھی چِٹا سِر اَٹا خوار(مطلب عقل تو چھو کر نہیں گُزری، چلی ہے عمرہ کرنے ۰۰۰۰)
پھر عمر سے کہا: عمر میں تو بالکل ہی کسی کام کی نہیں، کس منہ سے رَبّ کے پاس جاؤں گی؟اٗس نے کافی تسلی دی اور خوشی انتہاء تب ہوئی جب کمرے کی کھڑکی کھولی تو کعبتُہ اللہ کا حجرِ اسود والا کونہ میرے سامنے تھاپھر تو کعبہ رونق کعبہ کی گلیاں اور ترستے نین۰۰۰۰۰کی تشفی سی ہوئی
دل میں خوف سا ہے عمرہ قبول ہوا ہو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *